تازہ ترین  

گم شدہ امت اور رقصِ ابلیس
    |     4 months ago     |    اسلامی و سبق آموز
تاریخ گواہ رہے گی جب حالیہ دور کا سب سے بڑا قتلِ عام شام کی سرزمین پر ہوا تو اس وقت دنیا میں 1.8بلین مسلمان بستے تھے۔جب شام میں معصوم بچوں کو شہید کیاگیا تو اس وقت 60لاکھ سے زائد مسلم فوجی اپنی بیرکس میں آرام کررہے تھے ۔جس وقت شام میں خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی تو لاکھوں علماء خاموش تماشائی تھے۔تاریخ تو شائد ہمیں بھول جائے مگر اللہ ہم سے ضرور پوچھے گا جب میر ی زمین پر ظالموں نے فسادبرپا کیا تھا تو تم نے اس فساد کو ختم کرنے میں کیا حصہ ڈالا؟
اس دن نہ کسی حکمران کی کرسی اسے بچا سکے گی ،نہ کسی جنرل کا بوٹ اُسے بھاگنے میں مدد دے گا ،نہ کسی عالمِ کی سند اُس کے کام آئے گی اور نہ 1.8بلین مسلمانوں کا کوئی غدر ان کے کام آئے گا۔
( وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیاً )ً
اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں۔
احادیث نبی ؐکے مطابق جب اما م مہدی ؑ کا ظہور ہوگا تو سب سے پہلے اُ ن کو گرفتار کرنے کے لیے جو فوج آئے گی وہ مسلم حکمران کی طرف سے ہی آئے گی اور آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں دھنس جائے گی۔
آپؐ کا ارشادِ گرامی ہے کہ جب اہلِ شام تباہ برباد ہوجائے گا تو تم میں خیر باقی نہ رہے گی( سنن الترمذی : 2192باب ماجاء فی الشام)
زمانہ نبوت میں جو علاقہ شام کہلاتا تھا اس میں آج کا عراق ، شام ، اردن ، فلسطین ، اسرائیل اور مصر کا کچھ علاقہ شامل تھا ذرا ان ممالک پر نظر دوڑائیں تو پورے خطے کو خاک ،خون میں نہلا دیا گیا ہے اور بالخصوص شام اور فلسطین میں اس وقت روئے زمین پر بدترین ظلم جاری ہے آج سے 17سال قبل عالمی صلیبی جنگ جس کا آغاز افغانستان سے ہوا جس کو مسلم امّہ کے اقتدار پرست حکمرانوں ، جاہل دانشوروں ،فرقہ پرست مولویوں اور مال و دولت کی دوڑ میں الجھی عوام نے صرف دہشت گردوں اور امریکہ کی جنگ متصور کیا لیکن عالمِ کفر کا امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کا یہ سفر افغانستان تک محدود نہ رہا بلکہ عراق، لیبا ، تیونس ، مصر ، یمن ،فلسطین اور سوڈان سے ہوتا ہوا آج شام میں رقصِ ابلیس جاری ہے دوسری طرف مسلمان بے بسی کی تصویر بنے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
یہی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے مسلمان کبھی بھی ایک دوسرے کی مدد کو نہ پہنچ سکیں گے جب تک ایک جھنڈے تلے بحیثیت اُمّت اکٹھے نہ ہو جائیں لیکن اُمّت بننے میں اقتدارپر ست حکمران، وطنیت کے بت ، فرقہ ورانہ سوچ ، رنگ و نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔اخلاقی دیوالیہ پن کی شکار اُمّت مسلمہ آج محمد عربیؐکے لائے ہوئے نسخہ کیمیاء کوبھول چکی ہے۔ عربی ،عجمی کی تفریق اتنی گہر ی ہوچکی ہے کہ جسدِ واحد کا تصور بھی ختم ہوگیا ہے۔حالات اِ س حد تک دگرگوں اور سوچ اِس قدر پست ہوچکی ہے کہ آج کے دور میں اگر مہدی ؑ کا ظہور ہوبھی تو سب سے پہلے موجودہ حکمران امام مہدیؑ کے مقابلے میں آجائیں گے۔
شام میں 19فروری 218ء کو 127شہری شہید ہوئے جس میں 39بچے شامل تھے 20فروری2018ء کو شام کے علاقہ مشرقی غوطہ میں حکومتی فورسزکی بمباری سے 57بچوں سمیت 194سے زائد افراد شہید اور 300سے زائد زخمی تھے لیکن پھر بھی میڈیا نے نوٹس نہ لیا۔شام میں 2013ء کے کیمیکل حملے کے بعدمشرقی غوطہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں شامی فوج نے 48گھنٹوں کے دوران اِن رہائشی علاقوں میں 20تا30شیل داغے تھے۔فروری سے شروع ہونے والی بمباری میں اب تک شہیدوں کی تعداد 600سے تجاوز کرگئی ہے جن میں 180سے زائد بچے شامل ہیں اور زخمیوں کی تعداد 2000کے لگ بھگ ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی لاشیں اور معصوم بچوں کے ٹوٹے پھوٹے ڈھانچے وہاں کی قیامت خیز کیفیت کا فقط ایک چھوٹا سا عکس ہے۔
شام میں جاری اِس رقصِ ابلیس کا کوئی پہلو تو شائد راقم بیان کرسکے لیکن اِس قیامت خیز بھیانک صورتِ حال کا احاطہ االفاظوں میں ممکن ہی نہیں ہے سوشل میڈیا پر ایک بوڑھے شامی کی ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں اپنے تباہ شدہ گھر کے آگے کھڑاہوکر ’’اُمّتِ محمدؐ‘‘’’اُمّتِ محمدؐ‘‘پکار رہا ہے اِس کے آنسوگردوغبار سے خشک ہیں آواز اندھی ہوئی ہے کبھی کھانسنے لگتا ہے کبھی گلہ پکڑ لیتا ہے پھر بھی وہ جستجومیں لگا ہے کہ شائد گم شدہ اُمّت محمد ؐاِس کی آواز سُن لے ایک دوسری ویڈیو میں ایک شامی کوئلہ بنے ہوئے اپنے شیر خوار بچے کو آگ کی لپیٹ سے بچانا چاہتا ہے لیکن خود آگ کا شکار ہورہا ہے۔ بہت سی دل دہلا دینے والی تصاویر کے درمیان ایک تصویر میں ایک شامی شہری و حشیانہ بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے اپنے بچے کی لاش سے لپٹا ہوا ہے اُسے الوداع کہہ رہا ہے اِس کا بچہ شہید ہونے والے دوسرے بچوں کے درمیان موجود ہے اپنے بچے کے لاشے سے لپٹے ہوئے شخص کی آہ و پکار پتھر دلوں بھی موم کرہی ہے۔
حدیث پاک پرہر مسلمان کی طرح میرا بھی ایمان ہے جونبی پاک ؐ نے فرمایا وہ ہوکر رہے گا۔شام ختم ہونے سے مرادخیر کا ختم ہونا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم سب ایک بھیانک دور سے گزررہے ہیں جس میں ایک طرف مسلمانوں کو کاٹا جارہا ہے اور دوسری طرف مسلمان سری دیوی کی موت کی بریکنگ نیوز چلانے میں تاحا ل مصروف ہیں اور ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان کا میڈیا شام کے مسلمانوں پرٹوٹی قیامت سے بے خبر ہے اللہ پاک ہمارے مال پر رحم فرمائے۔ آمین
والسلام:
غلام مصطفےٰ حاذق
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved