تازہ ترین  

سماج دوست ،رومانوی شاعر سید فرحت عباس شاہ
    |     4 months ago     |    گوشہ ادب
عصرِ حاضر کے اخلاقی انحطاط اور دیمک زدہ معاشرہ کی فکری،فنی اور اخلاقی آبیاری اپنے لہو سے کرنے والا مضبوط اعصاب کا مالک شخص شاعرِ حق پرست کے سواکوئی اور نہیں ہوتا۔جو سیاسی بصارت،اخلاقی سماعت،سماجی احساس، فکر اور استنباط کے جملہ مراحل میں مصلحت کوشی،مصلحت پسندی ،منافقت اور دوہرے معیار سے کہیں بھی اور کبھی بھی کام نہیں لیتا۔وہ صدائے منصور کا عملی نمونہ اور کلمہ حق جابروں کے سامنے بلند کرنے کو مقصدِ حیات خیال کرتا ہے۔شاعر ایسا سماجی جراح ہوتا ہے جو خوبصورت لفظوں،مصرعوں،شعروں،نظموں اور غزلوں کے نشتر سے معاشرہ کی ایسی جراحی کرتا ہے کہ لاعلاج معاشرتی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ باہر پھینکتا ہے۔وہ ایک مثالی معاشرہ کی نہ صرف خشتِ اول رکھتا ہے بلکہ ایک عظیم الشان محل کی تعمیر کی سعی کامل بھی کرتا ہے۔زمانہ حاضر اس بات کا یقیناًشاہد ہے کہ سید فرحت عباس شاہ جملہ اوصاف کے حامل وہ شاعر ہیں جنہیں مخالفین کا حسد اور دشنام طرازیاں حق بات کہنے سے روک سکے اور نہ ہی شاہ،شاہوں کے حواری شہنشاہوں کے قصیدے لکھنے پر مجبور کر سکے۔شاہ جی نے زمانہ کی مخالفت کے باوجود ہمیشہ طوفانوں میں بھی چراغِ صداقت جلانے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ بھر پور جدوجہد کی اور کرتے رہتے ہیں۔خدا انہیں ایسا کرنے کی ہمت و جرٗات عطا فرمائے۔
شام کے بعد اندھیرا ہونا فطری عمل و قدرتی امر ہوتا ہے تاہم شاہ جی نے ’‘شام کے بعد‘‘ لکھ کر آسمانِ ادب میں یہ ثابت کر دیا کہ قوتِ ارادی کو عزمِ صمیم کا عملی پیراہن پہنا دیا جائے تو انسان شبِ سویدا کو بھی قرطاسِ ابیض کی طرح سفیدی مائل بنانے میں قدرت رکھ سکتا ہے۔بلا شبہ ’’شام کے بعد ‘‘ادبی مسافروں کے لئے مینارہ نور ثابت ہوا ،شاہ جی شام کے بعد سستانے یا استراحت فرمانے کے لئے تب رکے یا انہیں تب سکون محسوس ہوا جب ان کی ستر تصانیف قارئین کی ادبی تشنگی میں افاقہ کا باعث بنیں۔جن میں چھیالیس شاہ جی کے مجموعہ کلام ہیں یا جب لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ فرحت عباس نے شاعری کا سیل میلہ لگایا ہوا ہے۔تاہم زمانہ کی پرواہ کئے بنا شاہ جی نے اپنا ادبی سفر جاری رکھا یہ سوچتے ہوئے کہ
اسی سے جان گیا میں کہ بخت ڈھلنے لگے
میں تھک کے چھاؤں میں بیٹھا تو پیڑ چلنے لگے
شاہ جی کا کہنا ہے کہ شعر کا پیار جھنگ کے دیسی گھی اور مکھن کی طرح خالص ہوتا ہے۔جس میں شاعر کو بغیر لالچ،حرصِ دولت،سرمایہ کاری اور عہدہ کے صرف اور صرف پیار ہی پیار ملتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے پہلے مجموعے’’شام کے بعد‘‘ کے دو سو سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ،یہ قارئین کا پیار نہیں ہے تو اور کیا ہے۔؟
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
لوٹ آئے نہ کسی روز وہ آوارہ مزاج
کھول رکھتے ہیں اسی آس پہ در شام کے بعد
شاہ جی کے شعر لکھنے کا انداز بھی اتنا ہی سہل اور سادہ ہے جتنا کہ کہنے کا۔وہ معاشرتی رویوں،ناہمواریوں،ظلم و استبداد،معاشرتی عدم مساوات سے لیکر لب و رخسار،خم و کاکل،بلبل و طاؤس سے واقعہ کرب و بلا کو ایسی سادگی سے بیان کر جاتے ہیں کہ قارئین کو نہ صرف سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی ہے۔بلکہ وہ یوں خیال کرتا ہے کہ شائد وہ اسی زمانہ کا کوئی جیتا جاگتا کردار ہے جس کے بارے میں شاہ جی شاعری فرما رہے ہیں جیسے کہ۔
اک سجدہ سے تبدیل کیا شاہ نے منظر
تب موت نے اندازہ لگایا کہ خدا ہے
ہے آج تلک زندہ و جاوید شہادت
تم اب تو سمجھ جاؤ خدا یا کہ خدا ہے
فرحت عباس شاہ حساس شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی کارکن بھی ہیں جن کے سینے میں دھڑکنے والے دل سے محض ایک ہی صدا بلند ہوتی ہے کہ سماج،سماجی رویے ،انسان ، ہائے انسانیت اور انسان کی غربت کو کسی طور قرار و سکون میسر آجائے۔شاہ جی سماج سدھار کے لئے لفظوں کو شعری پہناوا ہی نہیں پہناتے بلکہ عملی طور پر ان مین تبدیلی اور بہتری کے لئے انہوں نے ’’فرض فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے ایک ایسا ادارہ بنا رکھا ہے جس کا مقصد turning charity into prosperity اور to sustain others ہے گویا انہوں نے ایک لحاظ سے معاشیات کی تعریف کو ہی بدل کے رکھ دیا کہ معاشیات لفظوں کا گورھ دھندہ نہیں بلکہ کسی کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنے کا نام معاشیات ہے خصوصاً ان لوگوں کو جن کے پاس وسائل کی کمیابی ہوتی ہے۔اس لئے فاؤنڈیشن کے تحت غرباء کو زکوۃ فنڈ سے کاروبار کرایا جاتا ہے یا پھر قرضِ حسنہ دے کر چھوٹے پیمانے پر کاروبار کروا کے غرباٗ کو اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونے کی ترغیب اور مدد کی جاتی ہے۔اور ان کے اندر جنم لینے والے احساس کمتری کو ختم کر کے ، کچھ کرنے کا عزمِ صمیم ،حوصلہ،اور ہمت پیدا کرنا فاؤنڈیشن کا فلسفہ ہے جس میں کافی حد تک شاہ جی کامیاب بھی ہوئے ہیں۔اللہ ان کے اس نیک مقصد میں مزید برکتیں نازل فرمائے۔آمین۔تاکہ یہ لوگ اپنی تقدیر خود بدلنے کا عملی نمونہ بن سکیں ،شاہ جی اس سوچ کو لفظوں کے خیال میں اس طرح باندھتے ہیں کہ۔
یہ تو وقت کے بس میں ہے کتنی مہلت دے
ورنہ بخت ڈھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved