تازہ ترین  

یار غار و مزار سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
    |     3 months ago     |    اسلامی و سبق آموز


آپ ﷺ نے اپنے بچپن و لڑکپن کے چالیس سال بے مثل و مثال اور بے داغ بسر کیے اس دوران اپنے بیگانے سبھی آپﷺ کے معترف نظر آئے۔آپﷺ کی ذات پر سب کو آنکھیں بند کر کے اعتماد تھا۔مکہ کی جہالت میں آپﷺ کے کردار کی نورانیت سے ہر فرد متاثر تھا۔مگر آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اور تین سو ساٹھ کی بجائے ایک خدا کی پر ستش کی دعوت دی تو سب دوست سے دشمن بن گئے اپنے بھی بیگانوں کی صفوں میں نظرآئے۔ہر وقت تعریفوں کے پُل باندھنے والے گالیاں دینا شروع ہو گئیآپ ﷺ کی ولادت کی خوشی میں لونڈی آزاد کرنے والا سگا چچا سب سے پہلے آپ ﷺپر پتھر برساتا نظر آیا۔یہ آپ ﷺ کے لئے سخت پریشانی کا عالم تھا ۔اس دوران سیدنا صدیق اکبر ؓ بیرون ملک تجارت سے مکہ تشریف لے آئے۔لوگوں نے صورت حال بتائی تو بغیرمعجزہ و دلیل طلب کئے آپ ﷺ پر ایمان لے آئے یوں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی سعادت سے شرف یاب ہوئے ۔سیدنا صدیق اکبر ؓ جسے انسان کا اسلام قبول کرنا نہایت اہمیت کا حامل تھا ۔آپ مکہ کے اس بگڑے ہوئے معاشرے کے سلجھے ہوئے فرد تھے۔آپ کواس وقت کا چیف جسٹس بھی کہا جاسکتا ہے۔شراب نوشی ،جوا، چوری اور قتل غارت گری جو اس معاشرے کا اہم ترین جزو تھاان تمام افعال سے آپ ؓکوسوں دور تھے۔آپؓ اسلام سے پہلے بھی نہایت غیور حلیم مدبر اور شریف النفس انسان تھے ۔آپ ؓ ایک کامیاب ترین تاجر بھی تھے ۔قبول اسلام کے بعد اپنی ذمہ داری معلوم کی تورسول اللہ ﷺ نے دعوت الی اللہ کا مقصد سونپا۔آپ ؓ کی دعوت پر مکہ کے مشہور تاجر اوردولتمند سیدنا عثمان ؓ مشرف با اسلام ہوئے۔یار غار و مزار سیدنا صدیق اکبرؓتمام عمر رسول اللہ ﷺ کے سفر حضر میں رفیق رہے۔جب مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر رسول اللہ ﷺ نے ہجرت فرمائی تو سیدنا صدیق اکبر ؓ شب ہجرت بھی رفیق سفر تھے۔جان ہتھیلی پر رکھ کر ہجرت فرمائی اور غار ثور میں پناہ لی۔سخت نوک دار پتھر اور پہاڑکی بلندی پر جانے کے لئے مشکل ترین راستہ تھکن سے چور بند بھی صدیق اکبرؓ کے عشق کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔آپ ؓ یار نبوت کو اٹھائے غار ثور میں جا پہنچے ۔(یاد رہے کہ اب اس پہاڑ کو تراش کر سیڑھیاں بنادی گئی ہیںمگر اب بھی وہاں تک جاتے ہوئے کڑیل نوجوان بھی تھک کر بیٹھ جاتے ہیں)۔اور انتہاء عشق کہ اپنی چادر پھاڑ کر غار کے تمام سوراخ بند کر دئیے ایک سوراخ پر اپنی ایڑھی رکھ کر محبوب خدا ﷺ کو آرام فرمانے کے لئے لٹا دیا۔سانپ نے صدیق اکبر ؓ کی ایڑھی پر ڈس لیامگرایڑھی نہ ہٹائی ۔جب تکلیف کی شدت سے آنسوچہرہ رسولﷺپر گرے تو رسول اللہﷺ نے اپنے یار کی خبر لی ۔لعاب دہن کے اثر سے تمام تکلیف زائل ہو گئی اور صدیق اکبر ؓ کی ایڑھی بلکل ٹھیک ہو گئی ۔یہ رات اک ایسی رات تھی کہ جسے سیدنا فاروق اعظم ؓ اپنی تمام عمر کی عبادت کے بدلے سیدنا صدیق اکبر ؓ سے مانگا کرتے تھے۔ایک مو قعہ پر کفار نے آپ ﷺ کو برا بھلا کہا سیدنا صدیق اکبر ؓوہا ں پہنچے اور اپنے محبوبﷺ کی توہین برداشت نہ ر سکے وہا ں محبوب خدا کو خراج عقیدت پیش کیا کفار آپ ﷺ کے موقف کی تائید اور تعریف رسول سن کر بھڑک اٹھے انہوں سیدنا صدیق اکبر ؓ کو اتنا ماراکہ آپؓ بہوش ہو گئے ۔ جب آپ ؓ کو ہوش آیا تو سب سے پہلے زبان پر آنے والا جملہ آپنے محبوب کی خیریت دریافت کرنے والا تھاآپ ؓ کو بتایا کہ محبوب خدا بلکل ٹھیک ہے مگر عشق کی تڑپ نے جب تک دیدار نہ کر لیا تب تک ایک گھونٹ حلق کے نیچے نہ اتارنے دیا۔آپ ؓ رسول ﷺ کو اس قدر محبوب رکھتے تھے کہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں زرا سی توہین بھی برداشت نہ کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ ؓکے بوڑھے اور نابینا باپ(جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)نے شان اقدس میں نازیبا کلمات کہہ دیے تو صدیق اکبر ؓ نے اپنے باپ کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا بات حضور ﷺ تک پہنیچی آپﷺ نے سیدیا صدیق اکبر ؓسے دریافت فرمایا تو سیدنا صدیق اکبر ؓ نے عرض کیا یا رسول ﷺ اگر میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو سر قلم کر دیتا ۔یہ سیدنا صدیق اکبر ؓ کا عشق رسول تھا کہ سگے باپ سے بھی توہین رسول برداشت نہیں ۔تمام عمر رسول ﷺ پو دل و جان سے نثار ہے اور اسلام کی سر بلندی کے لئے اپنا مال و دولت لٹاتے رہے مگر ایک موقعے پر اپنے گھر کا سارا سامان لا کر رکھ دیااور گھر میں خداور اس کے رسول کی محبت چھوڑ آنے کا اعلان فرمایا ایک مو قعے پر اپنے کپڑے تک پیش کر دیے اور خود ٹاٹ کا لباس پہن لیا۔یہ ادا خدا کو اس قدر پسند آئی کہ جبرائیل علیہ سلام کو ٹاٹ کا لباس زیب تن کرواکر صدیق اکبر ؓ کو سلام بھیجا اور پوچھا کہ کیا صدیق اکبر ؓ اس حٓل میں بھی مجھ سے راضی ہے؟
رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے تمام انسانو ں کے احسانو ں کا بدلہ چکا دیا ہے سوائے صدیق اکبر ؓ کے اور بروز حشر جب تمام انسان اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہونگے سورج سوا نیچے پر ہو گا تو حضور ﷺ اللہ تعالیٰ سے حساب شروع کرنے کی استدعا کریں گے۔اللہ پاک جلال میںآجائے گے اور پوچھے گے لہ کون ہے جو مجھے حساب دے سکے تو حضور ﷺ سیدنا صدیق اکبر ؓ کا ہاتھ پکڑ کر بارگا خدامیںحاضر کر دیں گے اللہ تعالیٰ کا غصہ رحمت میں تبدیل ہو جائے گا اور فرمائے گے کہ اے میرے محبوب جس نے تمام عمر آپ سیحساب نہ کیا میں خدا اس سے کیا حساب لو ۔سیدنا صدیق اکبر ؓ اپنے محبوب کے پہلومیں آج بھی مدفون ہیں اور یہ رفاقت تمام عمر کی رفاقت کا خوب پتا دیتی ہے۔

Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved