تازہ ترین  

آنکھیں
    |     3 months ago     |    شاعری
لمحہ لمحہ سوچنے والی آنکھیں تھیں
اسکی آنکھیں دیکھنے والی آنکھیں تھیں 

کئی دنوں سے انکو ڈھونڈ رہی ہوں میں
وہ جو مجھکو ڈھونڈنے والی آنکھیں تھیں 

اسکو بھولوں بھی تو کیسے بھولوں میں
ہنستے ہنستے رونے والی آنکھیں تھیں 

ادھر ادھر کب دیکھنے دیتی تھیں مجھکو
ہر پل مجھ کو ٹوکنے والی آنکھیں تھیں 

مجھکو خود سے دور نہ جانے دیتی تھیں
میرا رستہ روکنے والی آنکھیں تھیں 

اپنے آپ میں ایک پہیلی تھی سعدی
اور پہیلی بوجھنے والی آنکھیں تھیں 
...............
سعدیہ صفدر سعدی
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved