تازہ ترین  

قیادت کا فقدان ایم کیو ایم کی شکست کا باعث
    |     6 months ago     |    کالم / بلاگ
 


سینٹ الیکشن نہ ہوتا دیکھنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی گذشتہ ۳ مارچ کو ملک بھر کی چاروں صو بائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں سینٹ الیکشن ہوئے جس میں مسلم لیگ ن کے آزاد حثیت سے لڑنے والے ارکین نے کامیابی حاصل کر کے پہلی اور پیپلز پارٹی نے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ تحریک انصاف کو تیسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے سینٹ الیکشن کا سب سے بڑا اپ سیٹ سندھ میں ہوا جہاں ایم کیو ایم کا ۳۵ سالہ منظم ووٹ بینک با آسانی لوٹ گیا جس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ خود ایم کیوایم کے اپنے ہی محافظ تھے متحدہ جو گذشتہ کئی عرصے سے سینٹ میں اپنی نشستوں کی وجہ سے ایوان میں اہمیت رکھتی آئی ہے آج وہ اہمیت اختتام پذیر ہوگئی ہے پانچ میں سے ایک نشست حاصل کی گئی جو متحدہ اور اس سے منسلک کراچی کے عوام کا بہت بڑا نقصان ہے قیادت کی دوڑ نے متحدہ کو کئی دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے یہ تقسیم ایک دن طے تھی بہت سے لوگ اس تقسیم کو کراچی آپریشن سے جوڑتے ہیں جب کہ ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہے ایم کیو ایم وہ واحدجماعت ہے جس کے خلاف تین بار فوجی آپریشن کیا گیا مگر اس جماعت کا ووٹر اس سے منسلک رہا جس کی وجہ ڈر خوف ہوسکتا ہے مگر کراچی کی ایک بڑی تعداد کا ایم کیو ایم سے رومانس قائم رہا ہے جو آج بھی اپنی جگہ قائم ہے بلکہ موجود حالات میں جس سے طرح سے ایم کیو ایم کو تقسیم کیا جارہا ہے ایم کیو ایم سے منسلک نظریاتی لوگ آج بھی بانی متحدہ کی کمی کو پہلے سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں کیوں کہ اگر بانی ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف نا زیبا زبان کاا ستعمال نہ کرتے تو یقینن ان کو پاکستان کی سیاست میں واپسی کا موقع فراہم کیا جاتا مگر پاکستان کے خلاف نا زیبا زبان نے ان کے سیاسی سفر کا خاتمہ کر دیا جس سے بڑی تعداد میں کراچی میں بسنے والے اُردو بولنے والوں کو اس وقت مشکلات کا سامنا ہے بد قسمتی سے ہماری سیاست ہو یا مذہبی وابستگی ہو ان دونوں کا تعلق زبان قومیت اور فر قوں سے جوڑا ہوا ہے سندھی بلوچی پنجابی پٹھان ہر کوئی قومیت کی بنیاد پر جماعتوں سے منسلک ہے ایسی طرح کراچی میں اکثریت کی بنیاد پراُردو بولنے والوں کی واحد جماعت ایم کیوایم ہے جو آج قیادت سے محروم ہے اس جماعت کی بنیاد پر سیاسی کیرئیر بنانے والے آج اپنی اپنی ڈیرھ اینٹ کی مسجد بنا کر مہاجروں کو مزید تقسیم کی جانب دھکیل رہے ہیں محترم مصطفی کمال جو مہاجروں کے درد کا بڑا دعوی کرتے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کراچی کے عوام کو منظم نہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں سینٹ الیکشن میں ایم کیو ایم کو چھوڑ کر ان کو جوائن کرنے والے آٹھ MPA نے فنگشنل لیگ کو سپورٹ کر کہ یہ ثابت کر دیا کہ کمال صاحب بھی بانی متحدہ کی طرح مہاجروں کے نمائیندوں کی خریدوں فروخت کا حصہ ہیں ان کو کراچی کے عوام سے صرف کراچی کا اقتدار حاصل کرنا ہے اگر ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو کراچی کی عوام کی خاطر منظم رکھا جاتا اور یہ آٹھ MPA تمام تر اختلافات سے ہٹ کر مہاجروں کے نمائیندوں کو سپورٹ کرتے تو شاید ایم کیوایم دو سیٹ نکلنے میں کامیاب ہوجاتی مگر ذاتی انا کی خاطر ایسا نہ کیا گیا جس کا نقصان کراچی کے عوام کاور ان کے مسائل کو ہو گا اس وقت ضروری ہے کہ ایم کیو ایم کی تمام شاخیں سینٹ کی
شکست سے سبق سیکھا ئیں اور آپسی اختلافات کا کراچی کی عوام اور ان کی بہتری اور خوشحالی کے لئے اقتدار کی جنگ کا خاتمہ کریں کراچی شہر جو گذشتہ دس سال سے مسائل کا شکار ہے پیپلز پارٹی جس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ترقیاتی کاموں کے نام پر پورے شہر کو کھود دیا گیا ہے ایم کیو ایم جو کراچی آپریشن کے خوف سے جائز مسائل کے حل پر بھی آواز اُٹھانے سے ڈر کا شکار ہے سینٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی کی کامیابی نے ایم کیو ایم کے دھڑوں کو سوچنے اور آپسی اختلافات کہ خاتمہ کا ایک موقع فراہم کیا ہے تین ماہ بعد عام انتخابات کا بگل بجے گا اگر ایم کیو ایم کے دھڑوں کی تقسیم کا خاتمہ اب بھی نہ ہوا تو کراچی کے عوام کے مسائل شاید اب بھی حل کی جانب گامزن نہ ہوسکے گے سینٹ کی شکست کی طرح عام انتخابات میں بھی کیسی کے ہاتھ میں کوئی سیٹ نہ آئے گی بلکہ ایم کیو ایم کے تمام تر دھڑوں کا سیاسی سفر اختتام پذیر ہوجائے گا وقت کی ضرورت ہے کہ فاروق ستار ذاتی افراد کی خوشنودی حاصل کرنے کے بجائے اپنے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایم کیو ایم کی کشتی کو ڈوبنے سے بچھائیں اور دوسری جانب عامر خان گروپ بھی فاروق ستار جنھوں نے ۲۲ اگست کو ایم کیو ایم کو نئی زندگی بخشی تھی ان کی قیادت میں کراچی کے عوام کی خوشحالی اور اس شہر کے امن کو مستقل بنیادوں پر قائم رکھنے کے لئے مل کر جدوجہد کریں تاکہ کراچی میں اکثریت سے بسنے والے اُردو بولنے والوں کو بہترین قیادت نصیب ہوسکے ایم کیو ایم پاکستان کراچی میں بسنے والوں کی اشد ضرورت ہے جس کو قائم رکھنا ایم کیو ایم کے تمام تر دھڑوں کی اولین ذمہ داری ہے
Back to Conversion Tool

Urdu Home





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved