تازہ ترین  

خلافت صدیقی رضی اللہ عنہ کے کارنامے!
    |     9 months ago     |    اسلامی و سبق آموز
اول المومنین اصدق الصادقین امام المتقین خلیفہ بلافصل جانشین پیغمبر سسر پیغمبر سیدنا ابوبکرصدیقؓ کی دور خلافت مسلمانوں کے لئے جتنا اہم تھا اس کہیں بڑھ کر مشکل بھی تھا، آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسلمانوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا-
مسلمان ایک طرف سانحہ ارتحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بےحال تھے، تو دوسری طرف کئی فتنوں نے بھی سر اٹھانا شروع کیا،اس موقع کو غنیمت جان کر کسی نے ارتداد کی راہ اختیار کی تو کوئی نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا، کسی نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو کوئی بغاوت کرکے جنگ وجدل پر اتر آیا، کسی نے نومسلموں کے ایمان خراب کرنے کی ٹھان لی تو کوئی کمزور ایمان مسلمانوں کو غلط پروپیگنڈوں کے زریعے ایمان سے منحرف کرنے پر مجبور کرنے لگا-
اس وقت اگر ان تمام فتنوں پر قابو نہ لیا جاتا تو بہت جلد ہی کفار و مشرکین مسلمانوں کو ٹولیوں اور فرقوں میں بٹ کر اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوجاتے اور مسلمانوں پر غالب آجاتے- مگر قربان جائیے اس حق و صداقت کے علمبردار رضی اللہ عنہ پر جس نے اپنے بہترین خلافت اور لاثانی فہم و فراست کے زریعے نہ صرف ان فتنوں پر قابو نہیں پایا بلکہ اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے بینظیر کارہائے نمایاں انجام دئیے اور بائیس لاکھ مربع میل پر اسلام کا جھنڈا لہرایا-
سول ؐ خدا کے وفات پا جانے کے بعد بنو تمیم میں سے بعض لوگ اسلام سے منحرف ہو گئے اس اثناء میں بنو ثعلب میں سے جو کہ بنو تمیم کی ایک شاخ تھی، سجاح بنت حارث نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ سجاح نے اپنے پیروکاروں کے لئے نمازِ پنجگانہ تو لازمی رکھی لیکن بعض فحاشی اور ناجائز باتوں کو جائز قرار دیا۔ بنو تمیم کی شاخ ہربوع کے لوگ اپنے سردار مالک بن نویرہ کے ساتھ سجاح کے ساتھ مل گئے مگر بنو تمیم کے کچھ لوگوں نے نہ صرف اس کی نبوت کو تسلیم نہ کیا بلکہ یہاں تک ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا کہ وہ یہاں سے یمامہ بھاگنے پر مجبور ہوگئی۔ یہاں اس نے مسلیمہ کذاب سے شادی کر لی مگر دونوں ناکام و نامراد رہے۔ جب مالک بن نویرہ اکیلا رہ گیا تو اس نے فوج کو منتشر ہونے کا حکم دیا اور خود خالد بن ولیدؓ کے سامنے پیش ہو گیا۔ خالدؓ بن ولید نے مالک بن نویرہ کو قتل کروا دیا۔
یمامہ کا ایک وفد حضور اکرمؐ کی زندگی میں ہی حاضر ہوا تھا اور اسلام قبول کیا تھا۔ اس وفد میں ایک شخص مسلیمہ بھی تھا۔ اس نے رسول ؐ خدا سے عرض کیا کہ میں اس شرط پر اسلام قبول کروں گا کہ آپ ؐ اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ بنائیں، مگر یہ یہاں سے ناکام لوٹا۔ حضور کی بیماری کے ایام میں مسلیمہ بہت زور پکڑ گیا اور اس کے قبیلے کے لوگ قبائلی تعصب میں اندھے ہو کر اس کے گرد جمع ہو گئے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے عکرمہؓ بن ابی جہل کو اس کی سرکوبی کے لئے بھیجا اور ہدایات دیں کہ شرجیل بن حسنہ کی کمک کا انتظار کیا جائے مگر عکرمہ نے جوش میں جلد بازی کی اور حزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے خالدؓ بن ولید کو بھیجا جنہوں نے ایک جونریز جنگ کے بعد مسلیمہ کو شکست دی اور وہ وحشی بن کر حرب کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اسود عنسی کی جماعت میں خود بخود اختلافات پیدا ہو گیا اور وہ اپنے ساتھی قیس کے ہوتھوں نشہ کی حالت میں مارا گیا۔ غرض چند دنوں میں نبوت کے تمام جھوٹے دعویداروں کا خاتمہ ہوا اور امت نے ایک بڑے عذاب سے نجات پائی۔
ایک فتنہ انکارِ زکوٰۃ بھی تھا، بعض قبائل جو نومسلم تھے انہوں نے باقی تمام ارکان اسلام کو مانتے ہوئے زکوۃ کا انکار کر دیا، انہوں نے اس مقصد کے لئے مدینہ وفد بھیج کر خلیفۃالمسلمین سے مطالبہ بھی کیا کہ ان سے زکوۃ نہ لی جائے۔ آپؓ نے صحابہؓ سے مشورہ کیااکثر صحابہؓ کی رائے یہ تھی کہ فی الحاظ ان سے تعرض نہ کیا جائے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے بھی ان سے نرمی برتنے کا مشورہ دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! اگر یہ لوگ حضورؐ کے زمانے میں اونٹ کے ساتھ زکوۃ کے ساتھ رسی بھی دیتے تھے اور آج صرف رسی سے انکار کریں تو میں ان کے خلاف جہاد کروں گا۔ آپؓ نے یہ الفاظ نہایت ہی جوش اور ولولے کے ساتھ ادا فرمائے، حضرت عمرؓ نے آپؓ کی یہ باتین سن کر فریاما: ’’یہ کلام سن کر میں نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکرؓ کے سینے کو جہاد کے لئے کھول دیا ہے۔ جب لشکرِ اسامہ واپس آ گیا تو آپؓ انہیں مدینہ میں اپنا قائم مقام بنا کر عبس اور زیبان قبیلے کے مقابلے کے لئے روانہ ہو گئے اور ان قبائل کو شکست دے کر ان کی چراگاہیں مسلمان مجاہدین کے گھوڑوں کے لئے وقف کر دیں اور خود مدینہ میں واپس تشریف لے آئے۔ اس کاروائی کے بعد منکرینِ زکوٰۃ نے خود مدینہ حاضر ہو کر زکوٰۃ کی رقم بیت المال میں جمع کروائی‘‘۔
اس آزمائش کے دور میں صدیقِ اکبرؓ نے لشکروں کی تیاری، سپہ سالاروں کے صحیح انتخاب اور موزوں تر عمل و ہدایات جاری کرنے میں لاثانی مہم و فراست، تدبرودوراندیشی کا مظاہرہ کیا یہی وجہ ہے کہ بدترین دشمنانِ اسلام یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ ’’اگرچہ صدیقِ اکبرؓ کا دور مختصر ہے مگر آنحضرتؐ کے دین کی سربلندی آپ ہی کے کے مرہونِ احسان ہے۔ آپؓ نے نوزائیدہ اسلام کو ختم ہونے سے بچا لیا‘‘۔
جس عظیم و لاثانی کارنامے کو دنیاوی حکمران برسوں میں انجام نہین دے سکتے ، صدیق اکبرؓ نے نصرت ربانی سے اپنے چند مہینہوں میں پورا کردیا۔ کمزور ایمان والوں کی تطہیر قلب و نظر کی اور ان کے دلوں میں ایمان راسخ کیا اور اسلام کیا رفیع الشان عمارت کو غیر متنزل چٹان پر استوار کیا۔ جو لوگ ایمان کی کمزوری کے باعث اور پنے عقائد کو درست ثابت کرنے کی غرض سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی ذات و شخصیت پر بے جا سوالات اٹھاتے ہیں انہیں وسیع النظری سے کام لیتے ہوئے صرف ایک بار تاریخ اسلامی میں رقم تمام حقائق و شواہد کی روشنی میں صدیق اکبرؓ کی اسلامی خدمات و قربانیوں کا جائزہ لینا چاہئے۔ میرا بلکہ میرے ساتھ ساتھ تمام حقیقی مومنین کا یہ دعویٰ ہے کہ آپؓ پر انگی اٹھانے کی بجائے آپؓ کے ناموس پر انگلی اٹھانے والوں کے خلاف قلم بصورتِ تلوار اٹھاتے ہوئے نظرآئیں گے-





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved