تازہ ترین  

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
    |     6 months ago     |    گوشہ ادب
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری ، ہمیشہ ہی منفرد پروگرام پیش کرنے میں پیش پیش رہا ہے ۔ ہر پروگرام جداگانہ نوعیت لیے ہوئے ، حتیٰ کہ کسی پروگرام کا اعادہ نہ ہوا ۔ایک سے بڑھ کر ایک ،حسین سے حسین تر، بہتر سے بہترین اور کامیاب سے کامیاب ترین ۔ ریکارڈ پروگرام پیش کئے جسے دیکھ دیگر کی عقل دنگ اور زبان گنگ ہے اور لاشعوری طور پر بھونڈی نکالی پر مجبور ۔
یہی صفات اس ادارے کی شناخت بن چکی ہیں جس کا سہرا میرکارواں عزت مآب توصیف سر اور ان کی فعال ٹیم کے سرجاتاہے۔
ادارہ ہذا کا 143واں پروگرام بعنوان ،، غزل میں معائب ومحاسن،، ایک جداگانہ نوعیت لیے ہوئے تھاجس میں تین غزلوں اور ایک افسانے کو پیش کیا گیا ۔ ان پر ناقدین مسعود حساس صاحب اور شفاعت فہیم صاحب نے نہ صرف کھل کر تنقید کی بلکہ کلام کے محاسن کو بھی اجاگر کیا ۔
میری یادداشت جہاں تک ساتھ دیتی ہے محمد حسین آزاد نے آب حیات میں تذکرے بطورِ تبصرے کیے ۔ شعراء پر تنقیدی جائزہ برائے نام کر محاسن کو پیش کیا ۔ حالی نے یادگار غالب میں غالب کی شاعری کو جو ہمعصروں میں مغلوب تھی ، اسے غالب کیا ۔نیز مقدمہ شعر و شاعری میں ایک باب بعنوان غزل کے محاسن بیان کر نیچرل شاعری کی بنا ڈالی کہ ،
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب دیکھیے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں
پھر بھی تنقید کو میدان خالی رہا۔ علامہ شبلی نعمانی نے موازنہ انیس ودبیر میں انیس کو کسی قدر فوقیت دی کہ انیس کے کلام میں سے الفاظ کی نشست انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ ہوتی کہ اس نعم البدل نہیں ہو سکتا ،

شبنم نے بھر دیےتھے کٹورے گلاب کے
اور
کھا کھا کی اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا

شبنم کو اوس کی جگہ اور اوس کو شبنم کی جگہ رکھ شعری حسن جاتا رہتا ۔ مابعد علامہ نیاز فتح پوری نے نگار میں تنقید کے وہ جھنڈے گاڑے کہ اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ گئے حتیٰ کہ شہنشاہِ تغزل جگر کا بھی جگر پارہ پارہ ہوگیا ۔ کلیم الدین احمد نے اردو شاعری پھر ایک نظر میں اردو شاعری اور خصوصاً غزل پر بھر پور تنقید کی اور قصیدوں کی تو بخیہ ادھیڑ دی ۔
گاہے بگاہے کچھ معاصرین پر تنقید کا اطلاق ہوتا رہا ۔ شارحین ماہر اقبالیات تو ماہر غالبیات ہوئے مگر ، کچھ نے اقبال کے ترانہ ہندی اور ترانہ ملی کے دو مصرعے جوڑ نظریات کے تضاد کی بات کہی ، ترانہ ملی ولایت سے واپسی ، سقوط ہسپانیہ کا دردلیے ہوئے تھا مگر تنقید مبنی بر حقیقت ،
مذہب نہیں سکھاتا ۔۔۔۔
خنجر ہلال کا ہے ۔۔۔۔
یا پھر ،
کہ ہزار سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں
سجدہ مجسم نہیں کہ تڑپے مگر بطورِ استعارہ پیش کیا ، وہیں
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرے گی
خودکشی میں ،، آپ ،، چہ معنی دارد؟
ابن صفی نے اپنے ایک ناول میں لکھا تھا ،
گرمی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں
،، کہ حسرت ناکام میں تو آہ سرد نکلتی ہے تو جل جاتے ہیں ؟
اسی طرح مجروح نہیں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا
ہم سے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو ۔۔
خوشبو تو محسوس کی جاسکتی ہے ۔۔۔ اس کو دیکھنا ؟
یا ۔۔
کچھ تیز قدم رستے ، کچھ سست قدم راہوں میں ۔۔۔؟

تا حال مجتبیٰ حسین ، شمس الرحمٰن فاروقی اور گوپی چند نارنگ بہترین نقاد مانے گئے ہیں جو کہ محاسن ومعائب پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔
ادارہ ہذا کا 143واں پروگرام شفاعت فہیم صاحب کی زیر صدارت اور ضیا شادانی صاحب کی زیر نظامت 10 مارچ 2018 کو منعقد ہوا ۔ بزم کا آغاز ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب کی تحریر کردہ حمد باری تعالی سے ہوا ،
تو ہے خلاق،مالک مراآسرا
میں ہوں بندہ تیرا ،تو ہے میرا خدا
ایسے دل اور زباں کردے مجھ کو عطا
عمر بھر میں کروں تیری حمدوثنا
اس کی بعد دوسرا حمدیہ کلام ڈاکٹر ارشاد خان کا پیش کیا گیا ،
ابتدا بھی وہی ، انتہا بھی وہی
نور وظلمات کا بادشاہ بھی وہی
مسعود حساس صاحب نے قوافی انتہا اور بادشاہ پر نظر ثانی کو مشورہ دیا دیگر اشعار کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ،
قرآنی آیات کی روشنی میں اللہ سبحانہ کی حمدوثنا بیان کی گئی جو لائق ستائش ہے ۔
ناظم ضیا شادانی صاحب نے ڈاکٹر سراج گلاٹھوی کا نعتیہ کلام پیش کیا ،
ہے نزول قرآں ، مرحبا مرحبا
کنکروں نہیں بھی کلمہ پڑھا مرحبا
حساس صاحب نے قرآں کو ، قرآن ، تلفظ کی ادائیگی پر زور دیا کہ یہی بہتر ہوتا دیگر نعتیہ اشعار تلمیحات سے مزیّن تھے ۔
ضیا شادانی صاحب نے عمدہ نظامت فرائض انجام دیتے ہوئے پہلی غزل پیش کی ، جس میں مقطع نہیں تھا ۔ ناقدین کو سطر سطر تنقید کرنی تھی نامعلوم تخلیق کار کی تخلیق کی ،وہ شخصیت قدآور بھی ہو سکتی تھی ، نوآموز ، نوارد اور غیر معروف بھی ۔یہ بڑی ذمے داری اور جوکھم کو کام تھا کیونکہ یہ آن لائن تنقید تھی جو کہ دراک اور صاحب فہم شخصیت ہی کرسکتی وہ جو فہیم اور حساس بھی ہو بہرصورت ، فہیم صاحب اور حساس صاحب نے یہ فرائض بخوبی انجام دیے۔
غزل کا مطلع دیکھیے ،
وحشتوں کا آج بھی چرچا رہا
آج بھی یہ دل میرا ٹھہرا رہا
مسعود حساس صاحب نے کہا ، حالات حاضرہ پر بھر پور طنز ہے مگر دوسرے مصرعے میں غلو درآیا،

وادیوں میں زندگی مرتی رہی
،، زندگی مرتی رہی کی بجائے سسکتی رہی مفہوم لیے مستعمل لفظ بہتر ہوتا ۔
غزل کے دیگر اشعار خوب تھے ، حساس نے بہترین تجزیہ کر محاسن اجاگر کیے ( حساس صاحب نے )
دوسری غزل نظر نواز ہوئی ،
کبھی تو نفرت کے درمیاں بھی ، زبان الفت اثر کرے گی
وہ تلخ لہجے بھی برف ہوں گے ، کبھی شرافت اثر کرے گی
بقول حساس صاحب ، تلخ اور شرافت بے جوڑہیں۔
اگلا شعر ملاحظہ ہو ۔
جلا کے دل میں چراغ الفت انہی امیدوں پہ جی رہے ہیں
کبھی تو ان سے سلام ہوگا ، کبھی تو چاہت اثرات کرے گی
مسعود صاحب نے اس شعر کی بہت پذیرائی کی
راقم الحروف مذکورہ غزل کے املے پر توجہ دلانا چاہے گا کہ ،

کرے گی ۔۔ نہ کر کریگی ۔۔۔ اسی طرح دیگر ۔

تیسری غزل کی بحر کے تعلق سے حساس صاحب نے بلا تکلف اپنی لا علمی کا اظہار کیا جو قابل ستائش ہیں اور قابل تقلید بھی خصوصاً ان کے لیے جو بزعمِ خود کہتے ہیں ،

مستند ہے میرا فرمایا ہوا
شفاعت فہیم صاحب نے ان کی رہنمائی کی ۔
تیسری غزل کا مطلع دیکھیے ،
دل سے تیرے خیال کو اس طرح کم کیا گیا
ہجر کی آیتیں پڑھیں پلکوں کو نم کیا گیا
مطلع میں محترم ناقد نے لفظ طرح کو گرفت میں لیا ۔
،،ہجر کی آیتوں کو پڑھ کر خیال کو کم نہیں کیا جاتا اسی طرح ایک شعر میں ،، ضم کیا گیا کو بھی بے معنی قریب دیا

شعر
سارے جہاں کی رنجشیں ، اہلِ جہاں کو ہم سے تھیں
لمحے ہنسی کے چھین کر ،ہم پہ ستم کیا گیا
کو خوب سراہا گیا ، بزم کے اختتام پر پیش کیے گئے افسانے ،پہچان ، کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ، افسانے کے کلائمس میں بقول ناقد ،، لفظ باپ،، کی بجائے ،، ابو ،، یا ،، پاپا ،، مستعمل ہوتا جس سے اپنائیت ٹپکتی ہے بدرجہ بہتر ہوتا ۔

دو گھنٹے سے زائد چلنے والے اس پروگرام میں ایک ٹھہراؤ تھا ۔ جو سبک رفتار سے اپنی منزل کی جانب رواں تھا ۔ کوئی جلد بازی یا ہڑبڑاہٹ اس محفل میں دیکھنے کو نہیں ملی یہی ایک چیز اس پروگرام کو ممیز کرتی ہے ۔۔

اظہارِ تشکّر کے بعد پروگرام اختتام پذیر ہوا ایک اور سنگ میل طے کرتے ہوئے ، کامیابی وکامرانی کے پرچم کو بلند کرتے ہوئے ۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved