تازہ ترین  

اچھی مزاح نگاری کے چند اصول
    |     3 months ago     |    طنزومزاح
ادب کا میدان اپنی وسعت کے لحاظ سے مختلف قطعات میں تقسیم ہے، انہی میں سے ایک سر سبز و شاداب قطعہ مزاح نگاری کا بھی ہے.
سرسبز و شاداب اس لحاظ سے کہ ہر زمانے میں بڑے بڑے مزاح نگار اپنی بلند پایہ نگارشات کے ذریعہ اس کی آبیاری کرتے رہے ہیں
اگر نام گنوانے بیٹھ جاؤں تو بقیہ خیالات الفاظ کی صورت نہ ڈھل سکیں گے،،، سو ثبوت کے طور پر سینکڑوں ہنستی مسکراتی شاہکار کتابوں پر اکتفا کر لیں.

سوشل میڈیا کی طوفانی آمد کے بعد جہاں دیگر بہت سارے رجحانات تیزی سے پیدا ہوئے ہیں وہیں مزاح نگاری کا شوق بھی پروان چڑھا ہے،،
مختلف پیجز اور گروپس میں نئے لوگ اکثر اس صنف پر طبع آزمائی کرتے نظر آتے ہیں، مناسب ہوگا کہ مزاح نگاری کے متعلق کچھ ایسی باتیں بیان کر دی جائیں جو مجھ جیسے ان طالب علموں کے لئے سود مند ثابت ہوں جو آئے روز مزاح نگاری کی قبر پر لات مارتے ہوئے منفرد ایموجیز کی مدد سے دوسروں کو زبردستی ہنسانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،،
عمدہ مزاح نگاری کے لیے درج ذیل بنیادی خصوصیات کا ہونا لازم ہے

/موضوع کا انتخاب /

موضوع کا انتخاب مزاح نگاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اسی پر پورے مزاح کی عمارت تعمیر ہوتی ہے،
موضوع ایسا ہونا چاہیے جس میں طنز و مزاح کی نئی راہیں تلاش کی جا سکیں، بعض موضوعات اس گلی کی مانند ہوتے ہیں جو کچھ آگے جا کر بند ہو جاتی ہے،
فرض کریں آپ ریل گاڑی کو لے کر مزاحیہ مضمون لکھ رہے ہیں،، اس کے انجن، بوگی اور کھڑکیوں سے ہٹ کر آپ کو دوسری کوئی بات نہیں مل رہی جسے آپ مضمون میں گھسیٹ سکیں،
آپ یوں کریں کہ اس موضوع کو تھوڑا وسیع کرتے ہوئے محکمہ ریلوے پر مضمون لکھیں، اب اس میں آپ ریل گاڑی، ریلوے اسٹیشن، پٹڑی کی خستہ حالی، قلی حضرات کا شور شرابہ اور ریلوے اہلکاروں کے شاہانہ رویے پر بھی ہاتھ صاف کر سکیں گے،
یاد رکھیں، ہمیشہ وہی موضوع قاری کی ذہنی تسکین کا باعث بنتا ہے جس میں جدت اور انفرادیت کا تڑکا لگا ہوا ہو، اور یہ دونوں چیزیں کسی وسیع موضوع میں سے ہی ملتی ہیں،.

/طوالت سے گریز /

موضوع کی وسعت کا یہ مطلب نہیں کہ آپ پندرہ کلومیٹر لمبی تحریر لکھ دیں،
موضوع کی وسعت اور تحریر کی وسعت دو الگ چیزیں ہیں، طوالت کسی بھی مزاح نگار کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے، اپنے متعلقہ موضوع پر رہنے کی کوشش کریں، اگر آپ ملاوٹ شدہ دودھ پر طنزیہ مضمون لکھتے ہوئے جنگ عظیم دوم کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالنا شروع کر دیں تو یقیناً قاری کو حق حاصل ہے کہ وہ کم از کم ایک بار دُر فٹے منہ ضرور کہہ دے،
ہر فقرے کی بناوٹ ایسی سمارٹ اور مختصر ہونی چاہیئے کہ قاری فی الفور فقرے کو اپنی گرفت میں لے سکے،. مثلاً یہ فقرہ دیکھئے "" میں نے جب اسے دیکھا تو پہلی نظر میں ہی اسے دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ وہ ایک مکمل بدھو ہے "".
اب اسی فقرے کو اگر یوں لکھئے "" میرے نزدیک وہ ایک مکمل بدھو ہے "" یعنی طوالت سے پہلو تہی کرتے ہوئے بھی مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں. بلکہ میرے ایک سینئر رائٹر دوست مجھے اکثر کہا کرتے ہیں کہ عمر بھائی اپنا نام چھوٹا کیجئے،، لکھاری بندے کا اتنا لمبا نام نہیں ہونا چاہیئے،، عمر فاروق ارشد، اونہہ، یہ کیا نام ہوا. (خیر ان دوست صاحب کو تو میں نے سعادت حسن منٹو کی خطرناک مثال دے کر خاموش کروا دیا تھا)

،بہرحال یاد رکھئے، غیر ضروری طور پر طویل ایک فقرہ بھی آپ کی پوری تحریر کو مزاح کی حدود سے نکال کر بھونڈے پن کی دلدل میں گرا سکتا ہے،،.


/مصنوعی پن سے بچاؤ /

حتی الامکان کوشش کیجئے کہ آپ کی تحریر میں بے ساختگی اور روانی ہو، کسی بھی طور ایسا محسوس نہ ہو کہ زبردستی مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے،
یہ خوبی اگرچہ قدرت کی عطا کردہ ہوتی ہے لیکن تھوڑی جدوجہد اور مسلسل محنت کے بعد آپ اسے خود بھی حاصل کر سکتے ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ خوشگوار موڈ اور سازگار ماحول میں مزاح لکھیں،

اب اگر بجلی، گیس اور پانی کے بِل لے کر سرہانے کھڑی بیگم کی موجودگی میں آپ پطرس بخاری بننے کی کوشش کر رہے ہیں تو جناب یقیناً آپ غلطی پر ہیں، یہ چیز آپ کو ایک اچھا مرثیہ خواں تو بنا سکتی ہے لیکن مزاح نگار ہرگز نہیں،،

سو! مزاح نگاری میں مصنوعی پن سے بچنے کے لئے اچھے ماحول اور وقت کا انتخاب کیجئے،..

/وقت کا دورانیہ /

طنزو مزاح پر مبنی تحریر کو کبھی بھی جلد بازی کرتے ہوئے ایک نشست میں لکھنے کی کوشش مت کیجئے، عجلت کے نتیجے میں تحریر کے اندر موجود ایسے بہت سارے پوائنٹس آپ کی نظروں سے اوجھل رہ جائیں گے جنہیں ہلکا سا ٹچ کرتے ہوئے آپ مزاح کی سینکڑوں پھلجھڑیاں پیدا کر سکتے ہیں،،
اگر لکھنے کے دوران آپ کا آفس ٹائم ہو جائے تو نہایت اطمینان سے تحریر ادھوری چھوڑ کر آفس چلے جائیے، ہو سکتا ہے وہاں کولیگز کے نت نئے ڈرامے آپ کی مزاحیہ تحریر کو کچھ نئے اور اچھوتے خیالات کی طرف لے جائیں..،.. کیونکہ ماحول کی تبدیلی اور اپنے گرد بسنے والوں کا طرزِ عمل آپ کے انداز تحریر پر بڑے گہرے اثرات چھوڑتا ہے، اور آپ کے تخیل کے لئے نئی راہیں بھی متعین کرتا ہے...

/تکرار سے گریز /

مزاحیہ تحریر میں فقروں کی تکرار سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کریں، اسی طرح الفاظ کی تکرار سے بچاؤ بھی ضروری ہے،، مثلاً "" میں بار بار اسے سمجھا رہا تھا ""

اب تھوڑا آگے چل کر آپ ایک اور فقرہ لکھتے ہیں "" وہ بار بار مجھے دیکھ رہا تھا ""
اب اس میں '' بار بار '' اور '' دیکھ رہا تھا '' یہ الفاظ نشر مکرر کے طور پر خواہ مخواہ تحریر کا حسن گہنا رہے ہیں. اس طرح قاری کی طبیعت پر ناگواری کا بوجھ پڑتا ہے. اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ قارئین کی اکثریت بڑی ہی نازک طبیعت رکھتی ہے.
اگر آپ ایک لکھاری ہوتے ہوئے بھی اپنے قاری کو تفریح مہیا کرنے کی بجائے بوریت دے رہے ہیں تو یقیناً آپ کو چاہیے کہ گھر کی کوئی مضبوط سی دیوار منتخب کر کے اس پر گھونسے مارنے کی مشق شروع کر دیں ،، بلا شبہ قاری کے ذوق کی تسکین نہ ہونے سے تحریر کا مقصد فوت ہو جاتا ہے.

/چربہ سازی سے بچئے/

یہ اصول اگرچہ سبھی لکھنے والوں پر لاگو ہے، لیکن مزاح نگاری میں اس کی ذرہ بھر گنجائش نہیں. چوری شدہ ایک بھی کردار یا مکالمہ آپ کی ساری محنت پر پانی پھیر سکتا ہے. مزاح نگار اگر تحقیق و تخریج کی بجائے اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر اعتماد کرے تو زیادہ کامیاب رہتا ہے.
نقل شدہ پلاٹ اور مواد پر مزاحیہ تحریر کی بنیاد رکھنا قطعاً عقلمندی نہیں.،. اور نہ ہی آپ کو اس طرز عمل کے نتیجے میں معیاری تحریر کی توقع رکھنی چاہیے........
.................... 
عمر فاروق ارشد
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved