تازہ ترین  

سزا کا درست تعین اور عوامی جذبات کا خیال
    |     6 months ago     |    کالم / بلاگ
 


کہاجارہا ہے کہ میاں صاحب اداروں سے تصادم کی سوچ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں جو ان کے اور ان کی جماعت کے سیاسی کیرئیر کے لئے کسی طور مناسب نہیں ہے یہ بات درست ہے کہ وطن عزیز کے قومی اداروں کی عزت ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے یہ ہی وہ ادارے ہیں جن سے ہماری دنیا بھر میں پہچان ہے کیسی بھی ملک کے معزز ادارے اُس ملک و قوم کا بہترین اثاثہ ہوتے ہیں جن کو محفوظ اور مؤثر بنانے کے لئے ارباب اختیار کو بھر پور جدوجہد کرنا پڑتی ہے تب جاکر اداروں کا معیار اور وقار بلند ہوتا ہے بد قسمتی سے ہمارا عدا لتی نظام شروع دن سے ہی سیاسی جماعتوں کے تابے رہا ہے جس نے چاہا عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کرائے ہیں اور بد قسمتی سے حکمرانوں اور فوجی آمروں کے دباؤ میں آکر شروع دن سے ہی عدالتوں کو کنٹورسی کا شکار بناکر رکھا گیا ہے ہے جس کی وجہ سے عوام میں اپنے خلا ف آنے والے عدالتی فیصلوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے اُس وقت کے وزیر اعظم کو پاناما لیکس پر سزا دینے کے بجائے اقامہ پر نا اہل قرار دے کر وزیرا عظم کے منصب سے فارغ کر دیا اس فیصلے نے ملکی سیاست میں بونچال پیدا کر دیا اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئیں مجھے کیوں نکلا کی صدائیں گونجنے لگیں پھر یہاں ہی بس نہیں روکی بلکہ زخمی شیر پر ایک اور وار کیا گیا میاں صاحب کو ان کی پارٹی صدارت سے بھی فارغ کر دیا گیاجس سے میاں صاحب اور ن کی جماعت سے منسلک عوام کو بھر پور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اس بار میاں صاحب اور عدالت آمنے سامنے آگے ہیں میاں صاحب اور ان کے پارٹی ارکان کی جانب سے عدالتی فیصلے پر بھر پور انداز سے تنقید کی جانے لگی جس پر کافی صبر کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے میاں صاحب کے چاہنے والے پارٹی ارکان کو تو ہین عدالت کے نوٹس جارہی کیے گئے جس میں اب تک ایک سینیٹر نہال ہاشمی کو سزا بھی سنائی گئی مگر ان تو پوں میں خاموشی پیدا نہ ہوسکی سپریم کورٹ کے فیصلے کو لے کر ملک بھر میں مختلف قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں دوسری جانب معزز عدالت اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے جو شاید درست عمل نہیں ہے معزز عدالت کو صفائی یا وضاحت پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر فیصلے درست کیے گئے ہیں تو فیصلے خود بولتے ہیں خان صاحب نے بھی گذشتہ دنوں کافی عرصے کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں صاحب کی نااہلی کا فیصلہ سمجھ نہیں آتا نااہلی پاناما پر ہونی تھی اقامہ پر سمجھ سے باہر ہے۔
یہ بات درست ہے کہ معزز سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا اُس کا احترام ہر صورت کیا جانا چاہے اور میاں صاحب کی تنقید اپنی جگہ مگر انہوں نے سپریم کورٹ کے دونوں فیصلوں کو قبول کیا ہے مگر میاں صاحب اور ان کی جماعت کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر دبنگ انداز بیاں شاید مناسب نہیں ہم دنیا بھر میں اپنے اداروں کی عزت کرانے کا عزم رکھتے ہیں تو اپنے اداروں کے خلاف ایسا رویہ حکمرانوں کو کسی صورت نہیں اپنا ناچاہیے دوسری جانب ہمارے معزز اداروں کو بھی اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ستر برسوں کا یہ گند ایک دفعہ میں صاف نہیں ہوسکتا دوسال سے معزز عدالتیں صرف ایک جماعت کو ٹارگٹ بنا کر کرپشن کا خاتمہ کرنے کی جو جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں شاید وہ طریقہ درست نہیں اس طریقے سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ اس ملک میں کرپشن صرف میاں صاحب نے ہی کی ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ستر برسوں کی کرپشن صرف ایک جماعت یا ایک فرد کے گرد نہیں گھوم رہی اس گند میں ہر با اثر شخص جس کا تعلق سیاست سے ہو یا اس ملک کے با اثر اور معزز اداروں سے ہو ہر ایک نے وطن عزیز کے قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ہر ایک نے اپنے منصب کا غلط استعمال کیا ہے ہمار ے ملک میں بے روز گاری ایک بہت بڑی لعنت ہے 80 فیصد لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں لوگ اپنے بچوں کو فروخت کر رہے ہیں گھروں میں جوان بچیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے شادیوں سے محروم ہیں ہمارا آزاد میڈیا عوام کی آواز کے دعوے کرتے نہیں تھکتا صبح سے شام تک مختلف ٹی وی پروگراموں میں بے حیائی کے نام پر کالا دھند سر عام لوٹایا جاتا ہے کرکٹ جو کرپشن کا گڑ ہے بیرون ملک بڑے بڑے کرکٹ کے جوائے کھیلے جاتے ہیں جس میں کروڑوں روپیہ برباد کیا جاتا ہے سیاست سے لے کر کھیل کے میدان تک کرپشن ہی کرپشن ہے اس ملک کا ہر ادارہ کرپشن میں ستر برسوں سے ملوث ہے احتساب کا عمل ہر صورت جاری رہنا چاہے اس ملک و قوم کو لوٹنے والوں کا احتساب ہونا چاہے مگر احتساب کا یہ عمل کسی ایک جماعت یا ایک خاندان کے گرد نہیں گھمنا چاہے یہ تاثر نہیں جانا چاہے کہ ادارے کیسی کو خوش کرنے کے لئے کیسی کے کیرئیر کو برباد کر رہے ہیں اس وقت ملک میں انتشار کی فضا پائی جاتی ہے اداروں میں تصادم کی صورت نظر آتی ہے یہ صورتحال کیسی طور ملک و قوم کے لئے درست نہیں ہے ہمارے معزز اداروں کو سزا کا ایسا معیار بنانا ہوگا جس سے ملک میں انتشار پیدا نہ ہو لیڈر کے ساتھ لاکھوں افراد منسلک ہوتے ہیں ہمیں اپنے فیصلوں میں ان لاکھوں افراد کے جذبات کا بھی خیال رکھنا ہوگا لیڈر کی غلطی کی سزا اُس کو ملنی چاہے مگر سزا ایسی جس سے وہ سبق حاصل کرے نہ کہ لاکھوں افراد کی دل آزاری ہو اور معزز اداروں کے لئے نفرت پیدا ہوا لہذا سزاکا درست تعین کرنے سے پہلے عوامی جذبات کا بھی خیال رکھا جائے






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved