تازہ ترین  

پاکستان رائٹرز کونسل کے زیراہتمام قومی اہل قلم کانفرنس کا انعقاد
    |     9 months ago     |    گوشہ ادب
ادبی تاریخ کے اوراق کا عمیق مطالعہ کیا جائے تومیدان علم و ادب کے ایسے بے شمار درخشندہ ستارے نظر آتے ہیں جنہوں نے علم و ادب کی ترویج و ترقی کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا اور اس سلسلے میں اپنے تن ، من، دھن کی پرواہ کیے بغیر ادب کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کی ۔ فروغ ادب کے لیے مثالی کردار ادا کرنے والوں میں داغ دہلوی ، مرزا اسداللہ خان غالب ، سعادت حسین منٹو ، نظیر اکبر آبادی ، میر ببر علی انیس ، مرزا رفیع سودا ، محمد ابراہیم ذوق ، مومن خان مومن ،خواجہ حیدر علی آتش ، محمد حسین آزاد ، الطاف حسین حالی ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ، ابو الکلام آزاد ، فرحت اللہ بیگ ، ابن انشا، مشتاق احمد یوسفی ، انتظار حسین ، منشی پریم چند ، عبد الحلیم شرر ، ڈپٹی نذیر احمد جیسے بہت سے نام نمایاں حیثیت کے حامل ہیں جنہوں نے مختلف صنفوں کی صورت میں ادب کی ترقی و ترویج میں بے مثال کردار ادا کیا۔ کسی نے شاعری کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کیں تو کسی نے نثر کی صورت میں اپنا حصہ ڈالا، کسی نے افسانہ نویسی کے ذریعے قارئین کے دلوں پر اثرات مرتب کیے تو کسی نے ڈرامائی شکل میں اپنا لوہا منوایاالغرض ان عظیم ہستیوں نے ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر اس کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں جس کے بدولت آج ان ہستیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔موجودہ دور میں بھی بہت سے سرکاری و غیر سرکاری ادارے اورقلم کاروں کی نمائندہ تنظیمیں فروغ ادب میں اپنا اپنا کردار ادا کرہی ہیں ۔آج کے نفسا نفسی والے دور میں فروغ علم و ادب کے لیے کام کرنے والے یقیناًخراج تحسین کے قابل ہیں۔
فروغ علم و ادب میں جہاں بے شمار ادارے کام کررہے ہیں وہاں پاکستان رائٹرز کونسل کی خدمات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔پاکستان رائٹرز کونسل اہل قلم کی ایسی نمائندہ تنظیم ہے جس کا مشن نئے لکھنے والوں کو قلم و قرطاس کے متعلق ٹریننگ و رہنمائی فراہم کرنا ہے۔پاکستان رائٹرز کونسل کے زیراہتمام ملک کے مختلف شہروں میں نو آموز قلم کاروں کی ٹریننگ کے لیے مختلف کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔11 مارچ 2018 ڈسٹرکٹ بار روم ننکانہ صاحب میں قومی اہل قلم کانفرنس کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔معروف شاعر و دانشور چوہدری انور زاہد کی صدارت میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں قلم و قرطاس کے ماہرین نے نئے لکھنے والوں کو کالم نگاری ، خبر نویسی ، تحقیقاتی صحافت ، کہانی نویسی ، انٹرویو کی مہارت کے عنوانات پر اپنے ملفوظات سے نوازا۔حسب سابق کانفرنس میں ملک بھر سے اہل قلم خواتین و حضرات نے شرکت کی۔قاری فرحان اللہ کوکب کی دلنشین آواز میں تلاوت قرآن سے آغاز ہونے والی اس تقریب میں میاں محمد جمیل نے یعقوب پروازصاحب کا نعتیہ کلام پیش کیا جبکہ نقابت کے فرائض مرزا محمد یٰسین بیگ نے ادا کیے۔بعد ازاں معروف کالم نویس الطاف احمد نیتقریب سے متعلقہ تعارفی خطاب کیا جبکہ سید بد ر سعید نے انٹرویو کی مہارت پراپنے تجربات کی روشنی میں سیر حاصل گفتگو کی جس پر عمل کرتے ہوئے ایک اچھا انٹرویو ترتیب دیا جاسکتا ہے۔معروف اینکر فہد شہباز خان ،اور محمد عاصم حفیظ نے بالترتیب خبر کی تلاش اور ہماری زندگی میں میڈیا کے کردار پر خطاب کیا جبکہ بچوں کے معروف ادیب اشفاق احمد نے اچھی کہانی لکھنے کے حوالے سے اپنے تجربات کی روشنی میں بھرپور لیکچر دیا۔سینئر کالم نگارو شاعر علی اصغر عباس نے اچھا کالم لکھنے کے لیے ضروری نکات پر خصوصی لیکچر دیا جن کو مدنظر رکھ کر ہی اچھا کالم لکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوگ سستی شہرت اور ذاتی مفاد کے لیے صحافت اور سیاست کا رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ شعبے زوال کا شکار ہوچکے ہیں حالانکہ اگران شعبہ جات میں خدمت اور اصلاح کا جذبہ کارفرما ہو تویہ ایک بڑی عبادت کا درجہ حاصل ہوسکتا ہے۔معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر نے اپنے خطاب میں اچھا لکھنے کے لیے بھرپور مطالعہ کو ضروری شرط قرار دیا۔ لیجینڈ فلم رائٹر ناصر ادیب نے اپنے خصوصی خطاب میں نئے لکھنے والوں کو بھر پور محنت کا درس دیا اور مشورہ دیا کہ محنت و لگن سے آگے بڑھتے رہیں اور اس دوران آنے والی مشکلات سے ہرگز نہ گھبرائیں۔
پاکستان رائٹرز کونسل کے زیراہتمام اس تقریب میں ملک کے طول و عرض سے سینئر و جونیئر قلم کاروں نے جوق در جوق شرکت کی جن میں پروفیسر آسیہ اشرف ، پروفیسر تعظیم ممتاز ، سعدیہ یسین، محمد شریف عابد، ظفر اقبال ظفر، ممتاز غزنی، عبدالرؤف شاہ، محمد حسن رائے، جاوید معاویہ، باؤ ظفر اقبال، چوہدری افضل حق، غلام محی الدین، طاہر رزاق، نعیم اکبر،عابد قادری، محمد ندیم بیگ ، عابد رحمت و دیگر شامل ہیں۔مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب رانا محمد ارشد ، شاعر و دانشوررائے محمد خاں ناصر ، معروف صحافی ندیم نظر ، شہزاد فراموش، افسانہ نگار فاروق انجم، افسانہ نگار محمد حسن رائے ، نعیم مرتضی ، قاسم سرویا ، حاجی محمد لطیف کھوکھر،عبدالصمد مظفرنے مہمانان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔پاکستان رائٹرز کونسل کے پیٹرن انچیف زاہد حسن نے سال 2018-19 کے لیے منتخب کابینہ میں نوٹیفیکشن تقسیم کیے جس کے مطابق مرزا محمد یٰسین بیگ چیئرمین ، حسیب اعجاز عاشر وائس چیئرمین ، الطاف احمد صدر ، کاشف علی نیئر جنرل سیکرٹری جبکہ سعدیہ یٰسین کو صدر خواتین ونگ مقرر کیا گیا ۔ رب نواز ملک منصوری، شفاعت مرزا، مہرشوکت علی، اکبر علی، ذوالقرنین حیدراور احسن مغل کو تنظیمی ذمہ داریاں سونپنے کے ساتھ ساتھ راقم الحروف کو مرکزی ترجمان مقرر کیا گیا۔
زاہد حسن نے نومنتخب عہدیدران پر زور دیا کہ میدان قلم و قرطاس میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے مطالعے اور مشاہدے کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنالیں اور اس کے ساتھ ساتھ سینئیرز کی عزت و احترام ہمیشہ مدنظر رکھیں بصورت دیگر کامیابی کا حصول ناممکن ہے۔ کا نفرنس میں شعبہ علم و ادب میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کو ایوارڈ سے نوازا گیاجو جناب ناصر ادیب،گل نوخیز اختر، علی اصغر عباس ، اشفاق احمد خان ، ندیم نظر ، شہزاد فراموش ، رائے محمد خان ناصر، چوہدری محمد انور زاہد ، فہد شہباز خان، سید بدر سعید ،زہد حسن ،جناب فاروق انجم، محمد حسن رائے ، عبدالرؤف شاہ ، محمد عاصم حفیظ اور نعیم مرتضی کے حصے میں آئے۔کانفرنس کے اختتام پر پُرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا ، بعد ازاں سکھ مذہب کی قدیم عبادت گاہ اور بابا گرونانک کی جائے پیدائش (جنم استھان) کا تعلیمی و معلوماتی دورہ کروایا گیا جس میں گردوارہ انتظامیہ کی جانب سے مخصوص تحفہ( سروپا) پیش کیا گیا۔کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان رئٹرز کونسل کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved