تازہ ترین  

محفلِ حمد و نعت
    |     4 weeks ago     |    گوشہ ادب
آج کے ترقّی یافتہ دور میں برقی ترسیل نے ہماری زندگی کو جتنی تیز رفتاری بخشی ہے وہ پہلے کبھی دیکھ نے میں نہیں آئی، ترسیل و ابلاغ کے عمل کو جو برق رفتاری بخشی ہے اس سے دور دراز کے علاقوں کو قریب تر ہونے کا احساس پیدا کردیا ہے لوگ فیس بک، واٹس ایپ، ٹیوٹر اور انسٹاگرام کے ذریعے پوری دنیا میں ایک دوسرے سے جان پہچان بنا رہے ہیں اور اپنے پیغامات ترسیل کر رہے ہیں "ادارہ بیسٹ اردو پوئیٹری "ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس نے اس سسٹم سے فائدہ اٹھاکر دنیا بھر کے مصنفین، ادباء و شعراء اکرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے اور ان کے لئے نئے نئے اچھوتے اور منفرد پروگرام منعقد کرا رہا ہے، اس مرتبہ بھی 24-3-2018 بروز ہفتہ اپنے آپ میں انفرادیت لئے ہوئے 145 واں پرُنور و روح افزا پروگرام"محفلِ حمد و نعت "کا انعقاد کیا گیا جس کی خاصیت یہ رہی کہ اس پروگرام میں شعراء نے اپنے حمدیہ و نعتیہ کلام پیش کئے وہ نہ صرف اردو رسم الخط میں تھے بلکہ سبھی کلام ہندی( دیوناگری )رسم الخط میں بھی پیش کئے گئے جس سے ان کے کلام کو ہندی داں طبقے تک بھی رسائی حاصل ہوسکتی ہے پروگرام پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے اور ہندوستانی وقت کے مطابق 7-30 بجے شام کو شروع کیا گیا پروگرام کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ اس کی پہلے سے باقاعدہ کوئی لسٹ تیار نہیں کی گئی تھی کہ کس کس شاعر کو اپنا کلام پیش کرنا ہے بلکہ بر وقت جو شاعر موجود تھے ان ہی کے نام پروگرام میں شامل کئے گئے اور ناقدین نے آن لائن رہ کر کچھ شعراء کے کلام پر تنقید بھی کی اور ادبی معائب و محاسن پر بغیر کسی تفریب کے کھل کر بات کی اور اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا، پروگرام کے آرگنائزر محترم ارسلان فیض کھوکھر صاحب پاکستان تھے جبکہ پروگرام کا آئیڈیا محترم توصیف ترنل صاحب بانی و چیئرمین اداروں ھز'ہ کا تھا- اس پروقار محفل کے منصبِ صدارت پر محترم شمس الحق صاحب لکھنؤ انڈیا جلوہ افروز تھے جبکہ نظامت کے فرائض مشترکہ طور پر محترم مختار تلہری صاحب انڈیا و محترم ضیاء شادانی صاحب انڈیا نے انجام دئے - محفل پر نور کے مہمانانِ خصوصی محترمہ ثمینہ گل صاحبہ پاکستان و محترم عامر حسنی صاحب ملیشیا تھے جبکہ مہمانانِ اعزازی محترم عقیل جزبی صاحب پاکستان و محترم ظہیر احمد ضیا صاحب آزاد کشمیر اور محترم شاہد رحمان صاحب پاکستان تھے رپورٹ کا ہندی ترجمہ محترم شمس الحق صاحب لکھنؤ انڈیا نے تیار کیا-یہ مشاعرہ شام 7- بجے شروع ہو کر رات 11 بجے تک بہت کامیابی اور خوش اسلوبی کے ساتھ چلا ناقدین نے کچھ کے کلام پر اپنی رائے پیش کی جبکہ سامعین نے سبھی کو دل کھول کر داد و تحسین سے نوازہ - قارئین کی دلچسپی کے لیے سبھی شرکاء مشاعرہ کا نمونہ کلام حاضر ہے

محترم شمس الحق ناطق صاحب لکھنؤ انڈیا

مدینے سے آیا جو جھونکا ہوا کا
وہ پیغام لایا نبی مجتبی'کا
-------------
محترم عامر حسنی صاحب ملیشیا

ہر گھڑی آپ کے دربار سے خوشبو آئے
ایک اک حرف سے گفتار سے خوشبو آئے
----------

محترم احمد عقیل جزبی صاحب پاکستان

موسی' و عیسی' ہیں خلیل اور ذبیح اللہ بھی
آپ سا دیکھا نہیں راج دلارا میں نے
------------

محترم ظہیر احمد ضیاء صاحب آزاد کشمیر

تیری حسرت میں ترے مست خیالوں میں رہے
تیرا یہ بندہ ترے چاہنے والوں میں رہے
---------------
محترم مختار تلہری صاحب انڈیا
حمد
عالی ہے تو والی ہے
تیری شان نرالی ہے
میں ہوں عاصی اور تری
ہستی رحمت والی ہے
نعت
دونوں جہان پر ہے شہِ دو سرا کے ہاتھ
ہیں کس قدر بلند رسولِ خدا کے ہاتھ
----------------
محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب انڈیا

تعریف سب ہیں تیری
تو رب ہے عالَموں کا
رحمان بھی ہے تو ہی
ذاتِ رحیم یکتا

اس حمد کے پہلے مصرعے پر اپنی تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے محترم ضیا السلام ضیاء شادانی صاحب نے فرمایا کہ مصرع "تعریف سب ہیں تیری" یہاں' تعریف' واحد کا صیغہ ہے جبکہ 'ہیں' جمع کا صیغہ ہے، واحد کے صیغے کے ساتھ جمع کا صیغہ مناسب نہیں ہے، جبکہ محترم شمس الحق صاحب لکھنؤ انڈیا نے فرمایا کہ مجھے اس کلام میں کوئی مقام مشورہ نظر نہیں آتا کیونکہ تعریف کے ساتھ لفظ 'سب' جمع کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس طرح بہت مستعمل ہے
------------------
محترم ارشد مینا نگری صاحب انڈیا
ظلم کا راج چار سو
آنکھ نم نظر لہو لہو
کام ہو رہا وہ روبرو

کہہ چکے جو بات مصطفٰی
فخرِ کائنات مصطفٰی
-----------------
محترم علیم طاہر صاحب انڈیا

ہے عطا کردہ فکر و فن تیرا
شکر کرتا ہے ادا، من، تیرا

ایک کن سے کیا جہاں تخلیق
یہ زمیں تیری یہ گگن تیرا

اس حمد پر محترم ضیا شادانی صاحب نے مصرع "شکر کرتا ہے ادا من تیرا" پر اپنی تنقیدی رائے پیش کر تے ہو ئے یوں فرمایا کہ یہ مصرعہ اگر ایسے "شکر کرتا ہے یوں بھی من میرا" کر لیا جائے تو بہت مناسب رہے-
مصرع "کھینچتا ہے مجھے اپنی جانب" کو "کھینچتا ہے مجھے تیری جانب" کر لیا جائے اور "ورد کرتی ہیں فضائیں طاہر" کو "ورد کرتی ہے یہ فضا طاہر" کرلیا جائے تو اشعار کا حسن نکھر جائے گا
-----------------
محترم شہیر تہامی صاحب پاکستان

چمکتی دھوپ اور سایا
یہ صحرا، تشنگی، پانی
حصارِ ذات میں تیرے
یہ سب کچھ ہے تو کیوں فانی
رموزِ عشق کا مصدر
خرد زادِ ہنر تو ہے
---------------
محترم غلام احمد رضا قادری مھدی صاحب رامپوری انڈیا

نبی کے روضے کی جالی کو تھام کر مھدی
میں اپنا سویا مقدّر جگانے آیا ہوں
------------------------
محترم مصطفٰی دلکش صاحب مہاراشٹر انڈیا

پھول کھلادے پتّھر میں شاخوں کو پھل دے اللہ
دھرتی کو جل تھل کردے اتنا تو جل دے اللہ
---------------
محترمہ صبیحہ صدف صدیقی صاحبہ بھوپال انڈیا

انتہا تو ہی ابتدا تو ہی
میرے ہر درد کی دوا تو ہی
---------------------
محترم ابنِ ربّانی صاحب پاکستان

ہاں احسانِ تقویم کی تفسیر وہ چہرہ
گلزارِ بہشتی کی ہے تصویر وہ چہرہ
----------------
محترم اصغر شمیم صاحب کولکتہ انڈیا
مدینے کی گلیوں میں گھر چاہتا ہوں
وہ روضہء اقدس کا در چاہتا ہوں

کہیں دل مرا اب یہ لگتا نہیں ہے
مدینے کی شام و سحر چاہتا ہوں

دوسرے مصرعے میں' روضہء اقدس'کو محترم مختار تلہری صاحب نے غور کرنے کا مشورہ دیا
------------------
محترم خالد سروحی صاحب پاکستان

اپنے در پر مجھے اب بلا لیجئے
جی مچلتا ہے دیکھوں تمہارا نگر
-----------------
محترمہ نیّر رانی شفق صاحبہ پاکستان

دیدار کی پیاسی ہوں دیدار عطا آقا
ہر سمت اندھیرے میں تھوڑی سی ضیا آقا
-------------------
محترم شوزیب کاشر صاحب آزاد کشمیر

تو سیّدِ عالم ہے رفعنا لکَ ذکرک
پیارے تجھے کیا غم ہے رفعنا لکَ ذکرک

اس نعت میں حضور اکرم صلعم کو تو کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اس طرف ناقد نے اشارہ کیا ہے
------------------------
محترمہ سیمہ گوہر صاحبہ رامپور انڈیا

صرف اس رب سے محبت کیجے
جتنا ممکن ہو عبادت کیجے
------------------
محترم ایڈووکیٹ متین طالب صاحب ناندورا انڈیا

میں سرشار ہوں عشق میں مصطفٰی کے
کہ بخشش کی صورت نکلنے لگی ہے
---------------
محترم مقیم مینا نگری صاحب انڈیا

صبح ہوئی تو سارے پرندے ورد کریں تیرا
آتی جاتی سانس سانس سے ذکر چلے تیرا
تو ہی خدا ہے تو ہی خدا ہے تو ہی خدا میرا
-------------------
محترم ارسلان فیض کھوکھر صاحب پاکستان

اب آرہی ہے پھر مجھے خوشبو گلاب کی
دہلیز پر کھڑا ہوں رسالت مآب کی
------------------

مشاعرہ رات 11 بجے تک بہت آب و تاب و بشاشت کے ساتھ چلتا رہا آخیر میں ناقد و استاد شاعر محترم ضیا شادانی صاحب نے حمدیہ و نعتیہ کلام پر تنقید کے سلسلے میں فرمایا کہ "نعتیہ و حمدیہ کلام میں تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی، اس میں دو باتوں کا خیال رکھیں مفہوم کے اعتبار سے تو شاعر آزاد ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کیا کہتا ہے لیکن 1-بحر کا لھذ' ضرورع ہے کہ مصرعہ بحر میں ہوں 2- احترام کے دائرے سے باہر نہ نکلیں
اس کے بعد صدرِ محفل محترم شمس الحق صاحب لکھنؤی انڈیا نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ

بسم اللہ الرحمن الرحيم

آج کا مشاعرہ بعنوانِ محفلِ حمد و نعت اختتام پذیر ہوا جسے آرگنائز کر رہے تھے محترم ارسلان فیض صاحب

نظامت کر رہے جناب مختار صاحب اور جناب ضیا شادنی صاحب

بہت شاندار اور بہت پر رونق رہا لا جواب کلام سن کو ملے
عمدہ نظامت اور ہمارے مہمانِ خصوصی ہوں مہمانِ اعزازی سبھی نے شعرا کو خوب سراہا

میں آخر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس ادراے اور تمام کارکنان کے لیے دعا بھی کرتا ہوں آیے اختتام مجلس پر چند دعا بارگاہِ ربِ عظیم کے دربار میں مانگتے کہ اے اللہ ہماری تمام کوشوں کو قبول فرما آمین کوتاہیوں کو معاف فرما آمین
ہمیں سعادتِ دارین سے ہمکنار فرما آمین
اے اللہ اپنی محبت اور رسول کی سچی محبت عطا فرما آمین
علم اور عمل میں اور زندگیوں میں برکت عطا فرما آمین
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

از صدرِ مشاعرہ

اسی کے ساتھ ہی ادارے کے بانی و چیئرمین محترم توصیف ترنل صاحب نے مشاعرے کے ختم کا اعلان فرمایا
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved