تازہ ترین  

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے پیش کرتے ہیں
    |     3 weeks ago     |    تعارف / انٹرویو

تعارف

خاندانی نام- سراج الدین قریشی
تخلص- ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی
والد محترم - جناب الحاج باقر علی( مرحوم و مغفور )
والدہ محترمہ- محترمہ نور جہاں بیگم( مرحومہ و مغفورہ )
استاد محترم - پروفیسر عنوان چشتی( مرحوم و مغفور )
تاریخ پیدائش- 1959_12_15
ابتدا شاعری - 1992
تصانیف- آبشارِ خیال شعری مجموعہ( حمد، دعا، نعت، غزلیں، نظمیں، گیت، قطعات، متفرق اشعار ) 2008 ء
سخن سمندر - شعری مجموعہ ( حمد، دعا، نعت، ہائیکو، ثلاثی، ماہئے، دوہے)2011 ء
گھاس کے پتوار - شعری مجموعہ ( حمد،دعا، نعت، نظمیں، تظمین، تجرباتی غزلیں، غزلیں 2015 ء
جنوں رنگ-شعری مجموعہ ( حمد، نعت، غزلیں )پریس
موسمِ گل- شعری مجموعہ( مطلعاتی حمد، مطلعاتی نعت، مطلعاتی غزلیں ) پریس
گل بوٹے - شعری مجموعہ( گرہ بند حمد، گرہ بند نعت، گرہ بند غزلیں ) پریس
تعلیم - بی ایس سی آئرس( اے ایم یو علیگڑھ )
بی یو ایم ایس( دہلی یونیورسٹی )
انعامات - مانَو متر 2000 ء
اردو اکیڈمی لکھنؤ ایوارڈ برائے سخن سمندر 2011 ء
غزل شری ایوارڈ 2011 ء
بہادر شاہ ظفر ایوارڈ 2013 ء
شبھم شری ایوارڈ 2013 ء
خادم اردو ایوارڈ 2013ء
اردو اکیڈمی لکھنؤ ایوارڈ برائے گھاس کے پتوار 2015 ء
خادمِ ادب ایوارڈ 2016 ء
ساہتیہ رتن ایوارڈ 2016ء
پتہ- پھاٹک مہتا محلّہ پیر خاں گلاؤٹھوی ضلع بلند شہر یو پی انڈیا
M:9927254040
E Mail Dr. Siraj Qureshi @ g mail.come



((( غزل ))) 1

ناتواں جیسے سہاروں سے لپٹ جاتے ہیں
ہم تری یاد کی باہوں سے لپٹ جاتے ہیں

حل مسائل کا نظر آتا نہیں جب کوئی
لوگ امّید کے سایوں سے لپٹ جاتے ہیں

عمر بھر ذہن فراموش نہیں کر پاتا
وہ مناظر جو نگاہوں سے لپٹ جاتے ہیں


دل کے الفاظ زباں پر نہیں آتے جس دم
ٹوٹ کر وہ مری آہوں سے لپٹ جاتے ہیں

جو گزارے تھے ترے ساتھ سہانے لمحے
اشک بن کر مری آنکھوں سے لپٹ جاتے ہیں

وائے قسمت کہ مرے پھول سے بھوکے بچّے
خشک روٹی کے نوالوں سے لپٹ جاتے ہیں

جس گھڑی سر پہ کھڑی دھوپ ستاتی ہے انہیں
لوگ اشجار کے سایوں سے لپٹ جاتے ہیں

یہ بھی دیکھا ہے یہاں جھوٹی انا کی خاطر
لوگ فرسودہ رواجوں سے لپٹ جاتے ہیں

کتنے معصوم صفت عاجز و لاچار سراج
تنگ دستی میں گناہوں سے لپٹ جاتے ہیں

((( غزل ))) 2

تمہاری ذات سے مجھکو لگاؤ ہے اب تک
تمہاری سمت ہی دل کا جھکاؤ ہے اب تک

ندی میں پیار کی یکساں چڑھاؤ ہے اب تک
وہی ہے شوق وہی دل میں چاؤ ہے اب تک

جو ایک روز تری بے رخی نے بخشا تھا
ہمارے دل میں سلامت وہ گھاؤ ہے اب تک

وہ جس میں پیار کا ہم نے سفر کیا تھا کبھی
ندی کنارے وہ پیاری سی ناؤ ہے اب تک

کیا تھا وعدہ جہاں تم نے مجھ سے ملنے کا
اسی مقام پہ میرا پڑاؤ ہے اب تک

جو گیت گائے تھے مل کر ابھی ہیں یاد مجھے
محبّتوں کا وہی رکھ رکھاؤ ہے اب تک

ہمارا پیار بلی جن روایتوں کی چڑھا
مرے سماج میں وہ بھید بھاؤ ہے اب تک

سراج ہم کو تو اس نے بھلا دیا لیکن
ہمارے دل میں وفا کا الاؤ ہے اب تک

((( غزل ))) 3

ایک شعلہ مری نس نس میں بھڑک جاتا ہے
جب کوئی بھوک سے بے حال پھڑک جاتا ہے

جب صلیبوں سے صدا دیتا ہے منصور کوئی
آسماں ہلتا ہے کوہسار تڑک جاتا ہے

میری خودّار طبیعت کی روانی مت پوچھ
میں وہ پیاسا ہوں جو دریا کو جھڑک جاتا ہے

اس قبیلے کی کبھی خیر نہیں ہو سکتی
جس کا سردار تکبّر سے مُڑک جاتا ہے

ایک گلزار ہے کرتا ہے جو قطرے کو سلام
ایک صحرا ہے سمندر کو جھڑک جاتا ہے

پھر کوئی راستہ دشوار نہیں ہوسکتا
شعلہ ءعش اگر دل میں بھڑک جاتا ہے

کتنی حسّاس طبیعت لئے بیٹھا ہوں سراج
ہو پریشاں کوئی دل میرا دھڑک جاتا ہے

((( غزل ))) 4

بڑی مشکل سے راحت کا کوئی رستہ نکلتا ہے
پہاڑوں کا کلیجہ چیر کے دریا نکلتا ہے

مری تشنہ لبی پہچان لیتی ہیں چٹانیں بھی
جہاں ایڑی رگڑتا ہوں وہیں چشمہ نکلتا ہے

نکل جاتے ہیں بچکر خون کے رشتے بھی مفلس سے
مگر زردار سے سب کا یہاں رشتہ نکلتا ہے

مسیحائی کا دعوٰی گر ترا سچّا ہے تو بتلا
مرا ہر زخم کیوں کر دن بہ دن گہرا نکلتا ہے

تمہاری کوٹھیوں کے سائے میں دل ٹوٹ جاتے ہیں
ہمارے چھپّروں سے پیار کا رستہ نکلتا ہے

چلے آئے ہیں شاید ہم سرابوں کے زمانے میں
بھروسہ کرتے ہیں جس پر وہی دھوکہ نکلتا ہے

جہاں شیطانیت ذہنوں پہ انسانوں کے چھاجائے
نئے فتنے جگانے کو نیا شوشہ نکلتا ہے

چھپا ہے دردِ ملّت گر ترے دل میں مرے رہبر
ہر اک سازش کے پیچھے کیوں ترا چہرہ نکلتا ہے

((( غزل ))) 5

میں جس کے واسطے سب سے لڑا تھا
وہی حزب ِ مخالف ہیں کھڑا تھا

برا جب وقت مجھ پر آپڑا تھا
اکیلا شان سے تب بھی کھڑا تھا

میں اپنی ذات میں سمٹا کھڑا تھا
مرا سایا مرے قد سے بڑا تھا

جو اپنے وقت کا تھا شاہذادہ
مری چوکھٹ پہ سائل سا کھڑا تھا

اب اس کے نام کا لنگر ہے جاری
جو ساری عمر فاقوں سے لڑا تھا

تڑپ رنج و الم حسرت تمنّا
مرے کشکول میں کیا کیا پڑا تھا

مری تقدیر میں تھا غرق ہونا
محبّت کا سفر کچّا گھڑا تھا

سراجِ وقت نے جب ساتھ چھوڑا
اندھیرا جابجا بکھرا پڑا تھا

((( غزل ))) 6

زمیں شعلے اگلتی ہے ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
جہاں مظلوم کی آہوں کے دھارے پھوٹ جاتے ہیں

پلٹ جاتی ہے کشتی اور کنارے ٹوٹ جاتے ہیں
وہ بے کس کیا کریں جن کے مقدّر پھوٹ جاتے ہیں

پرائے تو پرائے ہیں پرایوں سے شکایت کی
کوئی اپنا دغا دے تو بھروسے ٹوٹ جاتے ہیں

یہاں سونے کی زنجیروں سے بنتا ہے ہر اک رشتہ
یہاں نادار کے بچوں کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں

کوئی رزقِ حلالی کا مزہ مزدور سے پوچھے
جسے سردی کے موسم میں پسینے چھوٹ جاتے ہیں

مرا صبر و تحمّل سب مجھے بیکار لگتا ہے
مری آنکھوں میں جب غم کے سمندر ٹوٹ جاتے ہیں

جو گھبراتے ہیں دنیا میں مصیبت کے تھپیڑوں سے
وہ سالم ہو کے بھی اندر ہی اندر ٹوٹ جاتے ہیں

ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved