تازہ ترین  

غزل
    |     4 months ago     |    شاعری
غزل

خُوب سے خُوب  تر سا لگتا ہے
کوئے جاناں بھی گھر سا لگتا ہے
  
جس نے تُجھ کو  ذلیل کر دیا ہے
دِکھنے میں مُعتبر سا لگتا ہے
 
اِک تعلُّق نِبھایا زندگی بھر
پھر بھی وہ مختصر سا لگتا ہے!

 بات دل کی کہوں مَیں کیسے، دوست!
بات کہنے میں ڈر سا لگتا ہے

جسم نازک، مزاج ریشم سا
اور چہرہ قمر سا لگتا ہے

راہ تکتا نہیں ہوں جب اُس کی
کیوں  مُجھے منتظَر سا لگتا ہے؟

اسامہ زاہروی
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved