تازہ ترین  

معروف ڈرامہ نگار محسن علی سے گفتگو
    |     4 months ago     |    تعارف / انٹرویو
اسلام و علیکم محسن علی صاحب
و علیکم السلام مدیحہ صاحبہ
س-ڈرامہ سیریل ایسی ہے تنہائی کی کہانی کا پلاٹ کیسے ذہن کے پردے پر نمودار ہوا؟
ج-ایسی ہے تنہائی کا انیشل پلاٹ بدر محمود نے سوچا بدر جو اس ڈرامہ کے ڈارئکٹر تھے ..پھر ہم ساتھ بیٹھے اور اس کو مزید بہتر کرتے گئے اور وہ بنتی گئی۔
س-ریپ جیسے موضوع پر قلم اٹھاتے وقت کیا احساسات تھے؟
ج-بنیادی طور پر اس طرح کے جو بھی ایشوز ہوتے ہیں جیسے ریپ ہوگئے طلاق ہوگئی اسطرح کے موضوع پر لکھتے ہوئے احساسات سے زیادہ ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے ۔اگر اس طرح کے موضوعات پر بات کرنی ہے تو وہ اس طریقے سے کی جائے کہ دیکھنے والوں کو اپنی فیملی کےساتھ دیکھتے ہوئے کوئی پریشانی نہ ہو اور جو مقصد ہے جو ایجنڈا ہے ..جو بات کہنی ہے وہ پوری طرح سے کہہ دی جائے ۔
س-خواتین کے حقوق کی بات کرنے والوں کو کیوں فیمینسٹ کا طعنہ سننا پڑتا ہے؟
ج-ہمیں عادت ہے لوگوں کو باکسز میں بند کرنے کی ---اور صرف فیمینسٹ کا ہی نہیں ،اگر کوئی آدمی مردوں کی بات کرے گا تو اسے میل شاونسٹ کہہ دیتے ہیں اور کوئی بات کرتا ہے عورتوں کے لئے تو فیمینسٹ ہو جاتا ہے اور اگر کوئی دین کی بات کرتا ہے تو ملا ہو جاتا ہے اگر کوئی دوسرے مذاہب کی بات کرتا ہے تو وہ سیکولر ہو جاتا ہے وہ تو ہماری عادت ہے مطلب ہمیں لو گوں کو باکسز میں ڈالنے کی ۔
س-جس معاشرے کے ہم باسی ہیں یہاں ریپ کی شکار عور ت کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ؟
ج-ہمارے معاشرےمیں مطلب ہمیں عادت ہے اب جیسا کہ میں نے کہا ہے اب جو وکٹم ہے اسے اور وکٹمائز کرتے ہیں کوئی خاص اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا عورتوں کو --اور صرف ایسا نہیں کہ مردوں کی طرف سے --ریپ وکٹم کے لئے عورتوں کے بھی اچھے جذبات نہیں ہوتے بحیثیت انسان ہم وکٹم کو وکٹمائز کر کے خوش ہوتے ہیں بالکل ہمارے ہاں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ۔
س-ریپ کی شکار بچیوں کے والدین کا رویہ ان کے ساتھ کیسا ہوتا ہے ؟
ج-بہت مشکل ہے جواب دینا میں میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ ان والدین کی طرف سے کمنٹ کر سکوں ان کو میسج یہی ہے کہ اس وقت آ پ کی بیٹیوں یا جو بھی رشتہ ہے وکٹم کا اسے اس وقت سب سے زیادہ آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ کہہ دینا بہت آسان ہے ہمارے معاشرے میں ---لیکن ان کا جو اپنا رویہ ہے ظاہر سی بات ہے معاشرہ ہمارے رویے کو اپناتا ہے تو وہ ایک ڈر بھی ہوتا ہے لیکن وہ اتنا سوشل برڈن ہے --اس پر کمنٹ کرنا بہت آسان ہو جائے گا لیکن جس پر گزرتی ہے وہ یہ بہتر سمجھتا ہے ۔
س-پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال کیا اثرات مرتب کر رہا ہے ؟
ج-سوشل میڈیا کے اثرات بہت مثبت بھی ہیں اور منفی بھی اور سوشل میڈیا کا کوئی قصور نہیں وہ بس ایک ٹول ہے جس میں ساری ذمہ داری انسانوں پر عائد ہوتی ہے جو استعمال کرتے ہیں اگرچہ میرے خیال میں بہت اچھا بھی ہے اور بہت برا بھی ۔
س-پاکستان میں روزانہ اوسطا کتنی خواتین ریپ کا شکار ہوتی ہیں ؟
ج- مجھے بالکل بھی فیکٹس کا آئیڈیا نہیں ہے کہ ہمارے ہاں وکٹم کا فیکٹ اینڈ فگرز یہ تو کوئی سرکاری ادارہ بتا سکتا ہے یا ایسی این -جی -اوز جو اس طرح کے فیکٹس کو جمع کرتی ہیں ۔
س-لکھاری کے لئے حساس موضوع پر لکھنا کتنا مشکل امر ہے ؟
ج-جیسے میں نے پہلے کہا کہ کسی بھی ایسے موضوع پر لکھنے کے لئے جو ذمہ داری ہے وہ بہت بڑی ہے اور کیونکہ آپ کمنٹ کر رہے ہوتے ہیں سوسائٹی کے اوپر تو آپ کو بہت زیادہ ذمہ دار ہونا پڑتا ہے کیونکہ آپ کی کہی ہوئی بات ٹیلی ویژن پر بہت سارے لوگ دیکھ رہے ہیں اور اس سے کچھ نہ کچھ متاثر بھی ہونگے اور ظاہر سی بات ہے ذمہ داری تو آتی ہے تو مشکل بھی ہوتی ہے۔
س-ہوس اور محبت میں کیا فر ق ہے؟
ج-یہ ایک لمبی دیبیٹ ہے اس کا جواب دینے کے لئے وہی بات ہے کہ آپ ہوس کس کو کہتے ہیں پہلا سوال تو یہ ہو گا -مجھے نہیں لگتا کہ ہوس کو خاص اس نوعیت میں دیکھیں جو ہمارے ہاں روایتی انداز ہے اس کو دیکھنے کا۔ اور بہر حال یہ دو الگ چیز ہے کیونکہ ان کی خصوصیت الگ ہے اور بہر حال ان کو جانچنے کا طریقہ الگ ہے۔ لیکن کیا ہے کیسے ہے یہ ایک لمبی بحث ہے ۔
س-ہمارے معاشرے میں اچھی بات کا موازنہ دوسرے معاشرے سے نہیں کیا جاتا لیکن جیسے ہی کچھ غلط ہو جائے تو اس بات کا موازانہ اٹھتے بیٹھتے کیوں کیا جاتا ہے دوسرے معاشرے سے کہ وہاں تو ہمارے معاشرے سے بھی زیادہ گند ہے ؟
ج-موازانہ کرنے کا ہمیں بہت شوق ہے اس لئے ہم ہر چیز کا موازانہ کرتے ہیں دوسرے ملکوں سے ۔۔۔یہاں تھوڑا سا میں آپ سے اختلاف کروں گا کہ دوسرے معاشروں میں گند ہم سے شائد کم ہی ہو فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اپنی روایت کے مطابق جسے گند سمجھ رہے ہیں وہ ان کے لئے گند نہیں ہے تو یہ معاشرتی ماحول پر قا ئم ہے ۔ہاں ہم متاثر ہیں بہت زیادہ ہی متاثر ہیں اورشائد یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی نہیں کر پارہے ۔ہماری روایت الگ ہے ہمارا رہن سہن الگ ہے ہمیں تو اپنے طور طریقے ڈھونڈنے پڑیں گے زندہ رہنے کے لئے اور ترقی کرنے کے لئے بجائے اس کے ہم کسی اور کو دیکھیں یا ان کی تقلید کریں ۔اور ان کو برا بھلا کہنےسے بھی کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ جہاں تک بات انسانی حقوق کی ہے یا بنیادی انسانی معاشرے کی ، جو ایک بہتر شکل کے طور طریقے ہوتے ہیں ویسٹ میں وہ بہت زیادہ ہیں ۔
س-اس معاشرے میں عورت کے لئے انصاف کا حصول کتنا مشکل امر ہے ؟
ج-میرا خیال ہے کہ انصاف کا حصول وہ واحد جگہ ہے جہاں پر عور ت اور مرد کا فرق ختم ہو جاتا ہاں امیر اور غریب کا فرق شائد رہ جاتا ہے ۔
س-اسلام نے جو حقوق عورت کے لئے مختص کئے ہیں آپ کے خیال میں کیا معاشرے نے وہ حقوق اسے دئیے ہیں ؟
ج-نہیں اسلام نے جو حقوق دئیے ہیں وہ عورتوں کو بالکل بھی نہیں ملے -اور میری ذاتی رائے یہ ہے کہ شائد عور توں کو وہ حقوق چاہیے بھی نہیں ۔عورتوں کے حقوق کا مسئلہ نہیں حقوق کیا ہیں مسئلہ یہ ہے ۔۔۔مغرب کی عورت آج حجاب کے لئے لڑ رہی ہے اور ہمارے ہاں کی عورت حجاب اتارنے
کے لئے لڑ رہی ہے ۔پہلے تو طے کر لیں کہ حقوق کیا ہیں ؟
کیونکہ میرا خیال ہے جو اسلام نے دئیے ہیں وہ عورتوں کو لینے میں کوئی دلچسپی نہیں ۔۔۔اپنا کھانا خود گرم کرو اس کی بڑی مثال تھی میرا خیال ہے کہ کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی مردوں کی طرف سے تو کوئی امید رکھنی ہی نہیں چاہیے اور عورتوں کی طرف سے بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی سوائے این جی اوز بنا کر فنڈ لینے کی ،پکچرز کھچوانے کی ،پبلسٹی کرنے کے۔۔۔ 52 فیصد خواتین کی اکثریت ہے اس ملک میں ۔مردوں سے زیادہ عورتوں کا قصور ہے کہ فوکس ہو جائیں طے کر لیں کہ کیا چاہیئے ۔لیکن مشکل ہے کیونکہ جن عورتوں
کو رول ماڈل بنایا ہوا ہے اگر ان سے حقوق لے کر بانٹ دئیے جائیں میرا خیال ہے کہ عورتوں کے حقوق کا مسئلہ ہی حل ہو جائے گا ۔
س-گھر سے باہر کسی نا خوشگوار واقعے پر بچیوں کو یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ خبر دار اگر باپ بھائی کو بتایا ور نہ خون خرابہ ہو جائے گا؟
ج-دہکھیں بات پھر وہی آ جاتی ہے کہ ہم نے اس معاشرہ کو پچھلے 50سال سے جس طرح پروان چڑھایا ہے وہاں پر بات کرنے کی پابندی کو ترجیح دی گئی ہے اور یہ صرف عورتوں تک محدود نہیں ہے. ۔چائلڈ ایبیوزڈ کے بچے بھی بول نہیں پاتے اور ان کو بھی چپ کروا دیا جاتا ہے اور عورتوں کو تو ویسے ہی چپ کروا دیا جاتا ہے کیونکہ وہ آپ کی عزت بھی ہیں نام نہاد ۔مسئلہ سارا یہی ہے کہ یہ معاشرہ پروان ہی دبائے جانے پر چپ رہنے اور اپنی آواز کو کم کرنے پر پروان چڑھا ہے تو ایسے معاشرے سے آپ کیا توقع کر سکتے ہیں مطلب یہ اور آل فیلئیر ہے یہ کمبائن فیلئیر ہے اس میں بھی مرد اور عورت سے باہر نکل کر دیکھنا ہو گا جو انسان کرتے ہیں اس معاشرے کے اندر اس کا یہی حال رہے گا جب تک اس گند کو صاف نہیں کیا جا سکتا اور 50سال کا جو گند ہے تو صاف ہونے میں وقت تو لگے گا ۔
س-مرد (باپ،بھائی،شوہر ،بیٹا) عورت کا محافظ ہے تو پھر عورت کیوں محفوظ ہوتے ہوئے بھی خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے کیوں نہیں بتا پاتی کہ مجھے فلاں مرد نے اسے میل آنکھ سے دیکھا ؟
ج-اس پر سوال یہ بنتا ہے کہ عورت کو ضرورت ہی کیوں ہے مرد کی خود کو محفوظ سمجھنے کے لئے ؟آپ اپنے آپ کو اس قدر مضبوط بنائیں کہ آپ کو ضرورت ہی نہ پڑے اور بہر حال ذمہ داری اگر معاشرہ کہتا ہے مرد کی ہے تو ٹھیک کہتا ہے ۔۔ ہے تو بالکل ہے ۔لیکن بات یہی ہے کہ جو یہ باتیں ہیں ۔۔۔ وہ بڑے ہی آئیڈیل ورڈز میں سمجھ آتی ہیں لیکن حقیقت کا ان سے دور دور تک تعلق نہیں ۔اور اس کا حل یہی ہے کہ عورت کو اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے کے لئے کسی مرد کا محتاج نہ ہونا پڑے اور سب سے پہلا حق جو عورتوں کے لئے حقوق کے لئے اگر بات ہوتی ہے تو یہ ہونا چاہیئے کہ آپ ان کو کم از کم ایک انیشل ایک بالکل پرائمری قسم کی سیلف ڈیفنس کی تربیت تو دیں ۔کیونکہ اس معاشرے میں جہاں قانون کمزور حالت اور انصاف کی بھی کمزور حالت ہی ہے تو یہی ہے کہ خود ہی دیکھنا پڑے گا اپنے آپ کو اس قابل کرنا پڑے گا کہ آدھے مسئلے خود ہی حل ہو جائیں گے بجائے اس کے کہ کسی کی طرف دیکھ کر کسی کا محتاج ہونے کے کی کوشش کی جائے کہ خود سے اس اس قدر مضبوط ہو جایا جائے کہ جواب دیا جا سکے ۔
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved