تازہ ترین  

علم العروض -- سبق نمبر8
    |     3 months ago     |    شاعری
حروفِ علت : ان سے مراد تین حروف ہیں ، واؤ ، الف ، یاء -- انگریزی میں انہیں واولز کہا جاتا ہے ۔اردو میں یہ زبر ،پیش اور زیر کی حرکات کے قائم مقام ہیں۔

آئیے باری باری اب تینوں حروف کے احکام مختصراً پڑھتے ہیں

-----------------

الف کا بیان:-

الف بطورِ پہلا حرف:-
ایک مصرع اگر ایسا ہو کہ اس میں کوئی ایسا لفظ جو مصرع کے آغاز میں نہ ہو تووہاں الف کا گرانا جائز ہے ۔اور ایسی صورت میں اسے الف موصولہ کہا جاتا ہے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ مصرع کے آغاز میں آنے والی کوئی الف الف موصولہ نہیں ہو سکتی۔

مثلا:-
ہم اُس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
اس الف کو "س" کے ساتھ ملا کر یوں بھی پڑھ سکتے ہیں ، ہمُس کے ---- الخ

اس گر جانے والے الف کو الف موصولہ کہتے ہیں ۔اور توجہ سے دیکھئے کہ یہ دوسرے لفظ کا پہلا حرف ہے

ہم نے اس سے پہلے یہ طے کیا ہے کہ الف اگر شروع کلمہ یا لفظ میں آئے بشرطیکہ وہ مصرع کا پہلا لفظ نہ ہو تو اسے گرایا جا سکتا ہے کیونکہ وہ خود گر کر اپنی حرکت اپنے سے پہلے حرف کو منتقل کر دیتا ہے ۔جیسے کہ "ہم"کی ساکن میم کے ساتھ ہوا۔
لیکن یہاں ایک اور بات سمجھنے کی ہے ۔الف ضروری نہیں کہ لفظ کا پہلا حرف ہی ہو ۔یہ پہلا،درمیانی یا آخری کوئی حرف بھی ہو سکتا ہے ۔تو پھر کیا ہو گا؟؟

الف بطورِ درمیانی حرف:-
سب سے اہم بات اس سلسلے میں یاد رکھنے والی یہ ہے کہ اگرالف کسی لفظ کے درمیان یا وسط میں واقع ہو تو اسے ماسوائے چند الفاظ کے ہرگز ساقط نہیں کیا جا سکتا ۔کیونکہ ایسا کرنے سے اس لفظ کی شکل اس طرح بدل سکتی ہے کہ اس کے معنی ہی بدل جائیں ۔ذرا تصور کریں ۔اگر لفظِ "حال" کا وسطی الف گرا دیا جائے تو وہ لفظِ "حل" میں تبدیل ہو جائے گا اور شعر یا تو مہمل ہو جائے گایا اس کے معانی ہی بدل جائیں گے. اسی طرح لفظِ جان ، سال ، دال ، وغیرہ ہیں

صرف کچھ الفاظ ایسے ہیں جن میں وسطی الف کو ساقط کرنے سے ان کے معانی نہیں بدلتے اور وہ الفاظ مندرجہ ذیل ہیں۔
گناہ سے گنہ
سیاہ سے سیَہ
راہ سے رہ
تباہ سے تبہ
اور
سپاہ سے سپہ پڑھا اور لکھا بھی جاتا ہے

بہر حال کسی بھی لفظ کے درمیانی الف کو گرانے کے سلسلے میں بنیادی اصول یہ یاد رکھئےے کہ اگر اس الف کو گرانے سے لفظ کی ہیئت اس طرح بدلتی ہو کہ اس کے معنی بدل جائیں تو اس کی قطعا اجازت نہیں ۔مثلاًایک لفظ ہے "کاہ" جس کا مطلب گھاس کا تنکا ہوتا ہے۔اس کا الف گرا دیا جائے تو وہ لفظ"کہ" میں تبدیل ہوجائےگاجو وضاحت کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس طرح کی صورتحال میں درمیانی الف کا گرانا ممنوع ہے۔

اوپر کچھ امثال درمیانی الف گرانے کی دی گئی ہیں ۔ان میں ایک بات نوٹ کیجئے کہ رہ،گنہ اور ان سے ملتے جلتے الفاظ میں جہاں الف گرایا گیا ہو ۔ہ مختفی کی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔

الف بطور آخری حرف:-
اس مقام پر آپ کو یہ علم ہونا چاہئے کہ مصدر کیا ہوتا ہے اور فعل کسے کہتے ہیں۔تب ہی آپ اس الف کو گرانے یا نہ گرانے کے بارے میں سمجھ سکیں گے۔

مصدر:-
کسی لفظ کی اصل بنیاد کو کہتے ہیں ۔جس سے اس لفظ کے افعال اور دیگر صیغے مشتق ہوتے ہیں۔اردو میں اس کی پہچان یہ ہے کہ جس لفظ کے آخر میں ( نا) آئے وہ مصدر کہلاتا ہے ۔مثلا ً :-
کرنا ،ہونا ،جانا، وغیرہ

فعل:-
اس کلمے کو کہتے ہیں جس میں کسی کام کا ہونا ،کرنا یا سہنا بہ اعتبارِ وقت پایا جائے۔مثلاً :-
کیا ، کرتا ہے ، کرے گا، کرے ، وغیرہ

مصدر اور فعل کی تعریف جان لینے کے بعد اب آپ آخری الف کے بارے میں یہ سمجھ لیں کہ یہ گر تو سکتا ہے مگر اس کا گرانا ناگوار اور ممنوع سمجھا جاتا ہے ۔مگر جب آپ مشق کریں تو بے شک گرا لیں مگر ایسا کرنا جائز نہیں سمجھا جاتا - اسے ان امثال سے سمجھنے کی کوشش کریں۔

مصدر میں الف بطور آخری حرف کی مثالی یہ دیکھیں کہ :-
خاک بھی ہوتا تو خاک در جاناں ہوتا۔

اس مثال میں پہلا والا "ہوتا" مصدری لفظ ہے جس کے آخر کا الف گرایا گیا ہے اور جو اب پڑھنے میں اگلے حرف کے ساتھ مل کر تتو کی آواز دے کر ناگوار فضا پیدا کر رہا ہے۔یعنی : خاک بھی ہو تَ تو خاک در جاناں ہوتا۔ یعنیٰ ہوتتو --- بن جاتا ہے

فعل میں الف بطور آخری حرف:-
مثلاً یہ جملہ دیکھیں :- "اس نےبھیجا ہے مرے خط کا جواب"
اس میں بھیجا کا لفظ فعل کو ظاہر کر رہا ہے ۔مگر جب بھیجا کا الف ساقط ہو گا تو اس کی آواز کچھ ایسے نکلے گی "اس نےبھیجَ ہےمرے خط کاجواب.

میرا خیال ہے کہ اب آپ اس بات کو سمجھ گئے ہوں گے کہ مصادر و افعال کا آخری حرف گرانا کیوں معیوب ہے ۔

--------------
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved