تازہ ترین  

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے پیش کرتے ہیں
    |     9 months ago     |    تعارف / انٹرویو

مختصر تعارف
نام: محمّد امین
قلمی نام: امین جس پوری
شہریت و مقام سکونت: جس پور/اتّراکھنڈ/بھارت
تاریخ پیدایش: 27 جولائی 1953ء
تعلیم: ایم اے(اردو،جرنلزم)
پیشہ:محکمۂ سے سبکدوش،پرنٹنگ، پبلشنگ، آزادانہ ادبی صحافت
رکن:ایکزیکیوٹو ممبر، اردو اکادمی صوبہ اتّراکھنڈ(بھارت)
مختف اخباراتم رسالوں میں اور ریڈیو اسٹیشن سے اور ٹی وی چینلس سے کلام
اکثر نشر ہوتا رہتا ہے۔
تصنیف و تدوین: آٹھ نصابی کتب برائے نصاب صوبہ اترا کھنڈ
فیس بک پر مختلف ادبی گروپس کے"موڈریٹر، اور ایڈمن
پروپرائٹر: تاج محل ،پرنٹنگ پریس
ای میل ایڈرس:tajmahal flex@gmail.com
غزل-1
دیدہ و دل ہیںتمہارے بھی خرابِ تشکیک
ہم بھی ہر گز نہیں محفوظِ عذابِ تشکیک
آ کے مجھ کو جو لگا سنگِ سوالِ تشکیک
کِھل اٹھے نطق پہ گُلہائے جوابِ تشکیک
مَیں نئی نسل کو کیسے یہ وراثت سونپوں
نام پہ کس کے میں لکھو ں یہ حسابِ تشکیک
انگلیاں کھّل کے سمٹ جاتی ہیں، دستک کے بغیر
وہم کی ساری فصیلوں میں ہیں بابِ تشکیک
معنی جنّات سے ہوتے ہیں برآمد، ایسے
استعارات پہ مبنی ہے کتابِ تشکیک
چاند سا،زخم سا، شعلہ سا کبھی چہرے سا
توڑ کے رکھوں کہاں میں یہ گلابِ تشکیک
خیمۂ جاںکب اکھڑ جائے ،مسافر چل دے
سلسلہ ہے یہ نفَس کا بھی طنابِ تشکیک
کوئی پیتا بھی نہیں ،ہاتھ سے رکھتا نہیں
ہے ایاغوں بھری سب کے شرابِ تشکیک
بزمِ ہستی کہ جو ہے اور نہیں بھی ہے ، امینؔ
آسماں کی یہ دھنک بھی ہے سرابِ تشکیک
غزل-2
پیچھے ہے مرے دشت تو صحرا مرے آگے
آئے گا جنوں میں ابھی کیا کیا مرے آگے
قدرت نے مجھے بخشا ہے عرفانِ عناصر
ہر قطرۂ شبنم بھی ہے دریا مرے آگے
رقصاں ہے لپک گلخنِ احساس میں میرے
ہے پارۂ برفاب بھی شعلہ مرے آگے
ہے حشر تلک جانے کا اک تنہا وسیلہ
ہستی میں اجل کا بھی یہ رستا مرے آگے
اک خواب ہے ہر آنکھ جسے دیکھ رہی ہے
اک نیند کے عالم میں ہے دنیا مرے آگے
میں واںکا نکالا ہوں توکیا جاؤں گا واپس
آیا بھی اگر پھر مرا پیچھا مرے آگے
خائف ہی نہیں اہلِ ستم روزِ جزا سے
بازیچۂ تہریس ہے عقبیٰ مرے آگے
اس چاند پہ غزلیں لکھوں صندل کے قلم سے
کھلتا نہیں اس کا رخِ زیبا مرے آگے
خوددار بلا کی ہے مری تشنہ لبی بھی
گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
غزل-3
میں سنگ زاد ہوں میرا کوئی بھی پیکر کھینچ
مجھے چٹان سے باہر اے میرے آزر کھینچ
کشید کرنے دے لذّت، ستم سے اپنے ابھی
جفا شعار! نہ سینے سے میرے خنجر کھینچ
ابھی تو لطفِ جراحت ہے روح پر طاری
ابھی نہ زخم سے جرّاح میرے، نشتر کھینچ
ان آئینوں سے بغاوت ہے کب تلک ممکن
سنور نگاہ میں ان کی، نہ ان پہ پتھّر کھینچ
یہ بے ردائی برہنہ تجھے بھی کر دے گی
کسی کے سر سے نہ چادر کبھی ستم گر کھینچ
تجھے شعور اگر ہے لے عقل کے ناخن
نہ مشکلات پہ گھبرا کے اپنے تیور کھینچ
ترے سخن پہ نہ حرف آئے اے مرے شاعر
کسی غزل کے بدن سے نہ کوئی زیور کھینچ
نہ ٹانگ کھینچ مری، زندگی! فریب نہ دے
"تو اپنی سمت مجھے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچ "
حقیقتوں سے بھی کر روشناس امینؔ ہمیں
نہ بات بات میں نقشے مرےسخنور کھینچ
غزل-4
قدیر میں تو اپنی تھے رنج و ملال درج
لیکن جہان میں ہم بھی ہوئے خوشخصال درج
دنیا صلیبِ ہجر پہ مجھ کو لئے پھری
نکلا مرے نصیب میں ربِّ وصال درج
جنگلات کی غذا جو بنا تھا ہی دھواں
چہرے پہ شہر بھر کے ہوا اشتعال درج
ماہ و نجوم تھے مرے حلقہ بگوش رات
سورج اُگا تو مجھ کو کیا ذوالجلال درج
اک زخمِ تازہ تھا وہ جگر پر غریب کے
شہرِ خرد نے جس کو کیا اندمال درج
تھی خود سپردگی میں نہاں اس کی مصلحت
اس کا وصال دل پہ ہوا انفصال درج
ہر شاخ پر لکھی تھی خزاں میں برہنگی
جوشِ نمو بہار میں تھا ڈال ڈال درج
ہر بال و خال نقش تھا زیبِ شباب میں
دیدہ وروں نے ان کے کئے چال ڈھال درج
کاذب، ہر آئینے کو نظر نے رقم کیا
ہر سنگِ رہ کو میں نے کیا خوش مقال درج
دام اجل سے دہر میں آزاد کب ہوا
دام اجل سے دہر میں آزاد کب ہوا
جنّت بدر کو میں بھی کروں یرغمال درج
میں بھی زمیں کا لقمہ بنا آخرش امینؔ
دل میں نہیں کسی کے مرا ارتحال درج
غزل-5
دشتِ تنہائی میں مجھ کو کیا ملی، موجِ خیال
دوٗر تک مجھ کو بہا کر لے گئی موجِ خیال
زندگی کی سرحدوں سے لا مکاں تک جائے گی
جمع کر کے لائے گی پھر آگہی موجِ خیال
گھوم لے گی حادثوں کے شہر کی اک اک گلی
پھر ہمیں سکھلائے گی مشّاطگی موجِ خیال
وصل سوغات سے محروم رکھّے جائیں گے
طفل کی صورت ہمیں بہلائے گی موجِ خیال
اس کو بھی کر دے گی شامل ،سلطنت میں دھوپ کی
جس جگہ پا جائے چھاؤں گھنی موجِ خیال
تجھ کو بھی اک سمت بڑھنے کا اشارہ تو ملا
تیرے کام آئی مری آوارگی موجِ خیال
اس تعصّب کی فضا کو دیکھ کر کچھ تو بتا
کس کے ہونٹوں پر بچے گی ،کل ہنسی ،موجِ خیال
کب تلک سوتے رہیں گے حکمرانوں کے ضمیر
اور کب انساں بنے گا، آدمی، موجِ خیال
کون اس کے لب پہ دے گا بوسے کی دستک، ا مینؔ
تھک کے جس دم اوڑھ لے گی خامشی موجِ خیال
غزل-6
غفلتوں پر حکمراں، اے ساعتِ بیدار کُن
ہے کہاں جائے اماں، اے ساعتِ بیدار کُن
اے مشیّت! کوئی ؐمژدہ،قلب پر الہام کر
زندگی ہے سر گراں، اے ساعتِ بیدار کُن
منکشف کر مجھ ہی بھی ملکِ معانی کے رموز
کر عطا حسنِ بیاں، اے ساعتِ بیدار کُن
زندگی میں سایۂِ حسنِ عمل کے واسطے
سبز رکھ برگِ گماں، اے ساعتِ بیدار کُن
بے بضاعت ہو عطا کر علم و عرفاں کی کلید
اے خرد کی پاسباں، اے ساعتِ بیدار کُن
تو عدم سے آتی ہے ہستی میں، تیرے بعد بھی
کیوں ہے دانش کا زیاں، اے ساعتِ بیدار کُن
عہدِ نو کے حلقۂ دانشوراں کے واسطے
کوئی تنبیہِ تپاں، اے ساعتِ بیدار کُن
اٹھ چکی اعصاب سے اب حکمرانی ذہن کی
کیا سمیٹوں رختِ جاں، اے ساعتِ بیدار کُن
آتے ہی رخصت ہوئی،رکھ کر کفِ ادار ک پر
شوشۂ سودو زیاں، اے ساعتِ بیدار کُن
اب کفِ افسوس مَلتا، ڈھونڈھتا پھرتا ہوں مَیں
تیرے قدموں کے نشاں، اے ساعتِ بیدار کُن
جب ہَوا ہو منزلِ مقصود کی جانب رواں
کھول میرا بادباں، اے ساعتِ بیدار کُن
گاہے گاہے میری خاطر تحفۂ عقل و شعور
باز کر سرِّ نہاں، اے ساعتِ بیدار کُن
منتظر دستک کا ہے یہ چشمۂ ادارک بھی
رہبرِ ہر جسم و جاں، اے ساعتِ بیدار کُن
دستِ نادیدہ سے چھُو،پگر مطلعِ احساس کو
جاگ اٹھّے دشتِ جاں، اے ساعتِ بیدار کُن
****************************************
امین جس پوری(مقام جس پور) بھارت






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved