تازہ ترین  

تمھاری آنکھوں میں کانٹے ہونگے
    |     6 months ago     |    شاعری
ایک راستہ سمجھ کر ،میں یہ کیا کر رہا تھا
دن رات مشقت کررہا تھا
بڑھ بڑھ کرکانٹے چن رہا تھا
مگر یہ کیا کہ یہاں توکانٹوں سے اٹی
انگنت راہیں ہیں اور ان پر لگی انگنت آنکھیں ہیں
انگنت زبانوں میں انگنت باتیں ہیں
میری تو بہت مختصر سی جھولی ہے
جوبہت جلد بھر جائے گی
تن پر جو پیرہن ہے ان کانٹوں میں الجھ کر تار تار ہوجائے گا
مختصر زاد راہ کم ہوتے ہوتے ختم ہوجائے گا
اس خار زار راستے پر کوئی نہیں آتا
تمھیں اٹھانے بھلا کون آئے گا
بھلا کون تمھاری ٹوٹتی ہمت بندھائے گا
بدن کٹتا جائے گا، زخموں سے بہتا لہوخشک ہوجائے گا
مگر یہ تو تم بھی جانتے ہو
نا تو یہ کانٹے ختم ہونگے اور نا ہی یہ باتیں تمام ہونگیں
ہاں آنکھیں بند ہونگی
جو تمھاری بھی ہونگی اور ہماری بھی ہونگی
تمھاری آنکھوں میں زمانے بھر کے کانٹے ہونگے
ہماری آنکھوں میں سہانے سپنے ہونگے ۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved