تازہ ترین  

۔۔گلے پڑگٸی۔۔
    |     3 months ago     |    طنزومزاح
???? گلے پڑگئ????
میری عمر گیارہ سال کی ہو گی۔جب میں قرآن مجید حفظ کررہا تھا۔دوران حفظ مدرسے کی چھٹی کرانے کیلئے شیطان طرح طرح کی شرارتیں اور نت نئی تدبیریں سمجھاتا تھا۔ایک دن مدرسے جانے کے بعد چھٹی سے پہلے ہی گھر جانے کا شدت سے میرا دل چاہا۔ویسے عموما چھٹی تو عشا کے بعد ہوتی تھی۔لیکن اس سے پہلے شام کے وقت قریبی گراونڈ میں کھیلنے جایا کرتے تھے۔اس دن جب میں گراونڈ میں کھیلنے کیلئے نکلا تو راستے میں ایک پتلی گلی میں جا کر چھپ گیا۔یوں ایک مرحلہ تو میں نے سوچا کہ گھر کس منہ سے جاؤں۔یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیوں میں اپنے والد محترم سے بہت ڈرتا تھا۔میرے والد محترم کی اللہ پاک عمر دراز فرمائے۔خیال اتنا رکھتے کہ سونے کا نوالہ کھلاتے ،لیکن دیکھتے شیر کی آنکھ سے تھے۔خیر ذکر چل رہا تھا جناب محترم میں آپ صاحب کی شرارتوں کا۔تھوڑی ہی دیر میں شرارت آمیز تدبیر سوجھی جس سے خوف جاتا رہا اور میں مطمئن ہو کر گھر کی طرف چل نکلا۔وہ تدبیر کچھ یوں تھی ذرا آپ بھی ملاحظہ کیجئے کہ گھر کی قریب سڑک کے کنارے جو گندا پانی کھڑا ہوا ہے کسی راہ گیر سے ٹکرا کر گندے پانی میں جا گرنا ھے۔اور پھر گھر والوں کو اپنا حال دکھا کر چھٹی کا جواز پیش کرنا ھے۔خیر پھر چلتے چلتے گھر کے قریب پہنچا اور ذرا دور سے وہ گندا پانی نظر آیا تو میں نے پوری قوت سے بھاگنا شروع کیا۔اور کپڑے بچاتے ہوئےگزرتے ایک راہ گیر سے زور سے ٹکرایا بالآخر کیچڑ میں جا گرا۔
گرتے ہی مصنوعی غصے کے ساتھ اٹھ کر جب کھڑا ہوا اور جب اس راہ گیر کی طرف دیکھا تو جناب محترم میرے تو اوسان ہی خطا ہو گئے۔میں بد ہواس ہو گیا اور پھر ایک زناٹے دار تمانچہ رسید ہوا جس کا میں سو فیصد حق دار تھا۔کیوں کہ جن صاحب سے میں ٹکرایا تھا وہ ہستی کوئی اور نہیں بلکہ میرے والدمحترم ہی تھے۔ہائے اللہ! میری شرارت میرے ہی گلے پڑ گئی۔کان سے پکڑ کر مجھے گھر لایا گیا۔مجھ پر مقدمہ چلا اور پھر کئی طرح کی سزائیں سنائی گئیں۔
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved