تازہ ترین  

میں کس کے ہاتھ میں اپنے مسائل کا حل تلاش کروں
    |     5 months ago     |    کالم / بلاگ



وطن عزیز اس وقت تاریخ کے بد ترین دور سے گزار رہا ہے قوم معاشی مسائل کا اذیت بھرا سفر ستر برسوں سے کر رہی اس قوم کو ستر برسوں سے ایسے مسیحاکی تلاش ہے جو ملک و قوم کا درد ر کھتا ہو جو اس ملک و قوم کو خوشحالی کی جانب گامزن کرنے والا ہو جس کے دل روز آخرت جوابدائی کا خوف ہو جس نے کبھی غربت میں اپنی زندگی کا ایک دن بھی گزار ہو جس نے کبھی غربت کی تکلیف کا مزہ لیا ہو جس نے کبھی ہسپتالوں کی لمبی لمبی قطا روں کی تکلیف اپنے معصوم بچوں کے علاج کے لئے برداشت کی ہو جس نے برسات اور طوفان کی اذیت کو برداشت کیا ہو جس نے نبی ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگی کا سفر طے کیا ہو آج وطن عزیز کو ایک ایسے محب وطن ملک و قوم کا درد رکھنے والے حکمران کی اشد ضرورت ہے آج ہمارے پاس بزنس مین وڈیرے زمیندار حکمران ایک جگہ تو دوسری جگہ آکسفرڈ سے تعلیم یافتہ سیاستدان ہیں جنھوں نے پاکستان کی سیاست میں بے حیائی اور نازیبا زبان کا بھر پور استعمال کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کتنے مہذب تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان سیاستدانوں نے آج قوم کو اس ملک کے معزز اداروں کو تعصب کی اسی فضاء میں مبتلا کر دیا ہے کہ آج معزز ادارے میڈیا ہاوسز ہر ایک پارٹی بنا ہوا ہے جس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے کہ آخر کیا ہونے والا ہے صیح غلط کا فرق کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے آج ملک بھر میں احتساب کا شور مچا ہوا ہے جس سے غریب مسائل زدہ عوام کا کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر اس احتساب کی سزا گذشتہ دوسال سے عوام بھگت رہے ہیں ہر پاکستانی اس اُمید پر اپنی زندگی گزار رہا ہے کہ کب میاں صاحب کا فیصلہ ہو اور کب خان صاحب وزیر اعظم بن کر تبدیلی کی حقیقی تصویر پیش کریں اور کب ہم چین اور امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر اگلے پانچ سالوں میں دنیا کی سپر پاور بنے اس وقت ملک میں جاری احتساب کے عمل نے لوگوں کو اس خواب میں مبتلا کیا ہوا ہے اس ملک کے ایوانوں میں جہاں غریب کے مسائل کے حل کے لئے کوشش کی جانی چاہے وہاں بھی یہ بے حیث جاری ہے کہ اپ اقتدار پر کس کی واری ہے
یہ قوم اگلے عام انتخابات کی جانب بڑھ رہی ہے اس اُمید پر کہ کیا اس بار کوئی مخلص محب وطن قوم کا درد رکھنے والا مسیحا اس وطن عزیز کو نصیب ہوسکے گا کیا اس قوم کے مسائل حل ہوسکیں گے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج تک پاکستان کو نہ ہی کوئی دبنگ سیاستدان نصیب ہوسکا ہے نہ ہی کوئی جنرل اور نہ ہی کوئی جج اس ملک کے یہ تین اہم ستون بد قسمتی سے خود خود کنٹورسی کا شکار رہے ہیں اس ملک کو کبھی کرپٹ سیاستدانوں نے تو کبھی فوجی آمروں نے تو کبھی اس ملک کے آئین کے محافظوں نے نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے آج ہمارا ملک اور اس ملک کا نوجوان طبقہ مایوسی کی تصویر بنا ہوا ہے آج ہمارے مفاد پرست حکمران ذاتی مفادات کے حصول اور اقتدار کی حواس کی خواہش میں 2018کے الیکشن کی جانب بڑے بڑے جھوٹے دعوؤں کے ساتھ پُرجوش نظر آرہے ہیں مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ فرعون حکمران اس مسائل زدہ قوم کے مسائل کو حل ہی نہیں کرنا چاہتے یہ حکمران صرف دولت بنانا جانتے ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے ان حکمرانوں نے تو کرپشن کرنے میں اس ملک کے بانی کو بھی نہیں بخش اس ملک کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر ٹکٹ لگا کر ہر ماہ کروڑوں روپیہ عوام سے وصول کیا جاتا ہے ستر برسوں میں ان حکمرانوں معزز اداروں نے اس قوم کے نوجوانوں کو کیا دیا ہے یہ تمام لوگ مل کر بھی اس قوم کو ایک اچھا ملک نہیں دے سکے ہیں آج اس ملک کی جیلوں میں ہزاروں بے گناہ لوگ کیس نہ چلنے کی وجہ سے سزا کاٹ رہے ہیں سول عدالتوں کا نظام درست سمت پر گامزن نہیں ہے جس پر کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا پولیس اصلاحات میں بہتری لانے کے لئے کوئی توجہ نہیں دی جاری محافظ ہی عوام کے لئے دہشت کی علامت بنے ہوئے ہیں ہسپتالوں میں طبی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے عوام پریشانی کا شکار ہیں پرائیوٹ اسکولوں کی طرح پرائیوٹ ہسپتالوں میں بھی غریب کا علاج ممکن نہیں بے رو زگاری اس ملک کی سب سے بڑی لعنت ہے جس کی وجہ سے نوجوان جرائم کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں میڈیا کی بے حیائی نے نوجوانوں لڑکیوں کو بے راروی کی جانب دھکیل رہی ہے اور اس بڑھتی ہوئی بے حیائی کی وجہ سے ذیاتی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس پر آج تک کسی بھی جانب سے ازخود نوٹس نہیں لیا جارہا بڑے ادارے بڑے لوگوں کے مسائل اور وسائل کے کام میں مصروف ہیں 20 کروڑ سے زائد اس قوم کا کوئی پرسانحہ حال نہیں افواج پاکستان دہشت گردی کا خاتمہ چا ہتی ہے تو معزز سپریم کورٹ کرپشن کا خاتمہ چاہتی ہے سیاستدان اس ملک کا اقتدار چاہتے ہیں مگر کوئی بھی نچلی سطح پر پھیلے ہوئی عوام کے بنیادی مسائل کا حل نہیں چاہتا بجلی پانی بے روزگاری مہنگائی جیسے مسائل پر نوٹس تو لیا جاتا ہے مگر آج تک ان مسائل کو حل نہ کرنے والوں کو سزا نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ مسائل آج تک حل کی جانب گامزن نہیں ہوسکے ہیں ایک عام آدمی کی رسائی ایک MNA تک نہیں ہے تو پھر معزز اداروں کے سربراہاں تک عوام کی آواز کیسے ممکن ہوسکتی ہے میڈیا پر چلنے والی ایک برینگ نیوز پر نوٹس لیے جانے سے 20 کروڑ عوام کے مسائل کو حل کرنے کا دعوی نہیں کیا جاسکتا آج جو احتساب کے نام پر سیاستدانوں اور ادروں میں جنگ جاری ہے اس فائدہ عوام کو حاصل نہیں ہوسکتا ستر برسوں میں نہ ہی سیاستدانوں نے اس قوم کو کچھ دیا ہے اور نہ ہی عدلیہ بحالی کی تحریک نے سول عدالتوں کی حالت زار کو بہتر بنانے میں کوئی کردار ادار کیا ہے انصاف کی تلاش میں غریب کل بھی مایوس تھا اور آج بھی نااُمید ہے اس وقت وطن عزیز کی بد قسمتی ہے کہ ہم آج بھی محب وطن مخلص قیادت سے محروم ہیں یہ قوم سیاسی فرعونوں سے تو نااُمید تھی ہی مگر معذرت کہ ساتھ آج یہ قوم معزز اداروں کے سربراہان سے بھی نااُمید نظر آتی ہے ہم کرنٹ مسائل پر تو نوٹس لیتے ہیں مگر ستر برسوں سے پھیلے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی شاید کسی میں ہمت و طاقت نہیں ہے جو اس ملک و قوم کی بد بختی ہے آج یہ قوم سوال کرتی ہے۔ میں کس کے ہاتھ میں اپنے مسائل کا حل تلاش کروں
ہر ایک اپنے دور میں ارباب اختیار تھا 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved