تازہ ترین  

ننھا میاں سفر کو نکلا
    |     4 months ago     |    گوشہ اطفال
بہت پرانی بات ہے افریقہ کے مشہور جنگلوں میں سے ایک جنگل میں بہت سے خرگوشوں کے خاندان آباد تھے ، جہاں بہت سارے خرگوش امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزار رہے تھے ۔ان خرگوشوں میں ایک ننھا خرگوش بھی تھا یوں تو بہت سارے چھوٹے خرگوش تھے لیکن یہ ننھا خرگوش اپنی شرارتوں کی وجہ سے پورے جنگل میں ننھے میاں کے نام سے مشہور تھا ۔
ننھے میاں کو سفر کرنے کا بہت شوق تھا ،جب اس کے امی ابو کہیں باہر جاتے تو ننھے میاں کو باہر نکلنے کا موقع مل جاتا اور وہ بہت دور تک نکل جاتا لیکن اپنے امی ابو کے لوٹنے سے پہلے ہی واپس آجاتا ۔
کئی بار اسے اپنی امی نے سمجھایا تھا کہ اپنے بڑوں سے پوچھے بغیر باہر نہيں جانا چاہئیے لیکن ننھے میاں کے ذہن میں یہ بات کہاں بیٹھتی وہ تو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا تھا ۔
ایک دن ننھے میاں کے امی ابو نزدیکی کھیت سے گاجریں لینے گئے ہوئے تھے اور ننھا میاں گھر میں اکیلا تھا ، یکایک اسے لمبے سفر کا خیال آیا اور وہ سفر کو چل پڑا ۔
چلتے چلتے ننھا میاں بہت دور نکل گیا ۔اب تو اسے بھوک بھی ستانے لگی اور اندھیرا بھی چھانے لگا ۔
ننھا میاں اپنی بھوک مٹانے کےلئے آس پاس کوئی کھیت تلاش کرنے لگا کیونکہ جس جگہ پر وہ پہنچ چکا تھا وہاں تو صرف جھاڑیاں ہی جھاڑیاں تھیں وہ گھاس کھانے کےلئے نیچے منہ مارتا تو اسے کانٹے چبھتے ۔
ننھا میاں اچھل کود کرتا ہوا ایک کھیت میں پہنچ گیا جہاں صرف گاجریں ہی گاجریں تھیں ۔اب تو ننھے میاں کی عید ہوگئی اس نے جی بھر کے گاجریں کھائی اور وہاں سے آگے نکل گیا ۔
چلتے چلتے اسے درخت کے پیچھے سے کوئی چیز نظر آئی ۔ ننھا میاں اچانک وہاں رک گیا اور درخت کی سمت دیکھنے لگا ۔بہت دیر تک دیکھنے کے بعد بھی وہ اندازہ نہ لگا سکا کہ کیا چیز ہے جو ہل رہی ہے کیونکہ اندھیرے کی وجہ سے اندازہ لگانا مشکل تھا ۔
ننھے میاں نے پہلے کچھ سوچا اور پھر درخت کی جانب چل پڑا ۔
وہاں پہنچ کر اس کے ہوش اڑ گئے کیونکہ اس درخت کے نیچے ایک بڑا سا سانپ پڑا تھا ۔
ننھا میاں بھاگنے ہی لگا تھا کہ سانپ نے اسے بڑی دم کی مدد سے جکڑ لیا ۔
"سانپ ماموں مجھے جانے دیں آپ کی مہربانی ہوگی"ننھے میاں نے ڈرتے ہوئے کہا ۔
"ایسے کیسے جانے دوں بڑی مشکل سے تو شکار ملا ہے تمہیں پتا ہے میں کل سے بھوکا ہوں"اندھیرے میں سانپ کی آواز سنائی دی۔
"اگر آپ مجھے جانے دیں تو میں آپ کےلئے کسی اور شکار کا بندوبست کر دوں گا "ننھے میاں کی آواز بھی مشکل سے نکل رہی تھی ۔
"کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔اور شکار کا بندوبست کہاں سے کرو گے ؟"سانپ نے پوچھا ۔
"مطلب یہ کہ میں کسی بھی شکار کو چالاکی سے آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں"ننھے میاں نے ہمت کر کے کہا ۔
"اگر تم کسی ہرن کے بچے کو لے آؤ تو پھر میں تمہیں چھوڑ سکتا ہوں "سانپ نے کہا ۔
"ٹھیک ہے میں کسی ہرن کے بچے کو آپ تک پہنچا دوں گا ابھی آپ مجھے جانے دیں "ننھے میاں نے بات بڑھائی ۔
"اگر صبح تک کوئی شکار نہ آیا تو پھر تمہاری خیر نہيں "سانپ نے کہا اور ننھے میاں کو آزاد کردیا ۔
ننھے میاں نے آزادی پاتے ہی دوڑ لگادی اور بہت دور جا کر ایک جگہ سو گیا ۔
جب صبح اس کی آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ اس کے سامنے شیر میاں سو رہے ہیں۔وہ چپکے سے جانے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے اسے شیر نے پکڑ لیا اور کہا :"کہاں بھاگ رہے ہو خود کو چالاک سمجھتے ہو کیا "۔
ننھا میاں کانپتے ہوئے بولا : "شیر ماموں معاف کر دیں مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ یہاں سورہے ہیں"۔
"نہیں معلوم تھا تو پھر تم یہاں کیسے آئے ؟"شیر نے گرج دار آواز میں کہا ۔
"وہ دراصل بات یہ ہے کہ میں اندھیرے کی وجہ سے یہاں آکر ایک سانپ کے ڈر سے سو گیا "ننھے میاں نے جلدی سے جواب دیا ۔
"سانپ کے ڈر سے ۔۔۔۔۔۔سچ سچ بتاؤ آخر بات کیا ہے "شیر نے کہا اور ننھے میاں نے اسے ساری داستاں سنادی ۔
"میں تمہیں ایک شرط پر چھوڑ سکتا ہوں "شیر نے کہا ۔
"کیا شرط ہے ، آپ جو شرط بھی کہیں گے مجھے منظور ہے"ننھے میاں نے اپنی جان بچانے کےلئے جلدی سے کہا ۔
"شرط یہ ہے کہ تم سانپ کے بجائے مجھے ہرن کا بچہ شکار کے طور پر لادو اور میں تمہیں صحیح سلامت تمہارے گھر پہنچا دوں گا "شیر نے کہا تو ننھے میاں نے یہ شرط مان لی اور وہاں سے آزادی پا کر آگے نکل گیا ۔
ننھا میاں ہرن کے بچے کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے بہت تھک گیا اور اسے بھوک بھی ستانے لگی ۔
ننھا میاں آرام کرنے کے اردے سے درخت کے نیچے لیٹنے ہی لگا تھا کہ چونک پڑا ۔اس کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے ہرن کے بچے پر پڑی جو اپنے ہی کھیل میں مصروف تھا ۔
ننھے میاں نے پہلے سوچا کہ بھاگ کر شیر کو بلا لائے پھر وہ خود چھلانگیں لگاتا ہوا ہرن کے بچے کے نزدیک پہنچا اور نرمی سے بولا : "پیارے بھائی کیا میں بھی آپ کے ساتھ کھیل سکتا ہوں "۔
"کیوں نہیں بھیا بالکل آپ میرے ساتھ کھیل سکتے ہو اور ویسے بھی میرا کوئی دوست نہیں اس لئیے ہم دونوں آج سے دوست ہیں "ننھے ہرن نے خوشی سے کہا ۔
کھیل ہی کھیل میں ننھا میاں ہرن کے بچے کو شیر کے پاس لے جانے کی کوشش کررہا تھا ۔
ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے ننھا میاں اور ہرن کا بچہ بہت دور نکل آئے ۔
اچانک ہی انہیں سامنے سے بھیڑیا آتا دکھائی دیا ۔ہرن کے بچے نے ننھے میاں کو اپنے اوپر سوار کیا اور تیز تیز چھلانگیں لگاتا ہوا بہت دور نکل آیا ۔ اب انہیں بھیڑیے کا کوئی خطرہ نہیں تھا اس لئے ہرن کے بچے نے ننھے میاں کو نیچے اتار دیا اور اسے اپنے گھر لے گیا ۔
ننھے میاں نے ہرن کی سچی دوستی کو دیکھا تو اپنی غلطی پر نادم ہوا اور اس نے ہرن کے بچے کو ساری بات بتا کر معافی مانگ لی۔ہرن کے بچے نے ننھے میاں کو معاف کردیا اور اسے اپنے والدین کی مدد سے گھر پہنچانے کا وعدہ بھی کیا ۔
ننھے کو اب اپنے امی ابو بہت یاد آرہے تھے اس لئے اس نے ہرن کے بچے سے گھر جانے کی بات کی ۔
ہرن کے بچے نے اسے اپنے والدین کی مدد سے گھر پہنچا دیا ۔
ننھا میاں گھر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی امی اس کے غم میں بہت بیمار ہوچکی ہیں ۔ننھے میاں نے اپنے امی ابو سے وعدہ کیا کہ وہ کبھی بھی بغیر بتائے گھر سے باہر نہیں نکلے گا ۔
اب ننھا میاں گھر میں اکیلے رہنے سے بھی گھبراتا تھا کیونکہ اس کے ننھے ذہن میں شیر اور سانپ کے خوفناک خیالات سرگوشیاں کرتے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( حسنات احمد چوہان )





Comments

There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved