تازہ ترین  

سول عدالتوں پولیس نظام اور جیلوں کی حالت زار ذمہ دار کون
    |     1 month ago     |    کالم / بلاگ
 


یہ ہماری بد بختی ہے کہ ستر برس گزار جانے کہ با وجود ہم وطن عزیز کے معزز اداروں سمیت کسی بھی قومی ادارے کو درست سمت پر گامزن کرنے میں ناکام رہے ہیں ستر برس میں پاکستان کا اقتدار دو حصوں میں تقسیم رہا ۳۵ برس جمہوریت تو ۳۵ برس آمریت نے اس ملک کو چلایا مگر دونوں ہی دھڑے ناکام رہے کبھی سیاستدانوں نے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر اس ملک کی جھڑوں کو نقصان پہنچایا تو کبھی آئین توڑنے والے فوجی آمروں نے اور بد قسمتی سے اپنے فرائض سے غافل ہمار ے عدالتی نظام نے ان غیر آئینی اقدامات کو تحفظ فرائم کیا جس کی وجہ سے آج پاکستان ترقی کی دوڑ میں کافی حد تک پیچھے رہے گیا ہے ایٹمی قوت رکھنے سے کیا ہم نے کشمیر کو فتح کر لیا ہے کیا بھارت سمیت دنیا نے ہمارے سامنے اپنا سر جھکا دیا ہے کیا آج پاکستان کا شمار خوشحال ممالک کی فہرست میں ہوتا ہے ایسا بد قسمتی سے کچھ نہیں ہے آج پاکستان سمیت کشمیر میں بھی معصوم ننھی پریوں کے ساتھ ذاتی کے واقعات رونما ہورہے ہیں کشمیر میں روز بروز دہشت گرد بھارتی فوجیوں کی کاروائیاں بڑھتی جارہی ہیں ہر روز بھارت کی جانب سے کبھی کشمیر میں کبھی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھر پور اشتعال انگیزی کی جاتی ہے جس سے معصوم کشمیری اور پاکستانی شہری شہید ہوجاتے ہیں ہمارا ہمسایہ افغانستان جو کبھی ہمارا مضبوط بازو ہویا کرتا تھا آج بھارت کی گھود میں بیٹھ کر افغان باڈر سے ہمیں للکارتا ہے آج دنیا میں ہماری سنوائی نہیں ہے اقوام متحدہ میں ستر برس سے کشمیر پر پاکستان کے موقف کو بھارت اور پاکستان مخالف ممالک کی خوشنودی قائم رکھنے کے لئے نظر انداز کیا جارہا ہے دنیا بھر میں کشمیر شام سمیت مسلمانوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ہم آج دہشت گردی کی لعنت میں گھیر ے ہوئے ہیں ہمارا ملک اس وقت بنیادی مسائل سے محروم ہے ہمارے سیاستدان ہمارے ارباب اختیار بادشاہوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کی غریب عوام مسائل کی گردش میں ہر روز دم توڑ رہی ہے پانی بجلی بے روز گاری کے مسائل دن بدن سنگین ہوتے جارہے ہیں پولیس اور عدالتی نظام سے عوام مایوس ہوچکی ہے
مگر افسوس کہ ہم غیر ضروری اقدامات میں اُلجھے ہوئے ہیں جس سے قوم کا وقت برباد ہورہا ہے جس کی کسی جانب سے مذمت نہیں کی جاتی
چند معاملات میں ازخود نوٹس لینے سے قوم کے مسائل کو حل کی جانب گامزن نہیں کیا جاسکتا معزز سپریم کورٹ کی جانب سے چند روز پہلے کراچی میں دودھ کی قیمتوں کو کم رکھنے کا حکم سنایا گیا جس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہورہا بد قسمتی سے ہمارے سیاسی و مذہبی رہنماؤں پر مختلف مقدمات درج ہیں مگر ان کو گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیے جانے کے سمن جاری ہوتے ہیں مگر وہ ملک میں رہتے ہوئے حاضر نہیں ہوتے اور عدالت ان کو اشتہاری قرار دے ان کی فائل کو بند کر د یتی ہے کیا یہ عدالتی نظام کی کمزوری نہیں ہے وکیل اور جج حضرات دنیا میں غریب انسان کو انصاف فرائم کرنے کا معزز زریعہ ہیں مگر افسوس کے سول عدالتوں میں انصاف کے حصول کی خاطر غریب اپنا سب کچھ لوٹا کر بھی انصاف سے محروم رہتا ہے کیا یہ عدالتی نظام کی کمزوری نہیں بد قسمتی سے ہمارے ملک میں انصاف ہزاروں لاکھوں کروڑوں روپے میں فروخت ہوتا ہے جتنا اچھا وکیل ہوگا انصاف اتنا مہنگا ہوگا کیا یہ عدالتی نظام کی کمزوری نہیں آج پاکستان بھر کی جیلوں میں گھریلوں معاشی حالات سے تنگ آکر چھوٹے چھوٹے جرائم کرنے والوں سے ملک بھر کی جیلیں بھری پڑی ہیں بہت سے بے گناہ لوگ جیلوں میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت انصاف نہ ملنے کی وجہ سے ضیاع کر رہے ہیں جس سے ان کی فیملیاں بھی متاثر ہورہی ہیں مگر ان کو انصاف فرائم نہیں کیا جارہا کیا یہ عدالتی نظام کی کمزوری نہیں بد قسمتی سے چند سالوں سے پاکستان میں لاپتا افراد کا معاملہ بھی جنم لے رہا ہے لوگوں کے پیارے اغواء کیے جارہے ہیں یہ تو ان کو مار دیا جاتا ہے یا ان سے تعاون لیا جاتا ہے یہ ان کے پیاروں کو بیرون ملک فروخت کر دیا جاتا ہے جس کا ذکر پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں کیا ہے کے انہوں نے چار ہزار پاکستانی امریکا کو فروخت کیے جس کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے کیا یہ عدالتی نظام کی کمزوری نہیں بد قسمتی سے ہمارا پولیس نظام کرپٹ ترین ہوچکا ہے ہر روز پولیس گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں جگہ جگہ پولیس ناکہ لگا کر عوام کی حفاظت کرنے کے بجائے ان کو غیر ضروری تنگ کیا جاتا ہے ان سے سر عام رشوت لی جاتی ہے اس نظام کو درست کرنا کس کی ذمہ داری ہے کیا یہ عدالتی نظام کی کمزوری نہیں ہے تیس لاکھ سے زائد کیسوں کو ان کے ا نجام تک پہنچانا یہ کس کی ذمہ داری ہے
جہاں ستر برسوں میں اس ملک کو سیاستدانوں کی لاپروائی نے نقصان پہنچایا ہے وہاں ستر برسوں میں غریب کو انصاف مہیا کرنے میں ہمارا عدالتی نظام کمزور رہا ہے معذرت کہ ساتھ آج معزز سپریم کورٹ سیاستدانوں کی کرپشن کا خاتمہ کرنے کے لیے دبنگ انداز اپنائے ہوئے ہے جو ایک اچھا عمل ہے مگر کیا اُن ججوں جرنلوں کا احتساب کرنے کی طاقت آج کی سپریم کورٹ میں ہے جن جج حضرات نے آئین توڑنے والوں کو سپورٹ کر کے اپنے منصب سے بے وفائی کی اُن آمروں کا احتساب ہوگا جنھوں نے اپنے منصب کا غلط استعمال کر کے جمہوریت کو ڈی ریل کیا اُس الیکشن کمیشن کا احتساب ہوگا جس نے اپنا کام ایمانداری سے کرنے کے بجائے دباؤ میں آکر کرپٹ لوگوں کو اس ملک کے معزز ایوانوں میں پہنچانے کا راستہ ہموار کیا۔ کیا سول عدالتوں میں بیٹھے ہوئے ججوں کا احتساب ہوگا جن کی وجہ سے آج تیس لاکھ سے زائد کسیس اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکے ہیں کیا عدالتی نظام سے رشوت کا خاتمہ ہوسکے گا کیا سول عدالتوں کا نظام بہتر ہوسکے گا کیا پولیس نظام بہتر کیا جاسکے گا یہ وہ سوال ہیں جو سیاسی و مذہبی رہنماء کبھی نہیں کرنا چاہتے البتہ یہ سوال ایک عام غریب پاکستانی کا ضرور ہے کیا اس ملک میں ایک عام پاکستانی کو انصاف فرائم کرنے والا عدالتی نظام بہتر ہوسکے گا کیا سول عدالتوں جیلوں اور پولیس کا نظام جس کو ستر برسوں میں حکمرانوں نے اپنا غلام بنا رکھا ہے کیا معزز ادارے اس نظام کی بہتری کے لئے جدوجہد کر سکتے ہیں 
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved