تازہ ترین  

جنت کی کنجی
    |     3 months ago     |    اسلامی و سبق آموز

عرصہ دراز پہلے ایک بیابان صحرا میں تہذیب سے نا آشنا کچھ لوگ آباد تھے، ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ سے آتے جاتے قافلوں کو لوٹنا ان کا پیشہ تھا، اس کے علاوہ وہ لوگ طرح طرح کی برائیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ایک دن انہی میں سے ایک شریف النفس انسان اٹھا اور انہیں کہا کہ وہ ایک ایسی جگہ سے واقف ہے جہاں قسم قسم کے میوؤں کے باغات ہیں، ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے ہیں اور محلوں جیسے گھر ہیں۔ میں اس جگہ کے مالک سے واقف ہوں اور تم لوگوں کو وہاں رہائش دلا سکتا ہوں ، اگر تم لوگ یہ برائیاں چھوڑ دو تو میں تمہیں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تم لوگ ہمیشہ وہاں رہ سکو گے ۔میں تم لوگوں سے پہلے یہاں سے چلا جاؤں گا اور کچھ عرصہ بعد یہاں سے ایک قافلہ چلے گا تو تم لوگ بھی اس قافلے میں شامل ہو کر وہاں آجانا، میں تم لوگوں کو ایک چابی دیتا ہوں جس کی مدد سے تم وہاں اپنے گھروں میں داخل ہو سکو گے مگر یاد رکھنا کہ اس چابی کی بہت حفاظت کرناکیوں کہ وہاں کے پہرے دار بہت سخت ہیں اور چابی کے بغیر تمھیں وہاں داخل نہیں ہونے دیں گے اور تمھیں ایسی جگہ ٹھہرا دیں گے جہاں طرح طرح کی بلائیں اور بدذائقہ کھانے ہوں گے ۔
کچھ لوگوں نے ان کی بات مانی اور اس چابی کی حفاظت کی مگر کچھ لوگوں نے ان کی باتوں پر عمل نہیں کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس چابی کی حفاظت چھوڑ دی۔دوسرے لوگوں نے جب ان کو سمجھایا تو انہوں نے کہا کوئی بات نہیں جب ہم وہاں جائیں گے تو ان چابی والے صاحب سے کہیں گے کہ ہمیں ہمارے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت دلا دو اور ان کی سفارش سے ہم اپنے گھروں میں داخل ہو جائیں گے۔اسی طرح دن گزرتے گئے اور ایک دن منادی ہوگئی کہ اس نامعلوم جگہ کی طرف ایک قافلہ جا رہا ہے اور تمام لوگ اس قافلے میں شامل ہو جائیں۔ جب سب لوگ وہاں پہنچے تو وہ چابی والے صاحب وہاں پہلے سے موجود تھے، اب جن لوگوں نے اپنی چابی کی حفاظت کی تھی وہ تو باآسانی اپنے نئے گھروں میں داخل ہوکر چین و سکون سے رہنے لگے مگر جن لوگوں نے اپنی چابیوں کی حفاظت نہیں کی تھی انہیں وہاں کے پہرے داروں نے دھکے مار کر وہاں سے نکال دیا اور ایک بیابان صحرا میں ٹھہرا دیاجہاں طرح طرح کے خطرناک جانور تھے ، کھانے کے لیے کڑوے بدبو دار پودے اور گرم کڑوا پانی تھا، اوپر سے وہ پہرے دار آکر ان کو مارتے پیٹتے کہ تم لوگوں نے اپنی چابیوں کی حفاظت کیوں نہیں کی تھی؟ وہ لوگ کہتے کہ کچھ دنوں کے لیے ہمیں ہمارے پہلے ٹھکانو ں کی طرف لوٹا دو تا کہ ہم اپنی چابیاں تلاش کر لائیں مگر ان کوجواب ملتا کہ اب تم لوگ کبھی وہاں واپس نہیں جا سکتے، اب بھگتو یہی تمہار ا ٹھکانہ ہے۔
وہ لوگ چیختے پکارتے اور کہتے کہ ہم سے بھول ہوگئی ،ہم نے اپنی چابیوں کی حفاظت نہیں کی مگر جن صاحب نے ہمیں چابی دی تھی ان سے ایک بار کہہ دو کہ اس جگہ کے مالک سے ہماری سفارش کر دے اور ہمیں یہاں سے نکلوا دے مگر وہ صاحب ان سب سے ناراض تھے کہ انہوں نے ان کی باتوں پر عمل نہیں کیا تھا۔عرصہ دراز بعد ان صاحب کی سفارش پر ان کی اذیتیں کم ہوئیں اور جن لوگوں نے ان کی کسی بات پر بھی عمل کیا تھا ان کو وہاں سے نکال کر اس شاندار جگہ میں منتقل کر دیا گیا مگر جو لوگ ان سے پہلے وہاں عالیشان محلوں میں آباد تھے ان کا رتبہ اور مقام دیکھ کر وہ لوگ کہتے کہ کاش! ہم نے بھی اپنی چابیوں کی حفاظت کی ہوتی تو آج ہم بھی ان کی طرح شاندارگھروں میں ان کے برابر بیٹھے ہوتے۔
آپ سب جانتے ہیں کہ نماز کو جنت کی کنجی کہا جاتا ہے ، آ ج کے دور کا المیہ یہی ہے کہ جب کسی کو نماز پڑھنے کی تلقین کی جائے تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہر مسلما ن جنت میں جائے گا ، ہمارے نبیؐ ہماری سفارش کریں گے ، وہ لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے نماز کو جنت کی کنجی قرار دیا ہے ، اگر ہم نے اس کنجی کی حفاظت نہ کی اور روز قیامت نبی کریمؐ ہم سے ناراض ہوگئے تو پھر ہمار ا ٹھکانہ کیا ہوگا؟بے شک ہر مسلمان جنت میں ضرور جائے گا مگر اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر ، بالکل اسی طرح جیسے وہ صحرائی لوگ اس ہولناک جگہ پر ٹھہرائے گئے اور عرصہ دراز بعد وہاں سے نکالے گئے ۔ وہ ہولناک جگہ جہنم ہے اور یاد رکھیں وہاں کا ایک دن دنیا کے 50 سال کے برابر ہو گا مگر وہاں کو ئی ذی روح پانچ منٹ بھی نہیں گزار سکے گالہٰذا میری استدعا ہے کہ جنت کی اس کنجی کی حفاظت کریں اور اسے کسی بھی وقت خود سے جدا نہ کریں۔ آئیں پانچ وقت کی نما ز کی پابندی کریں تا کہ ہم جنت کے ان محلوں میں داخل ہوسکیں جن کی ہمارے پروردگا ر اور نبی کریمؐ نے ہمیں بشارت دی ہے۔ 






Comments

There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved