تازہ ترین  

بارش کا قطرہ
    |     5 months ago     |    کالم / بلاگ
فضا میں گھٹن پھیلی ہوئی تھی۔سانس لینا بھی محال ہو رہا تھا۔بنی نوع انسان اپنے گھروں اور دفتروں جب کہ پرند اپنے گھونسلوں میں دبکے بیٹھے تھے۔
گرمی کی حدت،پیاس کی شدت فضا میں گھٹن سے کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ہر طرف پژمردگی چھائی ہوئی تھی۔
تکلیف پر کیے گئے صبر پر ملنے والے اجر سے بے خبر صدا کا ناشکرا انسان اپنے رب سے شکوہ کناں تھا۔
جب زیادہ دل گھبرانے لگتا ہے تو یہ عاجز شہر سے باہر، نہر کنارے بنے ٹیلوں پر چلا جاتا ہے۔
درختوں کی حبس سے سانس لینا دشوار تو ہو رہا تھا۔پر کچھ دیر بعد ہونے والی بارش زخم دل پر مرحم کا سامان کرگئی۔
آسماں پر کالی گھٹائیں چھانے لگئ۔ تندوتیز ہوا چلنی لگی۔بادلوں کی گرج ،بجلی کی چمک سے ماحول میں ایک وحشت پیدا ہونے لگی۔
موسلادھار بارش میں سائبان کے نیچے بیٹھا رب کی نعمت بارے سوچے لگا۔یہ بارش جہاں رحمت بن کر گر رہی تھی۔وہاں کچے کوٹھے والوں کیلے کسی زحمت سے کم نا تھی۔
بلند و بالا درخت سے گرتا ٹپ ٹپ بارش کا قطرہ اپنے رب کی کبریائی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
رب کائنات کہہ رہے آسمان سے پانی برساتے ہیں تاکہ بنجر زمین کو پھر سے زندہ کر کے ہرابھرا کر دیں۔
یہ ایک قطرہ بارش ، سانپ کے منہ میں جا کر زہر، شہد کی مکھی کے منہ میں جا کر شہد بنے گا۔سپی پر گرے گا تو موتی۔گلاب پر گرے گا تو خوشبو۔گرگد پر گرے گا تو کانٹے۔کوئل کے منہ میں گیا تو نغمہ سرائی۔کوے کے منہ میں گیا تو بے سری آواز۔آم پر گرا تو میٹھاس میں اضافہ۔لیموں پر گرا تو کٹھاس بن گیا۔
ایک قطرہ ہے جہاں گرتا اسے کے مطابق ری ایکشن کرتا ہے۔
بارش کا زور ٹوٹ گیا۔ بادل چھٹنے لگے۔آسمان پر قوس قزاح رنگ بکھیرنے لگی۔
گھروں سے نکلتے لوگ جن کہ چہرے پژمردہ تھے۔اب چہروں پر بشاشت نظر آ رہی تھی۔
پرندے غول درغول اپنے ہنجروں سے نکل آسمان میں آڑان بھرتے اپنے رب کی شان کے قصیدے پڑھنے لگئے۔
درخت آب حیات سے وضو کر کے سرسبزوشاداب ہو گے۔ہر چیز "بین اسماء والارض لایت لقوم یعقلون" کا مصداق بنی دعوت نظارہ دینے لگئی





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved