تازہ ترین  

زینب جیسی بیٹیاں
    |     2 weeks ago     |    کالم / بلاگ

آج صبح فیس بک پر کسی نے ایک ویڈیو شیئر کی جو کہ ایک معروف پاکستانی ٹی وی چینل کے کسی ڈانس شو کا حصہ تھی۔اس میں چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں جینز اور رنگا رنگ لباس پہنے ہیجان انگیز انڈین گانوں پر بہت جوش وخروش سے ڈانس کررہی تھیں اورپروگرام کے میزبان اور مہمان بھی انتہائی جوش سے ان کے ساتھ اچھل کود رہے تھے ۔ شرکاء کی طرف سے ان معصوم بچیوں کو خوب داد مل رہی تھی ۔شو میں کچھ خواتین و حضرات جج کے فرائض سرانجام دینے کے لیے بھی موجود تھے تاکہ فیصلہ کرسکیں کہ کس بچی نے سب سے بہترٹیلنٹ کامظاہر ہ کیا ۔پاکستان میں ایسے ٹی وی شوز اب روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں اوردیکھا گیاہے کہ ناظرین کی اکثریت ایسے شوز نہایت شوق سے دیکھتی ہے۔ دیکھا جائے تو آج سے کچھ سال پہلے تک صبح کی نشریات کاآغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوتا تھااورپھر باقاعدہ حمد ،نعت اورقرآن پاک کی تعلیم پر مشتمل پروگرام چلائے جاتے تھے مگر کیبل اورنجی ٹی وی چینلز کی بھر مار نے آپس میں مقابلے کی فضا قائم کردی اوراکثر چینلز نے اپنی ریٹنگ بڑھانے اورایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خاطر مارننگ شوز کے نام پر ایسے رنگ رنگا اوربے ہودہ پروگرام نشر کرنے شروع کردیئے جو ہرگزفیملی میں بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیاگھروں میں بیٹھ کرایسے شوز دیکھنے والی چھوٹی بچیوں کا دل نہیں چاہے گاکہ وہ بھی اسی طرح ڈانس کریں؟ کیونکہ بچے اپنے ماحول سے سیکھتے ہیں اور ان کے سامنے جو کچھ کیا جائے اس کو دہراتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ ایسے شوز دیکھ کر بہت سے بچے جینز پہننے کی ضد کرتے ہوں گے ، بہت سے بچے گھروں میں میوزک انسٹرومنٹس لانے کی ضدکرتے ہوں گے اوربہت سے بچے کسی ڈانس اکیڈمی میں داخلہ لینے کی ضد کرتے ہوں گے۔بچے تو ایک طرف اکثر والدین کی بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے بچے بھی دوسروں کی طرح ڈانس سیکھیں اورکسی ٹی وی شو یا کسی شادی کے فنکشن میں ایسی پرفارمنس دکھا کے ان کا نام روشن کرسکیں اوردوسروں کی تقلید میں وہ بھی اپنے بچوں کو بے جاآزادی دے دیتے ہیں جو آگے چل کر بہت بڑے بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ ہم اپنی اقدار بھولتے جارہے ہیں ، ہمارا کلچر تیزی سے بدل رہا ہے۔ہمارا رہن سہن،ہمار ا لباس اسلامی معاشرے کا حصہ نہیں رہا ۔ مغربی ماحول سے متاثر والدین اپنی معصوم ننھی کلیوں کومغربی لباس پہنا کرکہتے ہیں کہ جینزاورسکرٹ پہن کر ہماری بچی بہت پیاری لگ رہی ہے،ڈانس کرتے ہماری بچی تو اداکارہ لگ رہی ہے ۔ ہم بچیوں کو ایسے لباس کا خود عادی بناتے ہیں اورپھر جب جینز شرٹ کی عادی یہ بچیاں جوان ہوتی ہیں تو ہماری کوشش ہوتی ہے وہ اسلامی لباس پہنیں، گھر وں میں بیٹھیں،پردہ کریں مگر تب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے ۔ آج کی جینز پہننے والی بچی کل خود ماں بنے گی تو اپنی بچیوں کو بھی جینز ہی پہنائے گی۔ بات ہورہی تھی ڈانس شوز کی تو آپ دیکھیں کہ جہاں بہت سارے لوگ ان بچیوں کی پرفارمنس پر داد دینے والے ہوتے ہیں وہیں پر کچھ ہوس زدہ بھیڑیئے ان معصوم کلیوں پر کسی اورطرح کی نگاہیں جمائے بیٹھے ہوتے ہیں،ایسے لوگوں کی رسائی ٹی وی شوزمیں شرکت کرنے والی بچیوں یا کسی اورتک تو نہیں ہوتی مگر ان کے آس پاس بسنے والی معصوم بچیاں ان کے مذموم مقاصد کا شکار ہوجاتی ہیں اورپھر زینب جیسے واقعات جگہ جگہ جنم لیتے ہیں، پھر ہم کہتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟ مگر کوئی یہ نہیں سوچتاکہ ایسے واقعات کے محرکات کیا ہیں؟ کیا ایسے درندوں کو تحریک دینے میں ان والدین کا قصور نہیں جواپنے بچوں سے لاپرواہی برتتے ہیں، ان کی بے جا فرمائشیں پوری کرتے ہیں ،بچوں کوایسے لباس پہناتے ہیں،ڈانس سکھلاتے ہیں اورٹی وی شوز میں بھیجتے ہیں اور کیا ایسے حادثات میں ان ٹی وی چینلز کا ہاتھ نہیں جو ایسے بے ہودہ ڈانس شوز کا انعقاد کرتے ہیں۔کیا معصوم بچوں کے ایسے ڈانس کسی بھی درندے کے منفی جذبات بھڑکانے کو کافی نہیں؟یاد رکھئے! مسلمانوں کو اسلامی روایات سے دورکرنے کے لیے یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جارہا ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنا کلچر بھلا کر مغرب زدہ معاشرے کو تشکیل دے سکیں۔ جب تک والدین اپنے بچوں کو بے جا آزادی دینے سے نہیں رکیں گے،مغربی لباس پہنانے سے باز نہیں آئیں گے،اسلامی رواج نہیں اپنائیں گے۔ جب تک ہمارا میڈیا ایسے بے ہودہ شوز بند نہیں کرے گا، جب تک ہمارے حکمران ایسے پروگرام چلانے والے ٹی وی چینلزپر پابندی نہیں لگائے گی معاشرے میں زینب قتل جیسے واقعات وقوع پذیر ہوتے رہیں گے۔ والدین سے میری گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو اسلامی لباس پہنائیں، اسلامی رسم ورواج سکھائیں،اسلامی طورطریقے سکھائیں تاکہ اپنی معصوم بچیوں کو زینب جیسے انجام سے بچاسکیں۔حکومت سے درخواست ہے کہ ایسے ٹی وی شوز پر پابندی عائد کی جائے اوراس کے ساتھ ساتھ میری ٹی وی چینلز کے سربراہان سے بھی گزارش ہے کہ خدارا ایسے ہیجان انگیز شوز نشر کرنے سے پرہیز کریں کیونکہ زینب جیسی بیٹیاں ان کے گھر وں میں بھی ہوں گی۔

Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved