تازہ ترین  

میری آرزو پوری ہوگئی
    |     5 months ago     |    افسانہ / کہانی

(ایک امام مسجد کی دل افرو ز داستان)


میرا تعلق مظفر گڑھ کے ایک گاؤں سے ہے ۔ دینی رجحان رکھنے کی بدولت میرے دو بڑے بھائی قریبی شہر کے ایک مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے جایا کرتے تھے۔مجھے پڑھنے کا شوق تھالہٰذا روتا چلاتا ان کے پیچھے بھاگتا مگر چھوٹا تھااس لیے مجھے ساتھ نہ لے جاتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد میر ا شوق دیکھتے ہوئے گھر والوں نے مجھے بھی بھائیوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور یوں میرا بھی مدرسے میں داخلہ ہوگیا۔
میں نے ناظرہ قرآن مکمل کیا اور حفظ کرنا شروع کردیااور اپنے شوق اور لگن کی بدولت اور اللہ کے خصوصی فضل سے بہت جلد قرآن پاک حفظ کرلیا۔ اس کے علاوہ میں نے علم حدیث ، تفسیر و دیگر علوم کی تعلیم حاصل کی اور مدرسے سے فارغ التحصیل ہوگیا۔ کچھ دن میر ی زندگی مدرسے کے معمول کے مطابق چلتی رہی مگر پھر آہستہ آہستہ میں دنیا کی چکا چوند میں کھونے لگا اور نما ز میں غفلت برتنے لگا اور دین سے دور ہوتا گیا۔لڑکپن سے نکلتے ہی میں بھی اپنے بھائیوں کی طرح روز گار کی تلاش میں شہر کو چل دیا ۔ میرے پاس دنیاوی تعلیم نہ تھی اور دینی تعلیم کو میں بروئے کار نہ لاسکالہٰذا ایک کارخانے میں مزدوری کرنے لگا۔
کارخانے کی دیوار ایک مسجد سے ملحقہ تھی اور اذان کی آواز کارخانے میں صاف سنائی دیتی تھی مگر میں بھی دوسروں کی طرح سنی ان سنی کردیتا۔ ایک دن مسجد سے اذان کی بہت پرسوزآواز سنائی دی تومیں کام چھوڑ کر توجہ سے اذان سننے لگا۔ مجھے مدرسے میں گزارے شب و روز یاد آنے لگے ، میں نے سوچا کہ میں کس راستے کا مسافر تھا اور کہاں آپہنچا؟ کیامیں نے دین کی تعلیم اس لیے حاصل کی تھی کہ اپنی باقی ماند ہ زندگی کسی کارخانے میں جھونک دوں؟ میں کتنا بد بخت ہوں کہ قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بند کرکے رکھ دیا، مسجد دور نہیں پھر بھی نماز سے دوری اختیارکرلی۔
ایسی توقع تو کسی جاہل انسان سے بھی نہیں کی جاسکتی مگر میں تو با شعور حافظِ قرآن ہوں، میں اسی وقت اٹھا اور مسجد میں جاکر باجماعت نماز اداکی تب میرے دل میں تڑپ کے ساتھ دعانکلی : ’ ’ یااللہ پاک مجھے اسی طرح پانچ وقت اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما، مولامجھے ایسا روز گار عطا فرما کہ تیر ا دامن اور تیرا گھر چھوڑ کر کہیں نہ جاؤں اور وہ لمحات شاید قبولیت کے تھے۔ اس کے بعد میں نے اپنے بھائیوں سے بات کی کہ ہم نے علم دین کس لیے حاصل کیا تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں ؟ بھائی بھی میری بات سے متفق ہوگئے اور ہم کام چھوڑ کر واپس گھر آگئے۔
اب میرے دل میں بس یہی ایک آرزو تھی کہ میری باقی کی زندگی دین کی خدمت کرتے گزرے لہٰذا میں نے اپنے مدرسے رابطہ کیاکہ دنیاداری کے لیے روز گاربھی ضروری تھا اور میرے دل میں یہ حسرت بھی تھی کہ مجھے وہ منزل مل جائے جس کا میں خواہاں ہوں، کاش میں بھی ویسی ہی اذان پڑھ سکوں ،کا ش میں بھی ویسی ہی تلاوت کرسکوں ، کاش میری آواز میں ایسا سوز پیدا ہو جائے جو کسی کی روح کو بیدار کرسکے اور تب خدا نے میری سن لی اور مدرسے والوں کی مہربانی سے مجھے ایک مسجد میں امامت مل گئی، اللہ نے میری آواز میں اتنا سوز پیدا کردیا کہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ قاری صاحب آپ کی آواز تو دلوں کو روگ لگا سکتی ہے، آپ کی آواز میں کون سا سحر ہے جو دل کو بے چین کردیتا ہے کہ آپ تلاوت کریں تو دل چاہتاہے سنتے ہی جائیں۔
میں کہتا ہوں کہ قرآن کی محبت نے میری آواز میں یہ سوز پید ا کیا مگریہ میری آواز کا خاصہ نہیں بلکہ اس بابرکت کلام کی تاثیر ہے جو لوگ بے اختیار ہوکر سنتے جاتے ہیں اور ان کے دل میں بھی میری طرح تلاوتِ قرآن پاک کی آرزو پیدا ہوتی ہے، یہ اللہ کی طرف سے ہے کہ کسی کے دل میں بھی یہ شوق ڈال دیتاہے اور اسی نے مجھے یہ توفیق بخشی۔
( ماشاء اللہ مذکورہ قاری صاحب مظفر گڑھ میں جس گاؤں کے باسی ہیں وہاں اہل ثروت لوگوں کے تعاون سے مسجد تعمیر کروا چکے ہیں جہاں بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم د ینے کے ساتھ امامت کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں) 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved