تازہ ترین  

چھانگا مانگا کی سیر
    |     6 months ago     |    دلچسپ و عجیب
وہ دونوں بھائی پہلے تو ایسے نہیں تھے، ہر کسی کا خیال رکھتے، دوسروں کی مدد کرتے، دِھیاں بَھیناں کی طرف بری اکھ نال نہ ویکھتے، اپنے علاقے کے لوگوں کی عزت کرتے اور کسے ماڑے ٹائم کسے مھاتڑ کی سیوا بھی کر دیتے۔ پھر انگریزوں نے انہیں ڈاکو بننے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ اپنے علاقے میں گوروں کو نہیں آنے دینا چاہتے تھے۔ وہ دونوں بھائی اٹھارویں صدی میں اس جنگل میں رہائش پذیر تھے، وہ محب وطن حریت پسند تھے، اس لیے انگریزوں نے انہیں اشتہاری قرار دیا تو وہ دونوں جنگل میں روپوش ہو گئے اور پھر زور زبردستی انگریز افسروں نے ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا، تو دونوں بھائی بدل گئے۔ وہ ڈاکو بن گئے۔
وہ دونوں اپنے منہ پر مڑاسے باندھ کر کچے پئے پر کھڑے ہو جاتے اور جب گوروں کی کوئی گاڑی آتی تو آگے لکڑ پھینک کر ان کی گاڑی روکتے اور ان سے تمام قیمتی چیزیں چھین کر قریبی جنگل میں چھپ جاتے۔ چونکہ یہ دو تھے اور گورے بہت زیادہ۔ پھر ایک دن یہ دونوں بھائی چھانگا اور مانگا اسی جنگل میں مار دیے گئے، لیکن وہ مر کر بھی اپنا نام چھوڑ گئے۔
دو بھائیوں چھانگا اور مانگا کی یہ کہانی اس علاقے کے ہر فرد کو یاد ہے، جن کے نام پر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی جنگل چھانگا مانگا، ضلع قصور اور ضلع لاہور میں بارہ ہزار ایکڑز سے زیادہ رقبے پر آج بھی موجود ہے۔
ایک مدت سے ہماری بھی خواہش تھی کہ چھانگا مانگا ضرور دیکھنا ہے اور پھر اللہ جی نے یہ تمنا پوری کر دی۔ دیکھنے کے بعد پتا چلا کہ لوگ تو ایسے ہی مری، سوات، کشمیر یا گلگت جاتے ہیں۔ لاہور کے پاس ہی دو ایسے پکنک پوائنٹس ہیں، جہاں جا کر آپ کو گرمی کا احساس بھی نہیں ہوتا اور تھوڑے خرچے میں اچھی خاصی آؤٹنگ بھی ہو جاتی ہے۔ جی ہاں ان میں ایک چھانگا مانگا پارک اور جنگل ہے اور دوسرا ہیڈ بلوکی رانا سفاری پارک المعروف بانسوں کا جنگل ہے۔ موقع ملے تو سب کو اپنی فیملی کے ساتھ یہ سیرگاہیں ضرور دیکھنی چاہیئیں۔ لیکن آج ہم چھانگا مانگا جنگل کے بارے میں بات کریں گے۔
لوکیشن بڑی آسان ہے۔ لاہور اور ملتان سائیڈ سے آنے والوں کے لیے تو یہ سیدھا سیدھا راستہ ہے۔ یہ جنگل نیشنل ہائی وے (لاہور ملتان روڈ) پر پھول نگر اور پتوکی شہر کے درمیان جمبر موڑ پر 14 کلومیٹر مشرق کی طرف ہے۔ فیصل آباد، سرگودھا اور ان علاقوں سے آنے والوں کے لیے مختصر اور صاف راستہ کچھ ایسے ہے۔ لاہور فیصل آباد روڈ پر مانانوالہ بائی پاس سے ننکانہ صاحب، (ننکانہ صاحب میں بابا جی گورونانک کا جنم استھان بھی دیکھ لیں تو آپ کو بہت سی نئی معلومات کا خزانہ ملے گا) ننکانہ سے براستہ بچیکی روڈ جڑانوالہ لاہور روڈ، (ننکانہ سے براستہ مانگٹانوالہ، موڑ کھنڈا سے جڑانوالہ روڈ بھی پہنچا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ سڑک تھوڑی خراب ہے) وہاں سے ہیڈ بلو کی (صبح ذرا جلدی چلیں تو ہیڈ بلوکی میں رانا سفاری پارک اور بانسوں کے جنگل کی سیر کرتے جائیں، آپ کو اس جنگل میں ٹھنڈک کا احساس ہوگا اور واپس آنے کو دل نہیں کرے گا) اور وہاں سے بھائی پھیرو (پھول نگر) پہنچ کر وہی نیشنل ہائی وے۔ اگر آپ اپنی گاڑی پہ ہوں تو ایک دن میں آپ تین خوب صورت جگہوں کی سیر کر کے اپنے دل و دماغ کو پر سکون بنا سکتے ہیں۔
چھانگا مانگا ایک بین الاقوامی شہرت کا حامل جنگل ہے بلکہ یوں سمجھیں یہ پاکستان کے لیے ایک خزانہ ہے۔ یہ جنگل لاہور سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل چونیاں ضلع قصور میں واقع ہے۔ (کچھ حصہ ضلع لاہور میں بھی ہے) چونکہ یہاں پر مصنوعی جنگل لگانے سے پہلے خود رَو جنڈ، کرِیر، بیری اور وَن کے درخت بڑی مقدار میں موجود تھے اس لیے اسے "سول رکھ" کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
پورے برصغیر میں جب ریلوے لائنوں کا جال بچھا تو شروع میں تمام اسٹیم انجن کوئلے سے چلتے تھے جو کافی مہنگا پڑتا تھا۔ پھر انگریزوں کو خیال آیا کہ ان انجنوں کو سستی لکڑی کے ایندھن سے چلایا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے لاہور کے پاس رَکھ چھانگا مانگا، موجوکی اور رکھ شاہ پور جیسے علاقوں کا رخ کیا، چونکہ اس علاقے میں نہری پانی کی سہولت وافر مقدار میں تھی تو گوروں نے 1866ء میں یہاں پر درخت لگانے کا عمل شروع کیا۔ اس جنگل کی بنیاد رکھنے والے انگریز کا نام مسٹر بی رِبن ٹراپ تھا۔ 1888ء تک ابتدائی طور پر زیادہ تر زمینوں میں کیکر اور شیشم (ٹالھی) کے درخت لگائے گئے۔ بعد میں بہت زیادہ مقدار میں سمبل، بکائن، پاپولر، پیپر ملبری، سفیدہ، سرس (شرِیں)، وِلو (بید کی ایک قسم)، شہتوت اور بانس کے درخت بھی لگائے گئے۔
اصل میں یہ مصنوعی جنگل لاہور، کراچی، گرداسپور اور امرتسر کے درمیان چلنے والے اسٹیم انجنوں کو چلانے کے لیے جلنے والی لکڑی کی سپلائی کے لیے بنایا گیا تھا۔ لگاتار محنت سے 1888ء تک بارہ ہزار پانچ سو دس ایکڑ رقبے پر بہت سے درخت لگائے گئے۔ اس زمانے میں پانچ ٹرام (ریل گاڑیاں) ہر روز لکڑی کو لاتی اور لے جاتی تھیں۔ پھر 1888ء کے بعد ضلع جہلم میں 'ڈنڈوت' کے مقام پر بھاری مقدار میں کوئلہ کے ذخائر برآمد ہونے پر ریلوے کے اسٹیم انجنوں میں لکڑی کا متبادل مل گیا اور اس جنگل کی ترقی میں عارضی رکاوٹ آ گئی۔
بعد میں یہ جنگل ایندھن اور ٹمبر کی دیگر ضروریات پوری کرنے کا باعث بنا اور اب بھی ہے۔ بیس مربع میل رقبے پر پھیلے اس جنگل کی لکڑی کی مارکیٹ بعد ازاں سیالکوٹ، ملتان، کوئٹہ، گوجرانوالہ، سکھر، امرتسر، کرتارپور، بٹالہ اور دھاری وال تک پھیل گئی۔ شیشم کی لکڑی فرنیچر بنانے میں سب سے مضبوط اور اہم سمجھی جاتی ہے اس لیے چھانگا مانگا کا جنگل اس کی ڈیمانڈ پوری کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس جنگل میں پیدا ہونے والے شہتوت سے اب بھی سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان اور پاپولر سے قصور کے علاقوں میں ماچس کی تیلیاں بنائی جا رہی ہے۔
اسٹیم انجن کی اہمیت کا اندازہ آپ اس واقعہ سے لگا سکتے ہیں۔ جس کا ذکر سابق سفارت کار قطب الدین عزیز نے اپنی کتاب "سفارتی معرکے" میں ایک واقعہ کی صورت میں کیا ہے۔ انہوں نے 1978ء سے 1986ء تک برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن میں بطور انفارمیشن اتاشی خدمات انجام دیں۔
یہ 1981ء کا سال تھا جب مانچسٹر میوزیم آف سائنس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آر ایل ہِل پاکستانی سفارت خانے میں آئے اور انہوں نے قطب الدین عزیز سے کہا کہ اسٹیم انجن تیزی سے ماضی کا حصہ بنتے جار ہے ہیں۔ برطانیہ کے لوگ انہیں محفوظ بنانے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ 1911ء میں ولکان فیکٹری کا تیار ایک اسٹیم انجن اس وقت بھی پاکستان ریلوے کی ملکیت ہے اور جلد ہی اسے کباڑ کے طور پر فروخت کر دیا جائے گا۔ کیا پاکستانی حکومت یہ اسٹیم انجن میوزم کو تحفتاً دے سکتی ہے؟
قطب الدین عزیز نے اس کا ذکر وفاقی سیکرٹری مواصلات لیفٹنٹ جنرل مجیب الرحمان سے کیا جو اس وقت لندن کے دورے پر تھے۔ کچھ روز بعد صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی، جس نے اس اسٹیم انجن کو مانچسٹر میوزیم کو دینے کا فیصلہ کیا۔
مصنف کے بقول اس سٹیم انجن کو مغلپورہ ورکشاپ لے جایا گیا جہاں اس کی مرمت کی گئی۔ یہ اس وقت بھی چالو حالت میں تھا۔ یہ انجن مانچسٹر پہنچا تو وہاں اسے وصول کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں ملکہ برطانیہ اور شہزادہ فلپ نے شرکت کی۔ یہ سٹیم انجن اب بھی مانچسٹر میوزیم میں نمائش کے لیے موجود ہے۔
انجنوں اور ٹراموں کی بات چلی ہے تو اس ٹرام کو کیسے فراموش کر دیا جائے جو فیصل آباد کے نواحی گاؤں گنگا پور (چک نمبر591 گ ب) سے بُچیانہ تک جاتی ہے اور یہ ریلوے سے وابستہ ان چند اثاثوں میں سے ایک ہے جسے دوبارہ شروع کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کی گئی اور یہ کامیاب بھی رہی۔ اگرچہ یہ ٹرام سٹیم انجن سے نہیں چلتی لیکن اس کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔
گنگا پور گاؤں دراصل سرگنگارام سے منسوب ہے جو اس گاؤں کے رہائشی اور بہت اچھے انجنیئر تھے اور جنہیں جدید لاہور کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ وہ گنگا پور کو ایک مثالی گاؤں بنانا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے زراعت کے لیے جدید مشینری کا استعمال کیا، اس میں وہ الیکٹرک موٹر بھی شامل تھی جسے کھیتوں کی سیرابی کے لیے 1898ء ( 1895ء اور1903ء کی تاریخیں بھی بیان کی جاتی ہیں) میں گوگیرہ برانچ کینال پر نصب کیا گیا تھا۔
یہ موٹر ریلوے کے ذریعے لاہور سے بچیانہ لائی گئی اور یہاں سے ہی اس کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ گنگا پور سے قریب ترین ریلوے اسٹیشن بچیانہ ہے جو تقریباً 3 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس وقت ٹرانسپورٹ کا کوئی ایسا متبادل ذریعہ نہیں تھا۔ اس دور میں پکی سڑکوں کا تو تصور بھی نہیں تھا، جس کے ذریعے یہ بھاری مشینری گنگاپور تک لائی جاتی۔ یہی وجہ تھی کہ سرگنگارام نے دونوں دیہات کے درمیان ریلوے کی پٹریاں بچھانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے گھوڑے سے چلنے والی ٹرام استعمال کی گئی اور اسے گھوڑا گاڑی کا نام دیا گیا۔ (1997ء ہم پھول کے ایڈیٹر اختر عباس بھیا کے ساتھ ایک گروپ کی شکل میں اس گھوڑا گاڑی کو دیکھنے گئے تھے اور یہ سفر مہم جوئی سے بھرپور تھا۔)
مشین کی تنصیب کے بعد گھوڑے سے چلنے والی یہ ٹرام لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ 1995ء میں یہ گھوڑا ٹرام سروس بند ہوگئی اور تقریباً 15 برس بعد مارچ 2010ء میں ضلعی حکومت اور گاؤں والوں کی کوششوں سے اس کی بحالی عمل میں آئی۔
ریلوے صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی ورثہ ہے اور یہ اُن چند اداروں میں سے ایک ہے جو وفاق کی علامت ہیں۔ ٹرین کا سفر پنجاب، پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی لوک روایت کا لازمی جزو ہے اور شاید تمام لوک روایتوں میں اسے یکساں طور پر نمایاں مقام حاصل ہے۔ ریلوے انجن کی سیٹی کی آواز، ٹرین کا پٹریوں پر دوڑنا، لمبے سفر اور ویران ہوتے اسٹیشنوں سے بہت سے لوگوں کی بہت سی یادیں جڑی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب گنگاپور کے باسیوں کو یہ پتہ چلا کہ اُن کی ایک صدی پرانی ٹرام دوبارہ سے اپنے سفر کا آغاز کر رہی ہے تو اُن کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی کیوں کہ اس سے اُن کی وہ یادیں وابستہ ہیں، جنہیں ذہن کے نہاں خانوں سے کھڑچنا آسان نہیں ہے۔
چھانگا مانگا جنگل کو 1960ء میں قومی پارک کا درجہ دے دیا گیا اور پھر سیاحوں کی سیر و تفریح کے لیے چڑیا گھر، مہتابی، جھیل، آبشار، مینارِ پاکستان کا ماڈل، کشتیاں، تالاب، گراسی پلاٹ، لکڑی کے ہٹ، قیام و طعام کے لیے ریسٹ ہاؤسز، بچوں کے لیے سلائیڈز، جھولے، اونٹ سواری اور دیگر سہولیات کا اضافہ کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً تین لاکھ ملکی اور غیر ملکی سیاح چھانگا مانگا سیر کے لیے آتے ہیں۔
اتوار اور سرکاری چھٹی والے دن اس جنگل میں ایک فاریسٹ ٹرین (ٹرام) بھی چلتی ہے جو مہتابی جھیل سے پورے جنگل میں تقریباً 25 کلومیٹر کا فاصلہ آدھے گھنٹے میں طے کر کے آپ کو ایک قدرتی جنگل کے ماحول سے روشناس کرواتی ہے۔ اس ٹرام کی ایک دو بوگیاں ائرکنڈیشنڈ بھی ہیں اور ان میں پڑی آرام کرسیاں آپ کے آرام و سکون میں اضافہ کرتی ہیں۔ مہتابی جھیل پہنچ کر کشتی رانی سے لطف اندوز ہونے اور معلق پلوں پر چلنے سے بھی آپ کی ایڈونچر والی طبیعت میں ہلچل پیدا ہوجاتی ہے۔
اس جنگل میں تقریباً چار ہزار لوگ مختلف کالونیوں میں رہتے ہیں اور یہ لوگ شہتوت کے پتوں سے ہر سال 4500 اونس ریشم کے کیڑے پالتے ہیں، جن سے کم و بیش چار ہزار من خام ریشم حاصل کیا جاتا ہے۔ 1981ء میں ایک تخمینہ لگایا گیا کہ اس سال جنگل کی ٹہنیوں اور پتوں کی فروخت سے لگ بھگ بیس لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی۔ باقی لکڑی کی قیمت کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔
چھانگا مانگا جنگل کے اندر سفاری پارک اور چڑیا گھر میں ہرن، مور، عقاب، گدھ، جنگلی مرغیاں، نیل گائے، بارہ سنگھے، خرگوش، بندر، تیتر، بٹیر، گیڈر، بڑے سائز کے بلے اور بہت سے جانور کثرت سے پائے جاتے ہیں اور سیر کرنے والوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ سفید مور کے ناچ سے تو آپ عش عش کر اٹھیں گے۔
جنگلات کسی بھی ملک اور اس کے باسیوں کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سرکاری حوالے سے کل رقبے کا صرف تین فی صد جنگلات ہیں اگر اس میں ذاتی زمینوں پر لگائے جانے والے درختوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تناسب چھے فی صد تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی معیار کے مطابق اسے پچیس فی صد ہونا چاہیے۔ ہر سال شجر کاری مہم تو چلائی ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا۔ حکومت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ہر سال درختوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved