تازہ ترین  

لازوال تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ، نوجوان آرٹسٹ جناب حافظ عادل محمود کا خصوصی انٹرویو
    |     5 months ago     |    تعارف / انٹرویو
لازوال تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ، نوجوان آرٹسٹ جناب حافظ عادل محمود کا خصوصی انٹرویو  آپکی بات پر

انٹرویو بائی: مریم شہزادی

حافظ عادل محمود نے 2003 میں روزنامہ سماج( جو کہ گجرانوالہ کا اخبار ہے) میں کارٹونسٹ کے طور پر کام شروع کیا۔ 2006 میں روزنامہ جنگ میں بطور کارٹونسٹ کام کرتے رہے۔ 2007 میں روزنامہ نوائےوقت میں بطور کارٹونسٹ تقرری کی ۔اس کے علاوہ پاکستان کے بہت سے قومی اخبارات میں کارٹونسٹ کی حیثیت سے کام کرتے رہتے۔ 2012 میں APNS کی طرف سے بیسٹ کارٹونسٹ کے لئے چنا گیا ۔ 2008 میں لاہور میں سی- ایم پنجاب پرویز الہی کی طرف سے بیسٹ کارٹونسٹ آف پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اس وقت تک 10,000 کے قریب کارٹونز بنا چکے ہیں۔ لا تعداد پینٹنگز بنا چکے ہیں جن کی نمائش ملک بھر کے بڑے شہروں میں لگ چکی ہے۔ 2012 میں باقاعدہ آرٹسٹ کے طور پر کام کیا۔ لائیو آرٹسٹ کے طور پر مری مال روڈ پر کھڑے ہو کر لوگوں کے لائیو سکیچیز بناتے رہے۔ایک لمبے عرصے تک کینیڈین پبلکیشن کے لئے کام کرتے رہے۔
یہ واحد پاکستانی ہیں جن کے کارٹونز ملائیشیا کے اخبار “دی سن ڈیلی” میں بھی پبلش ہوتے رہے ہیں۔
اس وقت ایک اپنا ارادہ ” نیشنل انسٹیٹیوٹ آف آرٹس” گجرانوالہ آرٹ کونسل میں آرٹ کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں 

سوال: پینٹنگ کا شوق کب سے ہے آپ کو؟
جواب: پینٹنگ کا شوق بچپن سے ہی ہے۔ یہ سمجھ لیں خون میں ہی تھا پیدائشی طور پر۔ میں عام بچوں کی طرح نہ تو پتنگ اڑاتا تھا اور نہ ہی گراونڈ میں کرکٹ کھیلنے جاتا تھا۔ بچپن سے ہی میں ڈرائنگ کا شوقین ہوں۔ پہلی ڈرائنگ میں نے چار سال کی عمر میں بنائی تھی۔ اور تب سے اب تک ڈرائنگ کر رہا ہوں۔
سوال: پاکستان میں آیک آرٹسٹ کی اور آرٹ کی کتنی اہمیت ہے؟
جواب: پاکستان میں اس کی اتنی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اور اہمیت حکومت نے اور ہم آرٹسٹس نے مل کر بنانی ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا ایسا کام کریں کی عوام اور حکومت ہمیں فوکس کرنے پر مجبور ہو جائے
سوال: اس شعبہ کی اہمیت نہ ہونے کی وجہ کیا ہے آپ کے مطابق؟
جواب:پاکستان میں اس کی زیادہ اہمیت اس لئے نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں ہر اس چیز کی اہمیت ہے جس سے زیادہ لوگ جڑے ہوں۔ جس میں باقاعدہ کمیشنز ہوں۔ آرٹ ایسی چیز ہے جو آپ کی روح کو تسکین دیتی ہے۔آپ کو مطمئین کرتی ہے۔ اور اس میں کسی کو کمیشنز نہیں ملتیں کیونکہ ایسا کوئی پلین مرتب نہیں کیا گیا۔ کوئی پیرامیٹر نہیں ہے جس سے اسے باقاعدہ ایک بزنس کے طور پر اپنایا جائے. اور اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ نہیں ہے کیونکہ پاکستانیوں کی سوچ صرف کھانے پینے سے شروع ہو کر پہننے اوڑھنے پر ختم ہو جاتی ہے کوئی اس طرف توجہ ہی نہیں کرتا۔ آج کے دور میں آرٹسٹ بہت کم ہیں۔
سوال: اس فیلڈ کی طرف آنے والے نئے لوگوں کا مستقبل کیا ہے؟

جواب: اس فیلڈ میں آنے والے نئے لوگوں کا مستقبل بہت اچھا ہوگا انشاءاللہ۔ اب پاکستان میں بھی آرٹ کی مارکیٹ بن رہی ہے جس سے نئے لوگ بہت مستفید ہوں گے۔
سوال: آپ کبھی ڈس ہارٹ ہوئے؟
جواب: جی ہاں میں ڈس ہارٹ ہوتا رہا ہوں لیکن اب ہونا چھوڑ دیا ہے
سوال: آپ کی اس کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں؟
جواب: سنگنگ کرنا ، کتابیں پڑھنا اور دوست بنانا۔ ایڈوینچر بکس پڑھنا پسند کرتا ہوں۔
سوال: آپ کو زیادہ غصہ کس بات پہ آتا ہے؟
جواب: یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ مجھے غصہ کسی بھی چیز پہ آ جاتا ہے۔ کوئی خاص چیز ایسی نہیں ہے جس پہ غصہ آتا ہو۔ زیادہ غصہ حاسد اور منافق لوگوں پہ آتا ہے۔
سوال: آپ کا کوئی ایسا سٹوڈنٹ جسے کام کرتا دیکھ کر آپ کو احساس ہوا ہو کہ یہ بہت آگے جائے گا؟
جواب: جی جی میرے ایسے بہت سٹوڈنٹس ہیں جو کہ کام میں مجھ سے کہیں اگے ہیں اور یقینا یہی پاکستان اور آرٹ کا روشن مستقبل ہیں۔


سوال: آپ کی سب سے پہلی تنخواہ کتنی تھی؟
جواب: میری پہلی تنخواہ 2003 میں 1200 روپے تھی۔
سوال: عکس ﺁنکھوں سے ﺩﻝ میں ﻧﻘﺶ ﮨﻭﺗﺎ ﯾﺍ ﺳﺎﻣنے ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺭ ﺑﻨﺎتے۔؟
جواب: عکس آنکھوں سے دل میں اتر جاتا ہے۔ تخیلی عکس بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔
سوال: تخیل کی پرواز ہوتی ہے یا حقیقت کی عکاسی؟
جواب: یہ دونوں کرنے کی کوشش کرتا ہوں مطلب تخیل میں بھی حقیقت کی عکاسی کرتا ہوں ۔

سوال: کون سے مناظر زیادہ متاثر کرتے ہیں ؟
جواب: مجھے قدرتی مناظر اور ان میں سب سے زیادہ گاوں کے مناظر بہت متاثر کرتے ہیں۔
سوال: پینٹنگ کہا جاتا ہے کہ آرٹسٹ کے دل کی عکاسی کرتی ہے کیا آپ بھی اپنی بات کہنے کے لئے پینٹنگ کا سہارا لیتے ہیں؟
جواب: جی یہ بات بلکل درست ہے کہ پینٹنگ آرٹسٹ کی سوچ اور اس کے دل کی عکاسی کرتی ہے۔ میں بھی اس کے ذریعے خیالات کا اظہار کرتا ہوں اور دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہوں
سوال: آج کے دور میں پینٹنگ کو کس مقام پر دیکھتے ہیں؟
جواب: اس دور میں یہ شعبہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ عروج پکڑ چکا ہے۔ اب اس میں نئے لوگوں کا بہت اضافہ ہوا ہے جو کہ قابل فخر بات ہے ہمارے لئے۔
سوال: پینٹنگ کی کتنی اقسام ہیں؟
جواب: پینٹنگ کی اقسام بہت زیادہ ہیں جن میں لینڈ اسکیپنگ یعنی مناظر، سٹل لائیف یعنی کسئ بے جان چیز کو سامنے رکھ کر بنانا، لائیو ڈرائنگ یعنی کسی سامنے بیٹھے انسان کی جاندار کی تصویر بنانا، اور اب تو اس کی اقسام اور بھی وسیع ہو گئی ہیں ہاتھوں سے پینٹنگ کرتے ہیں لوگ برش سے کرتے ہیں ، چاکو سے کرتے ہیں۔ انسٹالیشن کرتے ہیں تھری ڈی ہو گیا ہے اب تو یہ معاملہ۔
سوال: ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺍنتہائی مہنگا مشغلہ ہے اس مہنگائی کے دور میں اس شوق کی تکمیل کے لیے یا اس کی نمائش کے لیے کیا مشکلات پیش آئیں؟
جواب: یہ بلکل بھی مہنگا مشغلہ نہیں ہے۔ دراصل یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ گئی ہے کہ یہ مہنگا مشغلہ ہے۔ حالانکہ اب تو پینٹس بھی آسانی سے مل جاتے ہیں اگر ایک مرتبہ اچھے برش اور پینٹس خرید لئے جائیں تو وہ کافی عرصہ کام کرتے ہیں۔ اور جہاں تک نمائش کی بات ہے وہ بھی مشکل نہیں ہے۔ شوق ہو تو ہر کام ہی بہت آسان ہے ہر شہر میں آرٹ کونسل موجود ہے جو کہ آرٹ کے لئے کام کر رہا ہے۔ آپ ان سے رابطہ کریں وہ ضرور کروائیں گے اس کی نمائش ۔
سوال؛ سٹوڈنٹس کے لئے آرٹ کے لئے کوئی ٹپش دینا چاہیئں گے؟
جواب: میں یہی کہوں گا کہ پریکٹس۔۔۔۔۔ پریکٹس جو ہے وہ بہت اہم ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ایک سکیچ ضرور بنائیں کیونکہ اگر میں اپنا سارا علم بھئ کسی کو دے دوں اور وہ پریکٹس نہ کرے تو وہ کچھ بھی نہیں ہے۔
دوسری بات جو میں کہنا چاہوں گا کہ آپ جو بھی کریں اپنی ثقافت اور روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں۔ تیسری بات یہ ہے کہ آرٹسٹ ایک شخصیت ہوتا ہے۔ اسکا رویہ آرٹسٹس جیسا ہو اس میں سے ایک آرٹسٹ نظر آنا چاہیے۔ اسے اپنے اردگرد کی چیزوں کو آرٹسٹک ویو سے دیکھنا چاہیے۔ اور پریکٹس بہت اہم ہے آرٹسٹ کے لیے






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved