تازہ ترین  

آئی سی سی ورلڈ ٹی 20کی تاریخ۔۔۔۔تحریر:نادیہ خان بلوچ
    |     1 years ago     |    سپورٹس
آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 جسے کچھ لوگ ٹی 20 ورلڈ کپ بھی کہتے ہیں اصل میں یہ ورلڈ کپ نہیں بلکہ ورلڈ ٹی 20 ٹورنامنٹ ہے جو کہ آئی سی سی کراتی ہے۔ورلڈ کپ صرف ایک ہوتا ہے جو ہر 4 سال بعد ہوتا ہے50 اوورز کا۔ جبکہ آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 ہر دو سال بعد ہوتا ہے جو کہ بیس اوورز کا مختصر مگر کافی سنسنی خیز اور نہایت دلچسپ میچ ہوتا ہے۔ فرسٹ اوور سے آخری اوور تک اکثر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کونسی ٹیم جیتے گی کیونکہ کبھی بھی کسی بھی اوور میں میچ پلٹ سکتا ہے کسی بھی ٹیم کا پلڑا بھاری ہوسکتا ہے اور گیم چینج ہوسکتی ہے۔ ایسا کئی بار ہوا ہے۔پہلی بار آئی سی سی ورلڈ ٹی 2007 ساو¿تھ افریقہ کی سرزمین پر کھیلا گیا۔ جس میں 12 ٹیموں نے حصہ لیا۔ یہ ٹورنامنٹ 11 ستمبر کو شروع ہوا 24 ستمبر کو اسکا فائنل تھا۔ جو کہ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا۔ انڈیا نے 5 رنز سے پاکستان کو مات دے کر یہ ٹرافی اپنے نام کر لی۔ اسکے بعد 2009 میں دوسرے آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کا انعقاد انگلینڈ کی سرزمین پر کیا گیا۔جسکے فائنل تک سری لنکااور سابقہ رنز اپ ٹیم یعنی کہ پاکستان نے رسائی حاصل کی۔پاکستان نے کپتان یونس خان کی قیادت میں بروز اتوار 21 جون کو یہ فتح اپنے نام کرلی۔ یوں دوسری بار بھی آئی سی سی ورلڈ ٹی20 ٹرافی بھی ایشیا میں آئی۔ اس کے بعد تیسرا آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 ٹورنامنٹ 2011 کے ورلڈ کپ کی وجہ سے 2010 میں کرانا پڑا۔ جو کہ انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ہرا کر اپنے نام کیا۔2012 میں پہلی بارآئی سی سی ورلڈ ٹی 20 ٹورنامنٹ ایشیا کی سرزمین پر منعقد ہوا۔ تمام میچز سری لنکا کی سرزمین پر کھیلے گئے۔ اب کی بار بھی دوسری بار سری لنکا نے فائنل تک جان لڑائی مگر اب بھی کامیابی ہاتھ آتے آتے رہ گئی۔اور سری لنکا کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں ورلڈ ٹی ٹونٹی 2012 کی فاتح ویسٹ انڈیز رہی۔آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کا 5واں ٹورنامنٹ ایک بار پھر سے ایشیا کی سرزمین بنگلہ دیش پر ہوا۔ آخر کار اب کی بار سری لنکا کو انکی مسلسل محنت کا صلہ مل گیا۔ اور یہ فائنل سری لنکا نے جیت لیا جو کہ 3 مرتبہ فائنل تک پہنچنے کا اعزاز رکھتی ہے۔2014 کے ورلڈ ٹی 20 تک پاکستان کی کارکردگی کچھ یوں رہی کہ 2007 کے فائنل تک پاکستان پہنچا مگر بھارت سے فائنل ہار گیا۔ جبکہ 2009 میں پاکستان نے فائنل میں پہنچ کر فتح سمیٹی۔ 2010 اور 2012 میں بھی پاکستان سیمی فائنل تک پہنچا مگر آگے نہ جا سکا۔ جبکہ گذشتہ آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں پاکستان کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی اور راو¿نڈ سٹیج سے ہی باہر ہوگیا۔ جبکہ آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں تیزترین سنچری سکور کرنے کا اعزاز ساو¿تھ افریقہ کے بیٹسمین آر لیوی کے پاس ہے جنہوں نے 2012 میں ہمیلٹن کے میدان میں 45گیندوں پر نیوزی لینڈ کے خلاف تیز ترین سنچری بنائی۔جبکہ دوسرے نمبر کا اعزاز بھی ساو¿تھ افریقہ کے ہی بیٹسمین ڈیو پلیسسز کے پاس ہے جنہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 46 گیندوں پر آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں دوسری تیز ترین سنچری سکور کی. جبکہ سب سے زیادہ وکٹس لینے والے سری لنکن بالر ملنگا ہیں۔ جنہوں نے 31 میچز میں 38 وکٹیں لیں۔ جبکہ آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں فرسٹ سنچری سکور کرنے کا اعزاز ویسٹ انڈیز کے کرس گیل کے پاس ہے۔جنہوں نے 2007 میں 20ویں میچ میں سنچری بنائی۔ کرس گیل رواں آئی سی سی ورلڈ ٹی 20، 2016 میں 47 گیندوں پر تیسری تیز ترین سنچری سکور کرکے آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 ریکنگ میں تیسرے نمبر پر بھی آگئے ہیں۔ جبکہ پانچواں نمبر بھی انکا ہی ہے۔ رواں ورلڈ ٹی20 کے بعد آئی سی سی کے صدر نے فیصلہ کیا ہے آئندہ 4 سال بعد یہ ٹورنامنٹ کیا جائے۔ اب اگلا آئی سی سی ورلڈ ٹی20 چار سال بعد آسٹریلیا میں ہوگا۔رواں ورلڈ ٹی20 میں بھارت کو فیورٹ قرار دیا جارہا ہے کیونکہ ابھی چند روز پہلے بھارت ایشیا کپ جیت چکا ہے اور اس سے پہلے 2015 کے ورلڈ کپ میں بھارت نے کافی اچھی کارکردگی دکھائی۔اس لیے اسے فیورٹ کہا جارہا ہے۔ یہ رواں ورلڈ ٹی20 ایشیا کی سرزمین پر ہونے والا اب تک کا تیسرا آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 ہے۔اور اسے اب تک کے ہونے والے تمام ٹورنامنٹ میں سے سب سے زیادہ یاد رکھا جائے گا۔ کیونکہ جس قدر اسے منعقد کرانے میں میزبان بھارت نے مسائل پیدا کیے ہیں شاید ہی پہلے کبھی ہوئے ہوں۔سب سے پہلے بھارت نے پاکستانی ٹیم کو سیکورٹی فراہم کرنے سے انکار کیا اسکے بعد میچ کی جگہ چینج کرانا پڑی۔ آئی سی سی کے صدر نے بھارتی سور ماو¿ں کے آگے ہار مان کے پاک بھارت میچ دھرم شالہ سے کولکتہ منتقل کیا۔پھر پاکستان ٹیم کو کسی صدر کے برابر مجبور سیکورٹی فراہم کی گئی۔ مگر اس سب کے باوجود آئی سی سی نے بھارت کے خلاف کوئی سخت ایکشن نہ لیا۔ بلکہ اسے دونوں ملکوں کے بیچ کا معاملہ قرار دے دیا۔ اب آئی سی سی کو چاہیے آئندہ پاکستان میں بھی ورلڈ ٹی20 کرائے۔ جب بھارت میں اتنی دھمکیوں اور خطروں کے باوجود پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک وہاں کھیل سکتے ہیں تو آئی سی سی کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بھی انصاف کرے۔ ایشیا کے تین ممالک بنگلہ دیش،سری لنکا اور بھارت کے بعد اب اگلی میزبانی کی باری پاکستان کی آتی ہے۔ پاکستان میں بھی انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کےلیے آئی سی سی کو بھی ساتھ دینا ہوگا۔ پی سی بی کو چاہیے اب آئندہ جلد سے جلد پاکستان میں آئی سی سی ورلڈ ٹی20 لانے کےلیے آئی سی سی مشاورت کرے۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved