تازہ ترین  

انعام الحق معصوم صابری ملتان پاکستان
    |     4 months ago     |    تعارف / انٹرویو

نام انعام الحق
قلمی نام انعام الحق معصوم صابری
تاریخ پیدائش 6 جون 1962
جائے پیدائش ملتان پاکستان
تعلیم گریجوایشن
فارماسیوٹیکل انڈسٹری سے 30 سال تک مختلف عہدوں پر وابسطہ رہے
پہلا کلام نعت شریف گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میگزین نخلستان میں 1980 میں شائع ہوا
ابتدا بچوں کی کہانیاں لکھ کر کی مختلف اخبارات و رسائل نوائے وقت امروز آفتاب جنگ سنگ میل جسارت اخبار جہاں جگنو سوات وغیرہ میں لکھا
کہانیاں افسانے مضامین انشائیے نظمیں نعتیں اور غزلیں لکھیں
باقاعدہ شاعری کا آغاز 2015 سے کیا اور مختلف ادبی گروپس میں طبع آزمائی کر رہے ہیں
بنیادی طور پر نعت گو شاعر ہیں اور غزلوں میں بھی نعتیہ رنگ جھلکتا ہے
علم عروض کی بنیادی تعلیم نوجوان شاعر پارس مزاری سے لی
باقاعدہ نعتوں کی اصلاح پروفیسر حافظ محبوب احمد صاحب سے لی
دیگر افراد جن سے رہنمائی حاصل کی
نسیم شیخ صاحب شازیہ شازی صاحبہ منظور احمد صاحب فریاب اعظمی صاحب ھاشم علی ہمدم صاحب
پہلی اور اب تک کی آخری کتاب بچوں کی کہانیوں کی کتاب "شور نہیں کروں گا...."1990 میں شائع ہوئی جسے نیشنل بک کونسل آف پاکستان نے سال کی بہترین بچوں کی کتاب قرار دیا
روزنامہ یادیں انٹرنیشنل ہفت روزہ فیسبک ٹائمز انصار ادب اور قلم حروف دوست ادبی تنظیم نے ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا

نمونہءکلام

یکجا کوشش

گرمائے مومنوں کو رسول خدا کی مدح
محبوب ہے دلوں کو حبیب خدا کی مدح

برسات بن برستی ہے انوار کی پھوار
کرتا ہے جو بھی پاک نبی مصطفی کی مدح

گلشن دلوں کا ہوتا ہے سر سبز یاد میں
بھیجے درود اور کرے مجتبی کی مدح

شافع ہیں اور ساقیء کوثر بھی آپ ہیں
سارا جہان ہے کرے خیرالوری کی مدح

جب تک ہے جان جسم میں اپنے تمام عمر
کرتے رہیں گے ہم سدا بدرالدجی کی مدح

معصوم فکر خوف نہیں حشر کی ہمیں
بن کر رہے گی ڈھال یہ شمس الضحی کی مدح

نعت مبارک

قائم رہے سدا نبی سرور سے ربط ضبط
ہوتا رہے خیال کا محور سے ربط ضبط

طیبہ رہوں میں بن کے گدا آپ کا ہمیش
کرتا رہوں کشید میں پیکر سے ربط ضبط

نعتیں پڑھوں جو آپ کی در گہ پہ آ کے میں
بڑھتا رہے اسی طرح داور سے ربط ضبط

سیرت پہ آپ کی ہو عمل رات دن مرا
جنت میں پھر جڑا رہے کوثر سے ربط ضبط

معصوم سرخرو وہ زمانے میں ہو گیا
"جس سر کا ہو گیا در سرور سے ربط ضبط"

انعام الحق معصوم صابری

نعت مبارک

مالک دوجہاں مجتبی آ گئے
مرحبا مرحبا مصطفی آ گئے

زندگی بن گئی روشنی روشنی
ماہ عرب و عجم مرحبا آ گئے

دست شفقت غریبوں پہ ہے رکھ دیا
وہ یتیموں کے خیرالوری آ گئے

مہکی خوشبو مدینے میں ہے جا بجا
وہ پسینے کی لے کر ہوا آ گئے

رب نے معراج پر تھا بلایا انہیں
تو کہا سب نے پھر مصطفی آ گئے

وہ جو تحفہ نمازوں کا ان کو ملا
وہ اماموں کےسر دار شہ آ گئے

آج معصوم بھر لے تو کشکول بھی
بانٹنے آج جودو سخا آ گئے

غزل

چلو مدینہ چلیں مل کے سب سفینوں میں
درود پاک سجا کر سلام سینوں میں

وفا کی کوئی بھی ریکھا نظر نہیں آتی
"تمہیں پتہ ہے مرے ہاتھ کی لکیروں میں"

بہار آئی چمن میں تمہارے آنے سے
ملا سکون مجھے زیست کے جھمیلوں میں

پلایا آب پیالے میں اس نے مٹی کے
مزہ عجیب ہے مٹی کے آبگینوں میں

خیال اس کا رہے دل میں اور خوابوں میں
کہ جس کا نام نہیں ہاتھ کی لکیروں میں

نہ اب زمانہ ہے جو قید کر سکے ہمدم
کسی انار کلی کو بڑی فصیلوں میں

قرار چھین لے یوسف جو پھر زلیخا کا
وہ حسن ہے کہاں معصوم اب حسینوں میں

غزل

مجھ سے ملنے میں مزہ کیسا ہے آ کر دیکھو
"دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو"

کون سنتا ہے زمانے میں غریبوں کی صدا
حکمرانوں کے ضمیروں کو جگا کر دیکھو

روٹھنے میں بھی , منانے میں مزہ ہوتا ہے
تم ذرا مجھ کو صنم میرے منا کر دیکھو

خوب گزرے گی مرے دل میں بسو جان من
آج گھر میں مرے تم ذرا آ کر دیکھو

کب تلک بیٹھے رہو گے یوں چھپا کر چہرہ
دل کئی مچلیں گے پردہ یہ ہٹا کر دیکھو

وہ تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل بھی ہو
سامنے رب کے یہ سر اپنا جھکا کر دیکھو

کب تلک غیر کی چوکھٹ پہ رہو گے معصوم
آج تم ان کی بھی آغوش میں جا کر دیکھو






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved