تازہ ترین  

میں کون ہوں اے ہم نفاق؟
    |     3 months ago     |    تعارف / انٹرویو
میں کون ہوں اے ہم نفسو؟ میرا نام معاذ عتیق راز ہے...... میں 1982ء میں تحصیل گوجر خان(شرقی) کے ایک قصبے مندھال میں پیدا ہوا...... گوجر خان ضلع راولپنڈی کی تحصیل ہے......ابتدائی دینی تعلیم اپنے گاؤں کی مسجد میں اپنے خالو صوفی محمد بشیر صاحب سے حاصل کی.... صوفی صاحب ایک نفیس طبع' اور خوب سیرت انسان ہیں....میرے تمام ہم عمر ساتھیوں نے انہی سے ناظرہ قرآنِ کریم پڑھا..... ابتدائی عصری تعلیم گاؤں کے پاس ایک مکتب میں اپنے والد محترم اور گھر میں دادا جی منظور احمد رح سے حاصل کی...... بعد ازاں والد صاحب کا تبادلہ گاؤں سے کچھ دور پرائمری سکول میں ہو گیا.....والد صاحب نے مجھے قریب شہر کے انگلش میڈیم سرسید پبلک سکول میں داخلہ دلوا دیا....ایک سال بعد والد صاحب نے میرا بھی اسی سکول میں داخل کروا دیا...جس میں خود مدرس تھے... اور اپنی نگرانی میں تعلیم دلوانے لگے..... سکول میں ابتدائی طور پر والد محترم کے علاوہ بہت ہی ملنساز اور مشفق اساتذہ کرام' ماسٹر محمد سلیمان' ماسٹر قاضی محمد خلیل' حفظھم اللہ اور ماسٹر مسکین شاہ رح ' سے پرائمری تک تعلیم حاصل کی ....اس دوران والد صاحب تعلیم و تدریس چھوڑ کر روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب آ گئے جو تا حال سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہی مقیم ہیں.......بعد ازاں دوبارہ سرسید پبلک سکول انگلش میڈیم میں داخلہ لے لیا ... جماعت ششم اور ہفتم پاس کرنے کے بعد جماعت ہشتم کے لیے گاؤں کے قریب گورئمنٹ ہائی سکول تھاتھی میں داخلہ لے لیا...یہاں پر اپنے مشفق استاد ماسٹر گل بہار خان صاحب(جو آج کل اسی سکول میں ہیڈ ماسٹر ہیں)' ماسٹر اللہ دتہ صاحب ' ماسٹر رب نواز صاحب' ماسٹر خالد کیانی صاحب' حفظھم اللہ اور ماسٹر جاوید رح سے تعلیم حاصل کی..... جماعت ہشتم امتیازی نمبروں سے پاس کر لی تو والد صاحب نے فیصلہ کیا کہ پہلے دینی تعلیم دلوائی جائے.... دینی تعلیم کے لیے 1995 ء میں ضلع جہلم کی مشہور و معروف درس گاہ جامعہ علوم اثریہ میں داخلہ لیا.....یہاں پر 1995ء سے 2003 ء تک زیر تعلیم رہا ...یہاں پر تمام اساتذہ ہی محنتی اور محبت کرنے والے تھے... جن میں پیر محمد یعقوب قریشی ' علامہ محمد مدنی رحمھم اللہ انتہائی مشفق استاد تھے....اللہ تعالی ان کی قبروں کو منور فرمائے... درس نظامی مکمل کر لینے کے بعد گاؤں واپس آ گیا ...اور شہر کے ایک پرائیویٹ سکول میں میٹرک سائنس سیکشن کے لیے داخلہ لینے کا فیصلہ کیا تو اس وقت آدھا سال گزر چکا تھا اور داخلے جانے کا موسم شروع ہونے والا تھا ... ماسٹر گل بہار خان صاحب جن سے میں نے جماعت ہشتم میں پڑھا تھا.... جو میرے والد محترم کے ہم نوالہ و ہم پیالہ بھی ہیں....بڑے محنتی اور اپنے پیشے سے مخلص ہیں... میں ان کو چاچا اور وہ مجھے بھتیجا کہتے ہیں.....فرمانے لگے! " معاذ بچے! وقت بہت کم ہے.... آپ سائنس کے ساتھ میٹرک پاس نہیں کر سکو گے...یہ کوئی خالہ جی کا گھر نہیں... میٹرک ود سائنس اس کو کہتے ہیں..... میتھ' کیمسٹری' فزکس' اس میں پڑھنی پڑتی ہے.... اور آدھا سال بھی گزر چکا....میں نے کہا! چاچا جی! میں.آپ کو یہ کلاس پاس کر کے دکھاؤں گا.....آخر دو دن بعد میرا داخلہ ہو گیا....... ایک سے بڑھ کر ایک محنتی اور مخلص استاد' موجود تھے.... سائنس ٹیچر ماسٹر امجد صاحب اور مظہر شاہ صاحب تھے.... انگلش ماسٹر جمشید کیانی صاحب( جو کہ اس وقت اپنی یو سی کے چیئرمین بھی ہیں) تھے.... اردو اور اسلامیات کی کتب نعیم کیا صاحب سے پڑھی....میں نے عہد کے مطابق کمر کس لی اور جماعت نہم کا جب نتیجہ آیا تو اپنی دو یو سیز کے تمام گورئمنٹ و پرائیویٹ سکولوں سے ٹاپ کرتے ہوئے میں نے پہلی پوزیشن حاصل کی...وہ دن میری خوشی کا ایسا دن تھا... جس کو میں آج تک نہ بھول سکا.....اس کے بعد اسی سکول سے میٹرک مکمل کیا .... اور ٹیلی کام میں ایسوسی ایٹ انجئنرنگ کرنے کے لیے اسلام آباد ٹیلی کام فاؤنڈیشن میں داخلہ لے لیا......یہاں سے 2008 ء میں فارغ ہو کر اپنے شہر کے اسی سکول میں سائنس ٹیچر کے طور پر بھرتی ہو گیا.....جس سے بچپن میں تعلیم حاصل کی تھی.... اور ساتھ ساتھ اپنے گاؤں میں جمعہ کا خطبہ اور ترجمہ قرآن کی کلاس شروع کر دی...18 جولائی 2013 ء کو روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب آ گیا.... یہاں پر شروع سے ہی عالم اسلام کے مشہور و معروف ادارے مکتبہ دارالسلام میں ملازمت مل گئی ... ابھی تک اسی ادارے کے ساتھ منسلک ہوں.... درس نظامی کے دوران تقریر و تحریر میرا پسندیدہ مشغلہ تھا ... مکتبہ دارالسلام میں آ کر مجھے پڑھنے لکھنے کا ایک بار پھر موقع ملا... یہاں سے غیر نصابی کتب کا مطالعہ بھی کیا.... لیکن ایک اچھا قلم کار بننا ایک خواب تھا...کہتے ہیں ارادے پختہ ہوں تو منزلیں مل ہی جاتی ہیں.... اور آج یہ دن ہے کہ اپنا تعلیمی سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے ... عظیم استاد اور مہربان و مشفق مدرس کی زیرِ نگرانی یہ کورس کر رہا ہوں..... ...... کرکٹ کھیلنے کا بچپن سے ہی شوقین ہوں.... مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے چاچا یعنی ماسٹر گل بہار خان صاحب نے جماعت پنجم میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر بلا اور گیند انعام میں دی تھی.... اس زمانے میں کرکٹ میں عمران خان' جاوید میانداد' اعجاز احمد' سلیم ملک کا طوطی بولتا تھا..... بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے بیٹری پر بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی وثزن لگا کر میچ دیکھا کرتے تھے........ جنون کا یہ سفر 2013 ء میں تبدیلی کے سفر میں تبدیل ہو گیا..... یعنی نے پی ٹی آئی جوائن کر لی....اس سے قبل سیاسی طور پر ن لیگ کے ساتھ جنون کی حد تک لگاؤ تھا...لیکن جب صحافت کا شعبہ اپنانے کا سوچا تو تمام سیاسی پارٹیوں کو خیر آباد کر دیا... ....... 2014 ء دسمبر میں ہم نے اکیلا رہنا سے توبہ کرتے ہوئے .... ہجر کو طلاق دی اور اپنی کزن اور پڑوسن سے شادی رچا لی... اللہ ہماری مادہ کو سلامت رکھے ....خوش رکھے... اور صحافتی میدان میں ہم کو اشفاق ثانی اور انہیں قدسیہ ثانیہ بنا دے. آمین. معاذ عتیق راز





Comments


شکریہ


فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved