تازہ ترین  

استقامت
    |     2 months ago     |    گوشہ اطفال
استقامت
۔۔۔۔۔
جلد ہی نور ایمان کی سنہری کرنیں سورج کی کرنوں کی مانند اطراف مکہ میں پھیلنے لگی تھی اردگرد کے لوگ اس ایمان کی روشنی سے اپنے قلوب اذہان کو منور کرنے لگے تھے یہاں تک کے اس ایمان کی روشنی و خوشبو پھیلتے پھیلتے یثرب تک پہنچ گئ ۔۔۔یثرب کے ایک نوجوان کو اس محسورکن خوشبو نے مضطرب کردیا تھا ۔۔وہ اس روشنی کی حقیقت سے نا آشنا تھا مگر دل اس کی حقانیت کا قائل ہونے کو کہہ رہا تھا نور ایمان کی خوشبو کی مہک سے مہکنا چاہا رہا تھا مگر ابھی تھوڑا مضطرب تھا نہیں جانتا تھا کہ اس خوشبو کی حقیقت کیا ہے ۔۔۔جو شخص یہ نور کی روشنی پھیلا رہا ہے وہ کون ہے ۔۔کیسا ہے ؟؟۔۔
کچھ دن اسی پریشانی میں گزرے ۔۔دل بے چین تھا وہ مکہ سے آنے والے لوگوں سے پوچھتا مگر تشفی نہ ہوتی تھی ۔۔۔۔آخر اس نے اپنے برادر انیس کو مکہ بھیجنے کا ارادہ کیا ۔۔انیس بڑے پاۓ عقلمند فصیح و بلیغ شاعر تھا وہ مکہ گیا ۔ صاحب نور ایمان نبی مکرم ﷺ کو دیکھتا رہا پھر یثرب واپس آکر اپنے بھائی کو خبر دی کہ وہ شخص جواس دین کی تبلیغ کرتا ہے شرفاۓ قریش میں سے ہے ۔۔نیکیوں کی دعوت دیتا ہے شر سے بچنے کا حکم کرتا ہے ۔۔بخدا اس کا کلام لوگوں کے کلام کے مشابہے ہر گز نہیں ہوسکتا۔ پھر بھی روساء مکہ اس کے دشمن بن چکے ہیں۔

بھائی کی بات سن کر تشفی نہ ہوئی اس لیے خود پیدل یثرب سے مکہ کی طرف چلے آۓ۔
نبی مکرمﷺ کو پہچانتے نہ تھے اس لیے کعبة اللہ میں آکر بیٹھ گے شام سے رات ہوگئ مگر اسے معلوم نہ ہوسکا کعبہ میں لیٹ گۓ۔
حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی نظر ان پر پڑی ۔۔وہ ان کے پاس آۓ۔۔
مسافر لگتے ہو ۔۔؟؟
جی ہاں۔۔ انھوں نے جواب دیا۔۔
میرے ساتھ چلیں ۔۔وہ اٹھ کر حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ساتھ ان کے گھر چلے گے ۔۔
وہاں کھانا کھایا۔۔
نہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ان سے کچھ پوچھا نہ انھوں نے کچھ بتایا۔
صبح ہوتے ہی پھر کعبہ میں آگۓ۔ نبی مکرم ﷺ کا انتظار کرنے لگے ۔۔آپ ﷺ کے بارے میں کسی سے پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔
ایسے ھی صبح سے رات ہوگئ ۔
حضرت علی نے دیکھا کہ وہ کعبہ کے اندر ہی لیٹے ہیں حضرت علی پاس آۓ۔۔
لگتا ہے آپ کا کام نہیں ہوا۔۔؟؟
جی ہاں۔۔ ابھی نہیں ہوا۔۔
حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انکو اپنے گھر لیے گۓ انکو کھانا کھلایا ۔لیٹنے کو بستر دیا۔۔
صبح ہوتے ہی پھر کعبہ میں آگۓ اور نبی مکرمﷺ کا انتظار کرنے لگے..
تیسرا دن بھی ایسے ھی گزر گیا ۔۔وہی لیٹے تھے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی نظر پڑی پاس آۓ۔۔
آپ کے آنے کا مقصد ابھی تک پورا نہیں ہوا۔۔؟؟
نہیں ابھی نہیں ہوا۔ــ
۔انھوں نے جواب دیاــ
حضرت علی نے ان کو ساتھ لیا اور گھر تشریف لائے۔۔کھانا کھلانے کے بعد پوچھا۔
آپ کون ہیں اور کس مقصد سے آئے ہیں۔
انھوں نے کہا اگر راز میں رکھو تو بتا دیتا ہوں۔۔
حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے انھیں اطمینان دلایا۔۔
انھوں نے کہا۔۔
مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہے سنا ہے وہ نیکیوں کی دعوت دیتا ہے برائی سے روکتا ہے ۔ وہ ایسا کلام پڑھتا ہے جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا مگر اس کا اپنا قبیلہ دشمن بنا گیا ہے ۔۔۔ اس شخص سے ملنے کو آیا ہوں۔۔ کیا آپ اس شخص کے بارے میں جانتے ہیں؟؟؟
حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا۔۔
بہت خوب آۓ اور بہت ھی خوب ہوا جو مجھ سے ملاقات ہوگئ۔۔
وہ واقعی اللہ کے نبی ہیں ۔۔
صبح میں ملاقات کروا دونگا۔
صبح ہوتے ہی حضرت علی نے ان سے کہا میرے پیچے پیچے اس طرح چلیے آئیں کہ کسی کو شک نہ ہو ۔۔۔اگر میں کسی کے پاس روکو بھی تو آپ نہ رکنا ۔۔جس مکان میں داخل ہوں اس میں آجانا وہ اسی طرح کرتے گۓ موقعہ مناسب تھا حضرت علی انکو نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں لے آئے
انھوں نے نبی مکرم ﷺ سے سوال کیا مجھے اسلام کے بارے میں بتائیں اسلام کیا ہے ۔۔؟
نبی مکرمﷺ نے اسلام کے بارے میں بتایا تو وہ فورا مسلمان ہوگے
نبی مکرم نے فرمایا تم اپنے ایمان کو چھپاۓ رکھو اور اپنے وطن لوٹ جاؤ جب تہمیں ہمارے ظہور کی خبر ہوجاۓ تب چلے آنا
انھوں نے کہا بخدا میں تو دشمنوں میں اعلان کر کے جاؤنگا پھر وہ کعبہ کی طرف گۓ جہان روساء قریش جمع تھے انھوں نے سب کو باآواز بلند کلمہ شہادت پڑھ کر سنایا
روساء قریش نے کہا اس بے دین کو مارو لوگوں نے مارنا شروع کیا
اتنے میں حضرت عباس کی نظر پڑی انھوں نے جب جھک کر انہیں دیکھا تو کہا کم بختو یہ قبیلہ غفار کا آدمی ہے جہان تم تجارت کو جاتے ہو اور کجھوریں لاتے ہو ۔ لوگ پیچھے ہٹ گے
اگلے دن پھر انھوں نے کعبہ میں جاکر سب کے سامنے باآواز بلند کلمہ پڑھا لوگوں نے پھر مارا عباس نے نے لوگوں کو چھڑکا ۔۔
حضور ﷺ نے انھیں بلایا اور اپنے گھر واپس جانے کا حکم دیتے فرمایا میں عنقریب یثرب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں اس لیے بہتر ہے تم یہاں سے چلے جاؤ اور اپنی قوم کو اسلام کی تبلیغ کرو شاید اللہ تعالی ان کو ہداہت عطا فرماۓ۔
وہ فرمان نبی ﷺ پاتے ہی اپنے وطن یثرب کی طرف لوٹے سب سے پہلے اپنے بھائی انیس سے ملے انھیں اسلام کی حقانیت بتلائی اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی وہ بھی مسلمان ہوگے پھر دونوں بھائی ملکر اپنے تیسرے بھائی انس کے پاس گۓ انھیں بھی اسلام کے بارے میں بتایا وہ بھی مسلمان ہونگے پھر وہ اپنے قبیلے کے لوگوں کے پاس گۓ ۔۔وہاں تبلیغ کی انکی کوششوں و محنت سے سارا قبیلہ غفار مسلمان ہوگیا۔

پیارے بچو!! کیا آپ جانتے ہیں یہ پیارے صحابی رسول کون ہیں ۔۔ ؟ چلوں میں بتاتی ہوں یہ حضرت ابوذر غفار رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقراء نور میواتی پتوکی





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved