تازہ ترین  

خطیب السلام مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی زندگی کا طالب علمانہ مطالعہ
    |     3 months ago     |    تعارف / انٹرویو
ہندوستان کی تاریخ میں پہلا وہ علمی خاندان جسکی پہچان علم وعمل ، زھد وتقوی کےطھارت ہو ، جس خاندان کی عظمت و جلالت کے سبھی قایل ہوں ، جس خاندان کی عھد ساز شخصیتوں نے بلاتفریق مذہب ملت ومسلک انسانیت کی بنیاد پر تعمیر ہندوستان میں اھم کردار ادا کیا ہوا ، جس خاندان کے رجال کار نے دنیا ے مشرق مغرب میں اپنی علمی صلاحیتوں کا لوھا منوا یا ہو ،اور جس خاندان کے اکابرنے تقریباً ڈیرھ صدی تک متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ترجمانی کی ہو ، اسی خاندان سے جڑی اک اہم تاریخ ساز شخصیت کا نام خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی صاحب تھا،بلا شبہ حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب اپنے افکار ونظریات حیات وخدمات میں کی روشنی میں اک عھد ساز شخصیت کا نام تھا جنکے فیوض وبرکات سے عالم انسانیت مستفیض ہورہی تھی،مولانا موصوف کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے ،طویل زمانہ درس تدریس وعظ وخطابت، قیادت و سیادت اور آخری زمانہ میں دارالعلوم وقف دیوبند کا قیام واستحکامیت ،اور ان سب سے بڑھ کر مولانا کی حیات کا حاصل اور جوہر وصف اعتدال اور انسانیت یہ وہ صفاتی جوہر ہنں جو مولانا کو جد۔ امجد بانی دارالعلوم حضرت الامام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے ورثہ علمی سے ملا تھے،احقر کے ذھن میں دو واقعات ہیں مولانا کے تعلق سے اک صفت اعتدال ،دوسرا صفت انسانیت ,

آزادی ہند کے بعد ، مسلمانوں میں مسالک مشارب کو لیکرخوب آپسی انتشار اور اختلافات ہورہے ہیں
مساجد ومدارس خانقاہنں اور ملی تحریکنں وتنظیمنں سبھی مسلک مشرب کی بنا پر تقسیمِ ہوئے
اورہراک مسلک کا اک دوسرے کے یہاں دخول شجر ممنوعہ، سے کم نہیں چنانچہ انھیں ناگفتہ بھی اختلافات کو لیکرپچھلے پچاس سالوں سے میں مسلمانوں میں آپسی مناظرے ہوئے اک دوسرے کے خلاف کتابنں لکھی رسایل منظر عام اے فتویٰ بازی کا دور شروع ہوا
لیکن !مولانا محمد سالم قاسمی صاحب واحد عالم دین تھے جنہوں نے اختلافات کو نہ موضوع تحریر بنایا اور نہیں خطابت ذریعہ کسی مسلک اور اس مسلک کے اکابر علماء کو تنقید وتبصرے کا نشانہ بنایا ہو حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب مسندِ درس تدریس پر فائز یا میدان خطابت میں ہوں یا کسی علمی مجلس کے میر کارواں ،ہر موقع پر انکا خصوصی وصف اعتدال نمایاں رہتا، اور یہی وہ بنیادی عنصر جسکی وجہ سے مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کا مقام عالم انسانیت باالخصوص اہل،علم وعمل کی نظر میں با وقار رہا ، اکابر علماء مکتبہ فکر بریلویت سے تعلق رکھتے
ہوں، یا اھل حدیث، اور جماعت اسلامی سے ہوں یا دیگرمکاتب ۔فکرسے، لیکن مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کا سبھی حضرات کے یہاں تقدس وتکرم ،برقرار رہا
نصف صدی پر مشتمل مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی زندگی ہمارے سامنے موجود ہے مجال ہے کہ مولانا نے مسلمانوں کے مکاتب فکر باالخصوص جماعت اسلامی، جماعت اہل حدیث مکتبہ، فکر بریلوی حضرات، اور دیگر مسالک ومشارب کے خلاف کوئی تقریر کی ہو یا کوئی تحریر لکھی ہو،

مجھے یاد پڑھ تاہے دارالعلوم وقف دیوبند میں امام قاسم لائیبریری کے افتتاح کے موقع پر ہم طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا جب تک ہم مذاھب کو براے راست نہیں پڑھنگے،تب تک ہمارے سامنے حقائق واضح نہیں ہونگے،اس موقع پر حدیث شریف کو بنیاد بنا کر تقریر کی !

جیسا کہ ذکر کیا
فروع اختلافات میں مولانا محمد سالم قاسمی صاحب اعتدال پسند تھے لیکن اپنی بات اور را ے
پر مضبوط رہتے،ایک موقع پر امام قاسم لائیبریری میں احقر نے سوال کیا حضرت کتابوں میں مذکور ہے امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا میں وھی احادیث اور مسایل ذکر کے جو علماء مکہ سے حاصل کے تھے چنانچہ کہا جاتا ہے امام مالک رحمہ االلہ مرتب ہیں، نکہ مدون ،
حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کا جواب آب۔زرسے لکھنے کے قابل ہے فرمایا ظاہر سی بات ہے غیر معمولی طور پر یہ بات درست ہے امام شافعی امام مالک امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کسی نے بھی قرآن کریم اور احادیث شریفہ سے براے راست مسایل اخذ نہیں بلکہ سبھی حضرات علماء عصر سے استفادہ کرتے تھے ہاں شازوناز الگ بات ہے
لیکن امام اعظم ابو حنیفہ واحد عالم ہنں جنھوں نے براے راست مسایل قرآن کریم اور احادیث سے اخذ کے ،چنانچہ اسی بنا پر امام ابو حنیفہ کو امام اعظم کہا جاتا ہے،
پھر امام اعظم کے تفقہ فی الدین پر کلام کرتے ہوئے فرمایا امام محمد کی جب چھ کتب اک یہودی عالم کےسامنے پیش ہوی تو اس یہودی عالم نے فرمایاھذا کتاب محمد ن للاصغر وکیف کان کتاب محمد ن لااکبر ،حضرت ملانا محمد سالم قاسمی صاحب نے ہر دور ہر موقع پر فروع میں اختلافات میں اعتدال کو مضبوطی سے تھامے رکھا لیکن جس فکر اور نظریے کو انھوں اپنایا اس پرمضبوط کھرے اترتے، فقھی مسالک میں امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک پر تھے لیکن دوسرے اءیمہ حضرات کا ادب واحترام ملحوظ رہا
فکر ونظر میں مولانا کا رجحان مسلک دیوبندیت کی طرف رہا ،بلکہ اخیر دور میں دیوبندی مسلک کے امام وترجمان ثابت ہوے
،دنیاءے اہل علم کو جب بھی
جب بھی فکر دیوبند یت آور علماء دیوبند کے منہج اور طریقہ کار کو سمجھنے کی ضرورت پیش آئی تو علماء امت نے مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کو مرجع وماوی سمجھا اؤر بلاشبہ مولانا محمد سالم قاسمی صاحب اس میدان۔ عمل کے میر ۔مجلس ثابت ہوے ،مولانا محمد سالم قاسمی صاحب ظاہر ی وضع وقطع رہن سہن طریقہ زندگی ،علم وعمل کی پختگی اور بے شمار خصوصیات کی وجہ سے علمائے دیوبند کے شان تھے ،
مولانا اپنے وعظ تقریر وتقریر اور علمی مجالس میں اکابر علماء دیوبند کے واقعات سناتے،اورپھر ان واقعات کی روشنی میں علماء دیوبند کے مسلک و مشرب اور منہج واعتدال کو بیان فرماتے

،جیساکہ مذکور ہوا مولانا محمد سالم قاسمی صاحب مسلکی اعتبار سے حنفی تھے تو عام طور پر امام ابوحنیفہ کے تفقہ فی الدین کو خوب مضبوط دلائل کی روشنی میں واضح کرتے، جبکہ موجودہ کے بڑے علماء کرام مختلف فیہ مسائل میں اپنے مسلک پر مضبوطی اور استقامت سے قائم رہ نہیں پاتے
لیکن حضرت مولانا کے یہاں ایسا کچھ نہیں اپنے دورمیں فکر دیوبند ترجمان علوم ولی اللہ کے شارح فقہ حنفی کے مضبوط ترین مدرس ثابت ہونے ،

عام طور پر مولانا محمد سالم قاسمی صاحب مولانا اسماعیل شہید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مولانا محمد قاسم نانوتوی مولانا رشید احمد گنگوہی مولانا اشرف علی تھانوی مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور اپنے والد گرامی کا خوبصورت انداز میں ذکر فرمایا کرتے تھے مولانا کی مجالس میں علمی سوالات خوب تر ہوتے اور اگر سامعین میں کوی سوال نہیں کرتا تو مولانا کو نا گوار محسوس ہوتا اور فرماتے بھائی علمی مجلس ہے نکہ قبرستان اسلے آپ حضرات سوالات کرنں لیکن ہوتا یہی عام طور ادھر اک علمی سوال توادھر مجلس اختتام تک جوابات کا انبار ،بلکہ دریائے علم تھےجسکے چشمہ پھوٹ پڑھتے،اور سامعین خوب استفادہ کرتے،
مولانا کی علمی صلاحیت پر علم ۔کلام غالب تھا جو درحقیقت کاینات علم میں خاندان۔ قاسمیت کی اصل پہچان ہے،
فن خواہ تفسیر کا ہو حدیث شریف یا فقہ اور دوسرے علوم و فنون مولانا علیہ الرحمن کی مکمل طور پر گرفت تھی
حدیث شریف میں سند ۔حدیث پر
بخار ی شریف میں امام بخار ی کے تراجم پر شاندار کلام فرماتے مناسب رہتا حضرت کے تلامذہ میں کوئی صاحب حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کے تراجم بخارے شریف کو مرتب کرے اور علمی دنیاکو استفادہ کا موقع ملے علاؤہ اسکے مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کااصل میدان قرآن کریم اور تفسیر قرآن کریم تھا اور یہ ذوق دور طالب علمی سے ہی شروع ہوا،
دارالعلوم دیوبند کے زمانہ میں انھوں نے معارف القرآن کے نام اک اکیڈمی قائم کی جسکا مقصد تفسیر قرآن کریم اور مبادیات اور علوم و فنون متعلقات۔ تفسیر کی اشاعت کا تھا، لیکن افسوس ناک پہلو معارف القرآن اکیڈمی کا علمی ذخیرہ ضایع ہوگیا اور آج تک پتا چل نہیں پایا اک مرتبہ

احقر نے حضرت سے سوال کیا معارف القرآن اکیڈمی کے نشر واشاعت ومقاصد کے تعلق سے جواب فرمایا ،
ہمارا جو کچہ سرمایہ علمی تھا دارالعلوم دیوبند تھا اور اب ہمارے پاس کچھ نہیں ہے پھر عمر کی اس منزل میں ضعف نقاہت کی وجہ سے کچھ یاد نہیں، بات چل رہی ہے مولانا مولانا موصوف کی تفسیر قرآن کریم پر مہارت کی ،معارف القرآن کا علمی ذخیرہ شایع نہ ہونے کے باوجود مولانا کے بیانات درس تدریس خطابت وصحافت میں تفسیر قرآن کریم اور متعلقات تفسیر کا غلبہ رہا علاؤہ اسکے مبادیات قرآن کریم کے تعلقات سے روحانی معاملات میں علاج با القرآن پر زبردست مہارت تھی اور شاید اس فن میں دوسرا کوئی انکی مقابل ہو ہر آنے والا شخص کیسی پریشانی اور کیسی ضرورت بیان کرے
مولانا علیہ الرحمہ اسکو اسکے مطابق جواب دیتے اور فوراًقرآن کریم کی آیت تلاوت فرماتے ،اور فرماتے بھائی اسکو پڑھ لیا کرنں انشاء اللہ مسایل حل ہوجایگے
مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کا اس بات پر یقین رکھتے اور اپنی مجلسوں میں فرمایا کرتے تھے ہمارے تمام مسایل کا حل قرآن کریم میں موجود ہے اور اس کا عملی نمونہ بھی پیش فرمایا علاج علاج با القرآن کے تعلقات سے مولانا کا ذخیرہ خادم مولانا محمد شاہد صاحب کے پاس موجود ہے ،شاید اسکی اشاعت ہوجاے ، بات چل رہی تھی مولانا محمد سالم قاسمی کے فروعی مسایل اور فکر نظر کے استحکام یت اور استقامت کی مولانا علیہ الرحمہ کو فقہ حنفیف مسلک دیوبند یت اور مدارس اسلامیہ عربیہ کے نظام تعلیم و تربیت پر مکمل استحکام تھا
مجھے یاد پڑھ تا ہے اک موقع پر دارالعلوم وقف دیوبند فقہ اکیڈمی کا سیمینار ہوا جس کا عنوان تھا مدارس ۔اسلامیہ کا نصاب تعلیم کیسے مضبوط ہو لیکن مقالہ نگار حضرات نے سیمنار کے موضوع کا رخ بدل دیا، اور تبدیل نصاب پر مقالہ پیش کرنے لگے ، اور بعض نوجوان علماء نے تبدیل نصاب کے ساتھ ساتھ موجود ہ درس نظامی کے نصاب پر تنقید بھی کی ظاہر سی بات ایسی موقع پر دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم وقف کے اکابر کو ناگوار ی ہوی جسکا اظہار بھی ہوا ،
لیکن مولانا محمد سالم قاسمی صاحب اس حساس موقع ترجمان مدارس ثابت ہوے اور گویا یوں فرمایا ہمںن حالات اور مشکلات سے نہیں ڈرنا صبر ہمت جد وجھد انسان کی کامیاب ترین زندگی کا نام ہے پھر مدارس کے نصاب نظام تعلیم کوہ تقویت اور مستحکم پر خطاب فرمایا مولانا محمد سالم قاسمی صاحب تاریخی خطابات میں وہ بھی تاریخ خطاب جسمن مولانا محمد سالم قاسمی صاحب


اپنے جد امجد امام قاسم نانوتوی حکیم الاسلام مولانا محمد طیب اور اکابر دیوبند تمام مدارس اسلامیہ کی ترجمانی کی حق ادا کیا اسی طرح دارالعلوم دیوبند میں اجلاس رابطہ مدارس اسلامیہ کے موقع پر مولانا کے مختلف بیانات اور دہلی میں وقف بورڈ کے قیام پر مولانا کی یادگار تقریر شاید یہ ذخیرہ شایع ہوجاے





،،مولانا محمد سالم قاسمی صاحب اپنی ہمہ جہت شخصیت کی وجہ سے مصلح الامت بھی ثابت ہوے لیکن ظاہر ی بناوٹ سے دور تھے جو عام طور پر راءج ہے مولاناےاپنے والد گرامی کی وفات حسرت کے بعد سے تصوف اور خانقاہی سلسلہ جاری رکھا لیکن نہ شور اور نہیں ہنگامہ آرائی اور نہ مریدین کا انبار بلکہ کچھ محدود افراد تھے جنہوں نے مولانا سے سلسلہ تصوف میں رجوع کیا ، بعض بڑے بڑے
اکابر علماء مولانا محمد سالم قاسمی صاحب سے فرماتے تھے حضرت آپ خانقاہ قائم کردیں تو حضرت مولانا منع فرماتے اور یوں فرماتے نہ جانے کیا ہوا لوگوں کو

خانقاہ اور تصوف کو سھل سمجھ رکھا ہے حالانکہ غیر معمولی طور پر یہ بہت بڑھی زمیہدار ہے ، مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نے اپنے منسلکین حضرات کی ،تعلیمات ۔قرآن کریم کی روشنی میں اصلاح فرماتے باالخصوص جماعت کے ساتھ نماز کی پابندی ،قرآن کریم تلاوت اور حسب سہولیات اوراد وظائف کی پابندی اور اوقات کے قدر ہدایت،

مولانا محمد سالم قاسمی صاحب تصوف اور اصلاح امت کے میدان میں اپنے استاد محترم مولانا اشرف علی تھانوی کے جانشین نظر آتے متفرقات کے طور پر کچھ باتیں ذکر کی جارہی ہیں
طویل آذان اور اقامت کے بارے میں فرمایا کرتے نہ جانے کیا ہوا لوگوں کو آذان کو اپنے سانس کے تابع بنا لیتے ہیں
امامت کے تعلق سے فرمایا اک صاحب نے قرات طویل کے ساتھ نماز پڑھائی تو حضرت نے فرمایا یہ شعبہ تجوید نہیں ہے یہ منصب امامت ہے جسمیں مقتدی حضرات کا خیال رکھنا چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف بیان فرمای جسمیں
نماز ہلکہ پڑھانے کا ذکر ہے

مضمون کے شروع میں مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کے متعلق یہ بات ذکر کی مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی کامیاب ترین زندگی کا حاصل انسانیت تھا بلا تفریق مذہب وملت انسانیت کی خدمت اور خیر خواہی مولانا علیہ الرحمہ کا مشن تھا
اک موقع الہ آباد ہائی کورٹ کے جج برکت اللہ صاحب مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے دوران گفتگو جج صاحب کے پی اے نے تعارف کرتے ہوئے فرمایا ماشاءاللہ جناب برکت اللہ صاحب مسلمانوں کے مسایل کے تعلق سے پیدار رہتے ہیں اور جناب برکت اللہ صاحب اک مسلم پرست ہ
رہنما ہیں

اس بات پرحضرت خفاء ہوئے اور فرمایا آپ مسلم پرست ہنں تو ہندوپرست کون ہوگا ؟پھر فرمایا ہمینں انسانیت کا خادم ہونا چاہیے اور قرآن کریم کی تلاوت فرمائی ھد اللعالمین حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نے بحیثیت قیادت و سیادت انسانیت کی بنیاد پر امت مسلمہ کی رہنمائی فرمائیں چنانچہ حضرت مولانا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پلیٹ فارم پر ہوں یا سیاسی ملی تحریکات کے پلیٹ فارم پر، ہر جگہ انسانیت کا درس دیا، اور یہی وہ بنیادی طور پر عنصر غالب تھا انکے ذہن میں جسکا اظہار کبھی قیام مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقع پر ہوا ،تو کبھی عالم اسلام کے تاریخی سیمنار ،اور تاریخی اجلاسوں میں نمودار ہوا، حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب قاسمی لباس میں ملبوس ہو کر اپنے نورانی چہرے کے ساتھ جب اسٹیج پر جلوہ افروز ہوتے ،اور مذہب اسلام کی حقانیت اور انسانیت کے موضوع پر موتی بکھیرتے۔ تو ایسا محسوس ہوتا ہے واقعتا مولانا محمد سالم قاسمی صاحب علماء دیوبند کی آخری کڑی ہینں جنکی مثال دور حاضر میں نا ممکن ہے

فرماتے تھے ہم مسلمان داعی ہیں اور غیر مسلم حضرات مدعو ، اور داعی مدعو کے حق میں دعا گوہ ہوتا ہے اور یہی داعی کا وصف اعتدال ہے جسکی وجہ سے مذہب اسلام کو انسانیت نے قبول کیا، اور اسی وصف کا ثبوت محمد رسول اللہ صلی االلہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ملتا ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ عمریں کو ہدایت عطا ء فرمایا حسب ہدایت عمربن خطاب کو ھدایت ہوی نکہ عمر بن ہشام کو اور یہ ھدایت کا باری تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ،
مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی کامیاب ترین زندگی کے مطالعہ سے جہاں ہم لوگوں کو اعتدال اور انسانیت کا درس ملتا ہے ،تو دوسری طرف مولانا محمد سالم قاسمی صاحب بحث یت داعی اسلام اسلامی اسکالر مصلح الامت نیز قاید ملت بن کر ہمارے سامنے آے

مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کا اک اور تاریخ ساز کارنامہ دارالعلوم وقف دیوبند کا قیام اور ادارے کی استقامت اور مقبولیت ہے بلاشبہ آج کے دور دارالعلوم وقف دیوبند کو جو مقبولیت اور مرجعیت اور شھرت اور جو نیک نامی حاصل یہ مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی اعلی ترین قیادت ونسبت کا اثر ہے جسکا اظھار علماء عصر کررہے ہیں ، چنانچہ
قیام دار العلوم وقف دیوبند کے موقع پر، جب استاد محترم مولانا احتشام الحق دیوبندی اس دور کےممتاز علماء کرام مولانا صدیق صاحب باندوی مولانا ابرارالحق ہر دوی رحمہ اللہ کے پاس دعوت نامہ لے گئے اور قیام دارالعلوم وقف دیوبند کی دعوت دی ،
تو دونوں اکابر علماء نے مولانا احتشام الحق سے فرمایا جب آپ حضرات کے پاس مولانا محمد سالم قاسمی صاحب مولانا محمد اسلم قاسمی صاحب ہیں تو ہماری کیا حیثیت دارالعلوم وقف دیوبند کی مقبولیت کیلئے دونوں اکابر کی نسبت کافی ہے ،بجا فرمایا مولانا قاری محمد صدیق صاحب اور مولانا ابرار الحق نے آج عالم اسلام میں دارالعلوم وقف دیوبند کو جو مقبولیت اور مرجعیت شھرت مختصر عرصے میں جوحاصل ہے وہ کسی سے مخفی نہیں اور یہ سب مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی نسبت انکی نیم شب دعا ؤں کا اثر

جیسا کہ صد سالہ کے بعد دارالعلوم دیوبند انتشار کا شکار ہو ا اور حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ جنھوں نے دارالعلوم دیوبند کو مدرسہ سے دارالعلوم بنایا اور دارالعلوم کو تحریک کی شکل دی لیکن ناگفتہ بہ حالات کے کارن حکیم الاسلام اور انکی جماعت کو دارالعلوم دیوبند سے الگ ہونا ،اورحکیم الاسلام کی وفات حسرت کے بعد مولانا محمد سالم قاسمی صاحب حکیم الاسلام کی جماعت کے میر کارواں بنے اور تاحیات اسی منصب جلیل پروفائز رہے
لیکن اہم بات یہ کہ اختلاف دارالعلوم دیوبند اوردارالعلوم سے نکل جانے کے بعد بھی دار العلوم دیوبند کا تقدس وتکرم باقی رہا مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی نظر میں برقرار رہا
چنانچہ دیوبند میں آنے والے ہرشخص سے یھی سوال کرتے حضرت مولانا،
آپ حضرات نے دارالعلوم کی زیارت کی ،جاؤ پھلے دارالعلوم دیکھ لو ،اسی طرح جب مولانا محمد سالم قاسمی صاحب دارالعلوم وقف دیوبند کیلئے تعاون پیش کرتے

تو فرماتے کیا آپ نے دارالعلوم کا تعاون کیا پھر فرمایا کرتے تھےہمارے اوپر دارالعلوم کا زیادہ حق ہے چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے موجود ہ اساتذہ کرام کو کبھی مولانا محمد سالم قاسمی صاحب غیر نہیں سمجھا ایسے اک موقع پر دارالعلوم وقف دیوبند میں قرات کا جلسہ ہوا اور دارالعلوم کے اساتذہ کرام تشریف لے آئے تو ناظم جلسہ مفتی احسان صاحب نے فرمایا دارالعلوم وقف دیوبند میں دارالعلوم دیوبند سے آءے مہمان عظام کا استقبال ہے اسکے بعد برجستہ حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نے فرمایا دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کرام دارالعلوم وقف دیوبند میں مہمان نہیں بلکہ دراصل میزبان ہیں
پھر فرمایا دارالعلوم دیوبند دارالعلوم وقف دیوبند دونوں الگ الگ ادارے نھہں بلکہ اک ہی ادارہ ہے
دارالعلوم وقف کی تعمیر وترقی کیلئے مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نے دن رات محنت کی ملک اور بیرون ممالک کے اسفار کیے
لیکن اہم بات مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی انھوں نے کبھی بھی کسی بھی طرح محسوس تک نہیں ہونے دیا دارالعلوم وقف کی تعمیر وترقی میں انکا خصوصی طور پر انکی محنت ہے دار العلوم وقف کا جب بھی کسی نے مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کے ذریعہ تعاون کیا تو مولانا محمد سالم قاسمی نے اسکو اخفاء ورکھا بسا اوقات فرمایا کرتے تھے طلبہ کا ہم پر احسان ہنں بے سروسامان کے عالم میں دارالعلوم وقف دیوبند میں تعلیم حاصل کر رہے ہنں
لیکن بفضلہ تعالیٰ مولانا محمد سالم قاسمی صاحب آخری زمانہ میں مولانا ہی کے فرزند استاد محترم مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب کی زیر نگرانی دارالعلوم وقف دیوبند نے خوب تعلیمی وتعمیری ترقی کی مولانا محمد سفیان کے نیابت کے دور سے ہی اساتذہ کرام اورملازمین کو وقت پر مشاعرہ مل نے لگا اور طلبہ کو سہولیات میسر ہونں
قیام دار العلوم وقف کے تعلق مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کے طریقے کار دو سبق ملتے ہیں ایک ادارے کی تعمیر وترقی کیلئے محنت اور جد وجہد خلوص اور اس محنت کا اخفاء،
۔......
جمال الدین راجستھانی







Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved