تازہ ترین  

لچکدار شیشہ ۔۔۔۔۔ رفاقت علی ( دنیا پور )۔
    |     9 months ago     |    سائنس و ٹیکنالوجی
جرمنی کی کمپنی نے ایسا لچکدار شیشہ تیار کیا ہے جسے نہ صرف موڑا جا سکتا ہے بلکہ یہ بال سے زیادہ باریک اور نہایت ہموار ہے۔ اس شیشے کی تیاری کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اس شیشے کی تیاری سے موبائل فون انڈسٹری میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ لچکدار شیشے کی تیاری کے بعد بننے والے موبائل فون نہ صرف جیب میں پورے آئیں گے بلکہ جب انہیں کھولا جائیگا تو موبائل فون سکرین کا سائز ٹیبلٹ سکرین جتنا ہو سکے گا۔ جرمنی کی شیشہ ساز کمپنی Schott نے ایسے لچکدار شیشے کی وسیع پیمانے پر تیاری کا آغاز کر دیا ہے جو بال سے زیادہ باریک، زیادہ ہموار، زیادہ دیرپا اور لچکدار ہے۔ اس شیشے کی مدد سے نہ صرف موبائل انڈسٹری میں مثبت تبدیلیاں آنے کا امکان ہے بلکہ الیکٹرانکس کے میدان میں بھی انقلاب آئیگا۔ Schott کی جانب سے تیار کئے جانیوالے لچکدار شیشے کی مدد سے تیار ہونیوالی پہلی پراڈکٹ فنگر پرنٹ سکینر ہے جو سمارٹ فونز کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس فنگر پرنٹ سکینر کی تیاری چین کی کمپنی LeTV کی جانب سے کی گئی ہے۔ کمپنی کے نمائندوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس پراڈکٹ کی مدد سے کئی اقسام کے دیگر مواد بھی تیار کئے جا سکیں گے۔ Schott کمپنی کے ڈائریکٹر بزنس ڈیولپمنٹ روڈیگر سپرینگارڈ (Rüdiger Sprengard) کا کہنا ہے کہ کمپنی اب مستقل بنیادوں پر اس لچکدار شیشے کی تیاری کا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور اب شیشے کی ایک کلومیٹر طویل شیشے کی شیٹس تیار کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شیشہ موڑا جا سکتا ہے تاہم اسے مکمل طور پر کاغذ کے ایک ٹکڑے کے طور پر مکمل طور پر موڑا نہیں جا سکتا تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر مزید کام جاری ہے اور آئندہ چند برسوں میں وہ ایسا شیشہ تیار کر لیں گے جسے کاغذ کے ٹکڑے کی طرح موڑا جا سکے اور وہ ٹوٹنے سے بھی محفوظ رہ سکے۔ لچکدار اور بال برابر باریک شیشے کی تیاری کوئی آسان کام نہیں اور اس کے لئے کمپنی نے الٹراساﺅنڈ کے لئے استعمال ہونے والے شیشے کی تیاری کے لئے استعمال ہونے والی تکنیک کو چند تبدیلیوں کے ساتھ استعمال کیا۔ اسی طریقہ کے تحت کئی کمپنیاں سمارٹ فونز کے لئے گوریلا گلاس تیار کر رہی ہیں۔ شیشے کو بال برابر باریک کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری تھا کہ اس کی مضبوطی بھی برقرار ہے اسی لئے الٹراساﺅنڈ کے لئے استعمال ہونے والے شیشے کو ایک بڑے ٹینک میں ڈال کر پگھلایا گیا اور ان کو شیٹس میں تبدیل کیا گیا پھر ان شیٹس کو پگھلے ہوئے پوٹاشیم کے سیال سے گزارا گیا۔ اس عمل کے دوران سوڈیم کے مالیکیول شیشے کی سطح پر رہ گئے جنہیں بعد میں پوٹاشیم کے نسبتاً بڑے مالیکیولز کے ساتھ شامل کیا گیا جس کی وجہ سے شیشے میں دباﺅ پیدا ہوا۔ جیسے جیسے شیشے کو نچوڑا گیا وہ مضبوط ہوتا گیا۔ اس وقت کمپنی بیس مائیکرومیٹر باریک شیشہ تیار کر رہی ہے۔ گوریلا گلاس کے سکاٹ فاریسٹر (Scott Forester) کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے شیشہ باریک ہوتا چلا جاتا ہے چیلنج کی نوعیت تبدیل ہوتی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باریک شیشے کی تیاری کے عمل کے دوران شیشے میں رہ جانیوالے خلا کو پلاسٹک کے پنکچرز کی مدد سے پورا کیا جا سکتا ہے اور یہ عمل زیادہ سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت باریک شیشے کی مدد سے تیار ہونیوالی کئی مصنوعات مارکیٹ میں دستیاب ہیں تاہم مستقبل میں ایسے لچکدار شیشے سے تیار ہونے والی مصنوعات کی تیاری سے اس شعبے میں اہم تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




فیس بک پیج

تصویری خبریں

ad

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved