تازہ ترین  

معروف مزاح نگار و شاعر محمد ادریس قریشی کا خصوصی انٹرویو
    |     2 months ago     |    تعارف / انٹرویو
سوال: تعلیم کا آغاز کہاں سے کیا اور پہلا شعر کون سا کہا اگر یاد ہو تو؟
جواب: لکھنے پڑھنے کا آغاز اپنے گھر سے ہی کیا ، اپنے دادا سے سیکھا اور ادبی اعتبار سے جو ادبی اصناف میں قدم رکھا تو وہ 1985 سے میں نے بچوں کی کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ پہلا شعر اگرچہ یہی تھا کہ

''ہمارا دل تمھاری ہی محبت کے لیے ہے
مگر یہ پیشکش محدود مدت کے لیے ہے''


میں اسے پہلا شعر سمجھتا ہوں۔ یہ میں نے آج سے تقریبا پچیس سال پہلے لکھا تھا۔ نثر میں ''چچا حیرت'' لکھتا رہا۔ چچا حیرت کو بھی میں نے بطور شاعر متعارف کروایا تھا وہ ایک محب وطن کردار تھا۔

سوال: بچوں کے لیے لکھنے کا آغاز کب کیا؟
جواب: جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ 1985 سے لکھنا شروع کیا اور ابتدا بچوں کے ادب سے ہی کی میں نے بچوں کے مختلف رسائل ''بچوں کی دنیا ''، '' پھول''، تعلیم و تربیت ''، '' آنکھ مچولی''، ''نونہال'' وغیرہ میں لکھا۔

سوال: ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟
جواب: پہلے پہل تو نثر میں کام کیا بچوں کے ناول لکھے، جاسوسی ناول بھی لکھے،ان کے لیے کہانیاں لکھیں۔
بچوں کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں کہانیاں لکھیں۔ شاعری میں بھی بہت کام کیا۔ پچیس سال مجھے شاعری میں بھی ہو چکے ہیں۔ حتمی طور پر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ میں نے کس صنف پر زیادہ کام کیا۔ دونوں پر برابر کام کیا۔

سوال: ادبی رسائل سے وابستگی؟
جواب: جن رسائل میں آپ کی تحریریں چھپتی ہیں انہی سے آپ کی وابستگی ہوتی ہے ان کو ہی آپ پسند کرتے ہیں میری جہاں جہاں کہانیاں شائع ہوئیں ان سے وابستگی تھی۔ اب حال میں تو کسی رسالے سے بھی اتنی وابستگی نہیں ہے

سوال: ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟
جواب: جب میں پہلے بچوں کے لیے لکھتا تھا تب تو بچوں کے ادیبوں کی آپس میں مخالفت نہیں ہوتی تھی۔ اس دور میں علی اکمل تصور، عبدالرشید فاروقی، ش۔م۔دانش، نعیم بلوچ وغیرہ لکھتے تھے۔ تعلیم و تربیت کے لیے بھی مخصوص لوگ تھے میں بھی ان میں شامل تھا۔ لیکن آج اگر دیکھا جائے تو بچوں کے ادیبوں کی بھی آپس میں گروپ بندیاں ہیں۔ البتہ شاعری میں میرا بھی مخالفت اور گروپ بندیوں سے سامنا ہوا لیکن مجھے ان کی کوئی پروا نہیں ہوئی کیونکہ میں بس توجہ کے ساتھ اپنا کام کرتا رہتا ہوں۔ یہ عالمگیری سچائی ہے کہ جس کا وجود ہوتا ہے اسی کے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں۔

سوال: ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں سے مطمئن ہیں؟
جواب: یہ بہت اہم سوال ہے۔ ظاہر ہے کہ سو فیصد مطمئن تو کوئی کسی سے نہیں ہوتا۔ جتنا بھی کوئی اچھا کام کر لے دوسرا اس سے مطمئن نہیں ہوتا۔ ادب کے حوالے سے حکومت کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہے۔ بچوں کے لیے تو ایک سہ ماہی رسالہ بھی اکادمی ادبیات اسلام آباد سے شائع ہو رہا ہے اور ان کے لکھنے والوں کو بھی اچھا اعزازیہ دو ہزار روپے دیتے ہیں چاہے ایک صفحے کی تحریر ہو یا زیادہ دو ہزار ایک اچھا اعزازیہ ہے جو حکومت بچوں کے ادیبوں کو دے رہی ہے۔ اکادمی ادبیات اسلام آباد، لاہور یہ کتابیں شائع کرتے ہیں اور کتابوں پر ایوارڈ اور نقد انعام بھی دیتے ہیں یہ سب حکومت کر رہی ہے لیکن ابھی بھی بچوں کے ادب میں کمی ضرور ہے۔ مگر مایوسی کی بات نہیں ہے ہنر کبھی ضائع نہیں جاتا کوئی بھی حکومت آجائے جس میں ہنر ہو وہ ابھر کر سامنے ضرور آتا ہے۔

سوال: شاعری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ شاعری کا ذاتی زندگی پر کوئی اثر پڑا؟
جواب:جادو ہے۔ جو ہم بات کرتے ہیں۔ ہم تقریر کرتے ہیں ایک مجمع میرے سامنے بیٹھا ہو میں ان کو اپنی بات کے ذریعے قائل کر سکتا ہوں یہ مجھے پتا ہو گا کہ اس موقع پر مثبت یا منفی دلائل دینے ہیں۔ بات میں تو جادو ہے اور باتوں کا نچوڑ شاعری ہے۔
جیسے ایک مقرر تقریر کرتا ہے۔ پھر ایک شعر پڑھ دیتا ہے۔پھر تالیاں اس شعر پر بجتی ہیں۔ شاعری دراصل دل کی آواز اور سب باتوں کا نچوڑ ہوتی ہے۔

سوال: کیا کبھی کسی سے اصلاح لی؟ کس سے متاثر ہو کر ادبی دنیا میں قدم رکھا؟
جواب: میں بچوں کے رسائل پڑھتا تھا۔ جتنا بھی جیب خرچ ملتا میں ان سے رسائل ہی خریدتا تھا۔ پھر لکھنے کا شوق ہوا اور میں نے لکھنا شروع کیا۔ میں شروع میں تو کسی سے بھی متاثر نہیں ہوا لیکن جب میں ناول نگاری کی طرف آیا تو اشتیاق احمد صاحب سے متاثر ہوا۔ میں نے ان کے انداز میں لکھنے کی کوشش کی اور لکھا بھی۔ بعد میں پھر مظہر کلیم ایم اے سے بھی متاثر ہوا۔
شاعری کی بات کی جائے تو میں انور مسعود صاحب سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ اصلاح میں نے باقائدہ طور پر کسی سے نہیں لی لیکن ہر انسان سے سیکھا ضرور ہے۔ میں جہاں بھی بیٹھتا ہوں کچھ نہ کچھ سیکھ لیتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک استاد نے یہ لفظ اسطرح استعمال کیا جبکہ میں دوسری طرح استعمال کرتا تھا۔ ایسی صورت میں تحقیق کرتا ہوں اور پتہ چلتا ہے کہ ان کا غلط تھا اور میرا درست تھا تو میں لکیر ا فقیر نہیں بنتا بلکہ اپنی بات پر قائم رہنا ہوں۔ میں صاحب رائے ہوں اور میرے سامنے بہت معتبر شخصیت بھی اگر بیٹھی ہے اور اس نے کوئی بات کی جو میرے نظریہ سے مختلف یے تو میں نے ضرور پوچھا اگر ان کی بات درست نکلی تو میں نے فورا مان لیا۔ لیکن اگر ان کے پاس دلائل نہیں ملے تو میں نے کھبی شخصیت کو دیکھ کر بات تسلیم نہیں کی۔ اب تو کام بہت آسان ہو گیا ہے سب کچھ انٹرنیٹ پر موجود ہے کتب کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ میری سیکھنے کے ساتھ ساتھ سیکھانے کی بھی عادت ہے۔ سمجھدار لوگ مان لیتے ہیں لیکن کچھ لوگ جھگڑا کرنے لگ جاتے ہیں۔ میرا استاد سارا زمانہ ہی ہے

سوال: مشاعرے میں شرکت کا دعوت نامہ ملنے پر آپ کا پہلا رد علم کیا ہوتا ہے؟
جواب: اگر آج سے بیس پچیس سال پہلے جائیں تو مشاعرے میں دعوت نامہ ایک خط کی صورت میں آتا تھا۔ تو اس کی تو بہت خوشی ہوتی تھی۔ اس میں سے ایک کاغذ نکلتا تھا۔ جس پر لکھا ہوتا تھا کہ آپ کو فلاں مشاعرے میں دعوت دی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کی ایک الگ سی خوشی ہوتی تھی۔ اس خط کو بار بار پڑھتے تھے اب تو موبائل پر کال آتی ہے جی کل مشاعرہ ہے فلاں جگہ آنا ہے تو کوئی اتنی خاص خوشی نہیں ہوتی۔ سارا کچھ پہلے سے تیار ہوتا ہے البتہ کچھ پوائنٹ لیتے ہیں کہ کون کون سا کلام سنانا ہے اور کس ترتیب سے سنانا ہے۔

سوال: اس دور میں تخلیق کی جانے والی شاعری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔؟
جواب: میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر دور میں استاد شعرا بھی ہوتے ہیں اور نوجوان شعرا بھی ۔ آج کے دور میں جو اساتذہ ہیں انھوں نے جو لکھنا تھا وہ لکھ دیا وہ اب نیا کچھ نہیں لکھ رہے۔ ان کا نام بن گیا ہے اور وہ اسی کے سہارے چل رہے ہیں۔ بہت سے استاد ایسے بھی ہیں جو نوجوان شعرا کو وقت نہیں دیتے۔ میرے سے بھی لوگ رابطہ کرتے ہیں تو میں بھی کچھ لوگوں کو نہیں سیکھا پاتا کیونکہ وہ دور کے علاقوں میں رہتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہھ کہ شاعری سیکھی نہیں جاتی شاعر پیدا ہوتے ہیں۔
اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پچاس ہزار سے شروع ہو کر ایک لاکھ تک مشاعرے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔اور اگر کم پیسے دیں تو مشاعرہ ہی نہیں پڑھتے ، حالانکہ جب آتے ہیں تو سادگی ، انسانیت اور اخلاق کی باتیں کرتے ہیں مگر عمل نام کی کوئی چیز ان میں نہیں ہوتی اور یہ چیز اس وقت اساتذہ میں بھی موجود ہے۔ نوجوان شعرا میں سے کچھ تو بہت ہی اچھے شعرا ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ بائیس چوبیس سال کی عمر میں نوجوان شعراء ایسے ایسے شعر سامنے لاتے ہیں جو اساتذہ کی قسمت میں ہی نہیں تھے۔
سینئر لوگ جونیئر شعرا سے بہت سی توقعات تو کرتے ہیں مگر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔

سوال: کیا ذرائع ابلاغ کسی کو بڑا شاعر بنا سکتے ہیں
جواب: بڑا ادیب کہتے کسے ہیں؟ کیا وہ جو مشہور ہو گیا یا وہ جو گمنام ہے۔ جو شخص بھی میڈیا پر بار بار نظر آتا ہے وہ مشہود ہو جاتا ہے۔ اور جو مشہور ہو جاتا ہے اسے لوگ عزت دیتے ہیں، اپنے پروگرام میں بلاتے ہیں مگر صرف دکھاوے کے لیے، ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ دیکھیں کہ ٹی وی پر آنے والے شعراء کو بلایا گیا ہے اور یہ سارا عمل صرف دکھاوے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ شاعر اس ذرائع ابلاغ سے مشہور تو ہو سکتا ہے لیکن بڑا شاعر نہیں بن سکتا۔ کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اس کا استعمال نہیں کر پاتے اور ان کی شناخت ان کی موت کے بعد ہوتی ہے۔ میڈیا آپ کی زندگی میں ہی ایک مقام دے دیتا ہے کہ لوکوں کو آپ کی چیزیں یاد ہوجاتی ہیں۔

سوال: آپ کی ترجیحات کیا ہیں؟
جواب: میں کوشش کرتا ہوں کہ جو بھی لکھوں وہ نظم ہو یا نثر اس کا تعلق حقیقت سے ضرور ہو۔ اس کو پڑھ کر لوگ مایوسی کے اندھیروں سے باہر نکل کر
امید کی طرف آئیں کیونکہ امید ہی ترقی کا زینہ ہے۔

سوال: غزل اور نظم میں سے کس چیز کو موزوں سمجھتے ہیں؟
جواب: بچوں کے لیے تو نظم ہی ہے لیکن بڑوں کے لیے آج کل کا دور غزل کا ہے۔ کسی بڑے کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ پوری نظم پڑھے وہ غزل کے ایک شعر سے ہی کام چلا لیتا ہے۔ ہر شعر میں الگ موضوع ہوتا ہے اور نظم میں سارے اشعار ایک ہی موضوع پر ہوتے ہیں۔

سوال: موجودہ دور کے شعرا میں ادبی شعور کی بلندی کس حد تک دیکھتے ہیں؟
جواب: میرے نزدیک بہت سے نئے شعرا میں ادبی شعور کافی حد تک ہے لوگ ان سے سیکھ رہے ہیں معاشرہ بھی نئی سمت پکڑ رہا ہے۔ ہم خود ایسے مشاعرے کرواتے ہیں۔ نوجوان بہت اچھا لکھ رہے ہیں جس سے بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں

سوال: غزل کے مقابلے میں نظم بہت کم لکھی جا رہی ہے اور اگر لکھی بھی جا رہی ہے تو آزاد ، پابند نظم میں وہ چونکا دینے والا اظہار کم کم ہے ، نظم کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟
جواب: یہ درست ہے کی آج کل آزاد لکھا جارہا ہے۔ آزاد لکھنا آسان راستہ ہے جو لوگوں نے اپنایا ہوا ہے۔ اب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ اسے نثری نظم کہا جاتا ہے۔ لیکن کوشش کی جائے کہ پابند نظم لکھی جائے۔ اچھی شاعری ہو رہی ہے مستقبل تاریک نہیں ہے لیکن وہ پرانا دور نہیں رہا شاعری بھی روایت سے ہٹ گئی شاعر بھی روایت سے ہٹ گئے اب سارا رجحان بدل گیا ہے

سوال: سوشل میڈیا کا کردار اردو ادب کے حوالے سے کیسا ہے؟
جواب: سوشل میڈیا کو ہر طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے ہر انسان کو آزادی حاصل ہے وہ اچھا بھی لکھ سکتا ہے برا بھی، فائدہ بھی یہی ہے کہ آپ اپنا کوئی بھی پیغام ساری دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں کوشش یہی کی جائے کہ ایسی چیزیں ہی سامنے لائی جائیں جس سے لوگوں کو فائدہ ہو۔ وہ معاشرے کے لیے مستفید ہوں۔ ویسے تو سوشل میڈیا مفید چیز ہے لیکن یہ استعمال کرنے والوں پر بھی انحصار کرتا ہے کہ وہ اس کا استعمال مثبت طور پر کرتے ہیں یا منفی طور پر۔
بہت شکریہ 
۔۔۔۔۔
آپ کے لیے ایک نظم
چھوٹی سی اک لڑکی کے ہیں کام بہت لاثانی
کالم لکھ مارے یا لکھ دے فورا ایک کہانی
لائق اورذہین ہے پڑھنے لکھنے کی ہے عادی
نام شرارت کی پڑیا کا ہے '' مریم شہزادی''
لوگ سبھی اس شہزادی کے فن کے گن گاتے ہیں
تمغے اور ایوارڈ بہت سے اس کو مل جاتے ہیں
اچھے اچھے اخباروں میں اس کی ہیں تحریریں
پینٹنگ بھی کرتی ہے اس کی دلکش ہیں تصویریں
ہنسی ہے تو لگتی ہے یہ سب کو مونا لیزا
کیک بنا لیتی ہے گھر پر اور مزے کا پیزا
چھوٹی سی اک لڑکی کے ہیں کام بہت لاثانی
کالم لکھ مارے یا لکھ دے فورا ایک کہانی 





Comments


بہت خوب مریم شہزادی


فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved