تازہ ترین  

کوئین آف اسلام ۔۔۔ایک سبق آموز تحریر
    |     3 months ago     |    افسانہ / کہانی
بابا کی رانی...ہائے میری شہزادی آج پھر ناراض ہے؟
چلو...اچھے بچے ضد نہیں کرتے..بابا کے لئے اسٹرونگ چائے بنا کر لاؤ..امجد صاحب اپنی اکلوتی بیٹی حمنہ سے مخاطب تھے.
حمنہ آج پھر ضد لے کر بیٹھی ہوئی تھی.کہ جاب کرنی ہے.ایم فل کی ڈگری کیا گھر بیٹھے رہنے کے لئے ہے.سوچ سوچ کر اور رو رو کر اس کی دماغ میں ٹیسیں اٹھنے لگی تھی.

امجد صاحب جو لندن میں اچھی لائف کی خاطر شادی کے فورا بعد شفٹ ہوگئے.تھےان کا تعلق ایک اچھے گھرانے سے تھا.لندن میں ہونے کے باوجوددین کے پابند تھے.وہاں کے علماء کے ساتھ بھی اپنی نشست وبرخاست رکھی ہوئی تھی..بچوں کو اعلی تعلیم کے ساتھ دین ومذہب کی محبت اور اس پر عمل کرنے والے بھی بنائے.مگر پھر بھی شاید کہیں کمی رہ گئی تھی جو ان کی اکلوتی بیٹی بلاوجہ کی ضد کرنے پر تلی ہوئی تھی۔

گھر کے قریب مونا رہتی تھی.حمنہ اور مونا اچھی دوست ہونے ساتھ ساتھ کلاس فیلو بھی تھی.مونا کے والدین الگ الگ راہ کے باسی بن چکے تھے.ان کو مونا سے اور اس کی زندگی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی..تو وہ شروع سے ہی جاب کرکے اپنا خرچہ چلاتی...اب ایم فل کے بعد وہ مستقل جاب کی ہوگئ..ایسا لگتا تھا...کہ وہ پیسہ کمانے کی مشین ہے.....اس کی دوستی نے رنگ دکھایا..اب حمنہ کو بھی شوق چرایا..کہ وہ جاب کریں.آخر اس ڈگری کا کیا فائدہ؟

امجد صاحب اپنی بیٹی کی ضد سے پریشان تھے.اور سمجھاتے بیٹی! آپ کو جاب کی کیاضرورت؟ ابھی آپ کا با بازندہ ہےنا؟ حمنہ آگے سے مونا کی مثال پیش کردیتی...تو امجد صاحب محبت سے کہتے بیٹا! ہم مسلمان ہیں..ہمارے دین نے بیٹوں کی ذمہ داری باپ پہ رکھی ہے...مونا جس مذہب اور جس معاشرے سے تعلق رکھتی ہے.وہ تو تم جانتی ہو..جہاں والدین کو اپنی اولاد کی اور اور اولاد کو اپنے والدین کی نا پہچان ہے اور نہ ہی قدروقیمت...حمنہ کو اپنے والد کی بات.. کچھ کچھ سمجھ آنے لگی.اور امجد صاحب خیالات کے گھوڑے دوڑانے لگے.کہاں مجھ سے تربیت میں غلطی ہوگئی؟

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بڑے دنوں بعد امجد صاحب کے دوست ان سے ملنے آگئے.جو انھی کی طرح دیار غیر میں رہائش پذیر تھے.اور انھوں نے اپنی ملاقات کی وجہ بتادی کہ وہ اپنے عالم دین بیٹے کے لئے حمنہ کا ہاتھ مانگنے آئے..ایسے حالات میں امجد صاحب کے لئے حمنہ کے لئے یہ رشتہ نعمت غیر متبرقہ لگا.انھوں نے بیوی سے مشورہ کرکے ایک مہینہ کے بعد نکاح پھر رخصتی کی تاریخ بھی طے کردی..

ایک مہینہ کے بعد حمنہ بابل کے آنگن سے پیا سدھار گئی.سسرال جہاں دین دار تھے.وہاں دنیابھی اس کے میکےکے مقابلے میں زیادہ وسعت سے پھیلی ہوئی تھی.تویہاں توجاب دور کی بات جاب کانام بھی نہیں لینا چاہئے.ہائے! میری ڈگری میری قابلیت سب بربادوہ یہ سوچ کر کف افسوس ملتی اوراپنی آنکھیں بند کرلیتں.

شادی کے بعد وہ پہلی دفعہ اپنے میکہ گئی.وہ بہت ہشاش بشاش اور خوش حال تھی.مگر تھوڑی افسردہ بھی....ماں نے کریدا تو پتہ چلا وہی ازلی غم ...ڈگری ضائع ہونےکا غم,ماں نے جب سمجھایاکہ ضروری تو نہیں کہ ہم ڈگری لے کر باہرکی خاک چھانیں,شمع محفل بننا کوئی ضروری نہیں,ایک مسلمان عورت کے لئے اس کاگھر پہلامرکزاور آخری مورچہ ہے.والدہ کی باتوں کا الٹا مطلب لے کر والدہ سے ناراض ہوکرسسرال چلی گئی....والدہ بس افسوس کرتی رہ گئ..اوراپنی بیٹی کے حق میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئے.

ماہ وسال یونہی گزرتے رہے.حمنہ کی زندگی بہت حسین تھی.اللہ تعالی نے اس کو چاریکے بعددیگرے بیٹوں سے نوازا.بس جاب والی منفی سوچ اس کے ذہن میں ناہوتی تو یقینا وہ بھی اپنی حسین ترین زندگی کومحسوس کرسکتی تھی.مگر وہ اس لذت سے ناآشنا تھی.وہ اپنی زندگی کو ایک بوجھ کی طرح خیال کرتے ہوئے گزاررہی تھی.اچانک وہ ہوا جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی...وہ کچھ دن کے لئے اپنے میکہ رہنے کے لئے آئی تھی.کہ ڈور بیل کی آواز آئی اوردوسرے ہی لمحے اس کی پرانی سہیلی مونا اس کے سامنے کھڑی تھی..زمانے کاغم اور کرب اس کے چہرے سے عیاں تھیں.حمنہ حال واحوال پوچھنے لگی تو کہنے لگی کیا حال دل ہے؟مت پوچھ.....ہماری بھی کوئی زندگی ہے.ہماری ذمہ داری کوئی نہیں اٹھاتا.خود کماؤ خود اپنی ذمہ داری اٹھاؤ.میں پچھلے تین سال سے اسلام کا گہری نظر سے مطالعہ کیا.اسلام نے عورت پہ کوئی معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی..اور مسلمانوں کی زندگی میں قریب سے تمھاری زندگی کو دیکھا...تمھیں تو اسلام نے کوئین بنایا۔۔۔میں چاہتی ہوں کہ۔۔وہ بولتے بولتے رک گئی۔۔۔اور آنسو اس کے رخسار پر بہنےلگے۔۔۔ہاں ہاں بولو۔۔۔تم کیا چاہتی ہو؟حمنہ اس کے کاندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے گویا ہوئی۔۔حمنہ!جو عزت تمھیں اسلام کی بدولت ملی ہے۔۔۔وہ مجھے بھی چاہئیے۔۔مونا اپنے آنسو پوچھتے ہوئے حمنہ سے مخاطب ہوئی۔۔۔کیا مطلب ہے تمھارا؟۔۔۔حمنہ نے حیرت ہوتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔یہی کہ میں بھی اسلام کے آغوش میں آنا چاہتی ہوں۔مونا نےگلوگیر آواز میں کہا توحمنہ حیرت سے بول اٹھی ۔واقعی تم ایسا چاہتی ہو؟مونانے کہا 'ہاں، تھوڑی دیر کے بعد مونا حلقہ اسلام میں داخل ہوگئی۔اور خوشی کے آنسو اس کے رخسار پر بہنے لگے۔

کچھ دن کے بعد حمنہ مونا کی طرف آئیں
۔اورموناسےکہاکہ مجھے تم سے کچھ کہنا۔اچھا! اب کہ بھی دو پہیلیاں مت بجھواو۔مونانے اسی کےاندازمیں جواب دیاتوحمنہ بہت محبت بھرے اندازمیں اس سے مخاطب ہوئی۔میں چاہتی ہوں کہ آج کل میری ساس میرے دیور کے لیے رشتہ دیکھ رہے ہیں۔۔۔اگر تمھیں اعتراض نہ ہو تو میں تمھیں اپنی دیورانی بنالوں۔؟میں چاہتی ہوں جس طرح ہم بچپن سے ساتھ رہے ہیں۔ہم اب بھی ساتھ رہیں۔تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں اس رشتہ سے؟

مونا نے ایک جھٹکے کےساتھ حمنہ کی طرف دیکھااوردوسرے لمحہ میں حمنہ کی طرف دیکھ کرمسکرادی۔اس کو کیا اعتراض ہوتا بھلا ؟ کوئین آف اسلام بننے سے





Comments


بہت عمدہ ، سبق آموز۔۔۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ


فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved