تازہ ترین  

ایک بیٹی کا اپنے والد کے نام خط
    |     2 months ago     |    دلچسپ و عجیب
پیارے بابا جان
السلام عليكم،
میں حسینہ شاہ آپکی بیٹی آپ کی لخت جگر کہ جس کو آپ آج سے چھ برس پہلے کھو چکے ہیں، آج آپ سے مخاطب ہوں۔
کتنا اچھا وقت تھا کہ جب ہم سب ایک ساتھ تھے ،امی جان آپ شمائلہ، عائیشہ، مشال اور میں ۔
آپ اور امی جان ہم سے کتنا پیار کرتے تھے ۔ہمارے ناز لاڈ اور نخرے اٹھاتے تھے ۔اور ہماری خوائشات کو پورا کرنے میں بالکل بھی دیر نہیں لگاتے تھے ۔یہاں ہمارے منہ سے بات نکلتی اور وہاں آپ اپنے آرام و سکون کی پرواہ کیئے بغیر ہماری خواہش کی تکمیل میں جت جاتے ۔ ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ جیسے مشفق والدین ہمیں عطا ہوئے۔ اگست 2012 کا
وہ کتنا روشن اور خوبصورت دن تھا کہ جب ہم سب موٹر وے پہ پشاور سے اسلام آباد اپنے گھر جا رہے تھے. ہم سب بہت خوش تھے ۔ آپ گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے ۔ساتھ امی جان بیٹھی تھیں ۔ اور پیچھے ہم چاروں بہن بھائی ۔ سب خوش گپیوں اور شرارتوں میں مشغول تھے ۔ آپ اور امی جان ہماری معصوم اور ننھی منی شرارتوں پہ ہنس رہے تھے ۔
اچانک ایک ٹرالر کہیں سے نمودار ہوا ، زور دار ٹکر ہوئ اور ہماری گاڑی الٹ گئی اور گھسٹتی ہوئ دور تک چلی گئی ۔ ۔میرے کانوں میں شمائلہ، مشال اور عائشہ کے رونے کی آوازیں آئیں ۔ وہ بری طرح رو رہے تھے ۔ میرے سر سے خون بہہ رہا تھا اور درد بہت شدید تھا ۔ میں بھی چیخنے لگی ماما ماما بابا بابا ۔ لیکن آپ دونوں خاموش تھے۔۔۔میں حیران تھی ہماری ایک آواز پہ جان و دل لٹانے والے آج خاموش کیوں ہیں ۔ پھر میں نے دیکھا بہت سے لوگ ہماری گاڑی کے گرد کھڑے ہیں اور اونچی اونچی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ میں نے کوشش کی کہ بات کروں اپنے پاس ایک آدمی کو دیکھ کر آوازیں دیں انکل انکل میرے ماما بابا بول کیوں نہیں رہے ۔۔ان کو بلائیں نا انکو بتائیں ہم رو رہے ہیں لیکن یہ کیا ان انکل نے سنی ان سنی کر دی میں نے پاس کھڑے دوسرے انکل کو آوازیں دیں اور چیخ کر کہا انکل میرے ابو اور امی خون میں لت پت ہیں انکی مدد کریں لیکن یہ کیا انھوں نے میری آواز پہ دھیان ہی نہیں دیا اور، نظر انداز کر دیا ایسے کہ جیسے میں ہوں ہی نہیں ۔۔۔ یہ کیا میری آواز کسی کو سنائ کیوں نہیں دے رہی تھی کیا میں مر چکی تھی؟؟؟؟
مشال عائشہ اور شمائلہ بھی لہو لہان میرے ساتھ آن کھڑے ہوئے اور آپکو بلانے لگے ہاں ہم چاروں مر چکے تھے آپ سے بچھڑ چکے تھے۔۔۔تبھی تو ہماری ایک آواز پہ تڑپ جانے والے ماں باپ پر ہماری آوازیں آہیں اور سسکیاں بے اثر تھیں
میں نے دیکھا لوگ آپکو اٹھا کر لے جا رہے ہیں اور ہماری آہ و فغاں کا کسی پہ بھی اثر نہیں ہو رہا ۔۔
میرے بابا جان میں جانتی ہوں آپ ہمارے لئے دکھی ہیں پریشان ہیں اداس ہیں ۔ ہمیں یاد کرتے ہیں ہماری برسی ہماری سالگرہ مناتے ہیں ۔ لیکن بابا جان آپ فکر مند نہ ہوں ۔۔ہم یہاں بہت خوش ہیں ۔ یہاں ہمارے ساتھ اور بھی بہت سے بچے ہیں ۔ ہم لوگ خوب کھیلتے ہیں اور خوش رہتے ہیں ۔ لیکن آپ سے ایک گلہ ہے شکایت ہے کہ آپ کے اس ہمہ وقت اداس ہونے اور رونے سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے ۔ ہم زندہ ہیں بابا جان اور شہید کبھی مرتا نہیں ۔
آپکو ۔معلوم ہے نا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں اپنے بندوں کو مخاطب کر کے کیا فرماتا ہے؟
"اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے ۔ سورہ انفال آیۃ 28۔

"تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں ۔ اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے ۔" سورۃ تغابن آیۃ 15.
تو میرے اچھے بابا بحیثیت مسلمان ہم سب کا یقین ہے کہ ہر ذی روح نے مرنا ہے ۔ اور یہ دنیا کی عارضی زندگی فقط دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔!
اللہ تعالیٰ اسی کو آزماتا ہے جسے اس قابل سمجھتا ہے ۔ آپ خوش ہوں شکر گزار ہوں کہ اس نے آپکو اپنے پیارے بندوں میں چنا ہے ۔
"ان اللہ مع الصابرین
بےشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔"
بابا جان جب آپکو ہماری یاد ستائے تو آرمی پبلک اسکول کےان بچوں کے والدین کے صبر کے بارے میں سوچنا جو 16 دسمبر کو اس جہاں سے چلے گئے اور ان کے والدین ان کے پاس نہیں تھے ۔ برما روہنگیا کو مسلمان بچوں کے بارے میں سوچنا کہ جن کو کفار ان کے ماں باپ کے سامنے ذبح کر رہے ہیں ۔ ان شیر خوار بچوں کو سوچنا جو میدان کربلا میں پیاسے مارے گئے ۔ان بچوں کے بارے میں سوچنا جو 8 اکتوبر 2010 کے زلزلے میں شہید ہوئے ۔ ان والدین کے بارے میں بھی سوچنا جو اپنے بچوں کو کھو چکے ہیں ۔ آقا دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صبر عظیم کو سوچنا جب انھوں نے اپنے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں کو لحد میں اتارا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کے بارے میں سوچنا جب اپنے ہی ہاتھوں وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے نکلے تھے ۔ اللہ انکا صبر آزماتا ہے جن کو چاہتا ہے ۔
ایک حدیث پاک میں حضرت ابو موسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں ۔۔۔
" جب کسی بندے کی اولاد کا انتقال ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو بلاتا ہے اور پوچھتا ہے ۔" میرے بندے نے کیا کہا جب تو نے اس کے دل کا پھل اس کا لخت جگر اسکی عظیم نعمت اولاد کو اس سے چھین لیا؟
فرشتے جواب دیتے ہیں 'یا اللہ تیرے اس بندے نے تیری حمد بیان کی اور کہا انا للہ وانا الیہ راجعون
اے اللہ ہم تیری طرف سے آئے تھے اور تیری طرف لوٹ کر جانا ہے ۔'
اللہ فرماتا ہے تم میرے اس بندے کے لئے جنت میں گھر بنا دو اور اس کا نام "بیت الحمد " رکھ دو۔
(ترمذی شریف) ۔
صبر و شکر دو عظیم نعمتیں ہیں۔ بابا میں آپکو خوش دیکھنا چاہتی ہوں ۔ آج میری سالگرہ ہے ۔آپ مجھے یاد کریں میرے لئے آنسو بہائیں مجھے یاد کر کے خوش بھی ہوں لیکن میری موجودگی کو آپ اس طرح بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ بے سہارا بچوں کا سہارا بنیں ان کا درد محسوس کریں ۔ جن کے والدین نہیں ہیں ان کے سر پہ دست شفقت رکھیں انکی مدد کریں ۔انکو حسینہ شمائلہ مشال اور عائشہ سمجھ کر انکی آنکھوں میں خوشی کے دیپ روشن کریں۔ اس سے اللہ بھی خوش ہو گا آپ کو دلی سکون ملے گا اور ہم بھی خوش ہوں گے ۔
ایک آخری بات سب کے لئے کہ خدارا روڈ پہ گاڑی احتیاط سے چلائیں ۔ اوور ٹیک کے چکر میں خاندان تباہ ہو جاتے ہیں ۔ زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں ۔
ہم ضرور ملیں گے بابا کہ روز محشر شہید بچے اللہ تعالیٰ سے ماں باپ کے لئے جنت کی ضمانت لیں گے ۔
امی جان کا بھی خیال رکھیں اور خوش رہا کریں ۔
آپکی بیٹی حسینہ شاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : سعدیہ کوکب قریشی ایبٹ آباد، پاکستان





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved