تازہ ترین  

پساری۔۔۔(افسانہ)۔
    |     3 months ago     |    افسانہ / کہانی
میس کا کھانا، پرہیزی غذا نے شاید ذائقے سے ہی محروم کردیا ۔۔ بس آج فیصلہ کرلیا چاہے جتنے پیسے خرچ ہوں یا جتنا ہی وقت درکار ہو لذت کام و دہن ہو کر رہے گا۔ بس اسی تحریک کے باعث شہر کے بہترین ریستوران کو ہو لیا۔۔۔ ذرا تازہ دم ہو کر کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ وئیٹر انتہائی شئاشتگی کے ساتھ مینیو تھما تے ہوئے بولا سر کیا لیں گے۔۔۔۔۔ میں نے کچھ وقت مانگا اور وہ واپس لوٹ گیا۔ اب میں پانچ صفحات پر مشتمل مینیو کی ایک ایک چیز کو انگلی پھیر پھیر کر پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ جیسے جیسے انگلی آگے بڑھتی جارہی تھی دماغ پیچھے کو چلنا شروع ہوگیا ۔۔۔ حتی کہ آخری صفحہ کے اختتام پر گھر کی پساری میں جا پہنچا۔۔۔۔ جہاں ماں جی کے گرد ہالہ میں  باقی سات بہن بھائیوں کے ساتھ روٹی کے انتظار میں مکیش رفیع تو کبھی ظہوری بنے  ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ یہاں گرمی ہو یا سردی بس ایک ہی مینیو چلتا ہے  پراٹھا چائے ۔۔۔ روٹی،سالن۔۔۔۔۔۔۔۔اچار۔۔۔۔۔چٹنی۔۔ جسے کل میٹھا ملا اسے آج سادہ ۔۔۔۔  وہ بھی خوب دن رہے ۔۔۔ کہ صبح کا ناشتہ ہو یا شام کی روٹی۔۔۔۔ پھول کر خود بتایا کرتی کہ کھانے والے کو کتنی بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔۔ بعض اوقات تو نام کا پہلا حرف بھی لکھ کر فریقین کے مابین فیصلہ کردیتی کے اولین کون ہے۔۔ ۔۔۔ یخہ بستہ کمر اور ہاتھ آنچ پر سینکتے ہوئے  بھوک کی شدت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا حدت جون سے پسینے میں شرابور بھوک سے معدے کا جلال واللہ۔۔۔کمال ۔۔۔۔۔۔اور ہاں باری سے پہلے چنگیر یا پیالی آگے بڑھا کر ہشیاری کی صورت میں۔۔۔ڈوئی۔۔۔یا چمٹے کی تواضع جو باقیوں کو نا صرف حدود وقیود واضح کر دیتیں بلکہ ان کی لذتوں کو بھی دوبالا کر دیتیں۔۔۔۔ لیکن چمٹا یا ڈوئی کھانے والا درویش بھی ماں جی سے کبھی گھاٹے کے سودے میں نہ رہا کہ ماں جی نے دویا تین آلو راکھ میں بھوننے کی غرض سے رکھے ہوئے ہوتے جو ہمیشہ  چمٹا کھانے یا مینیو ناپسند کرنے والے کے حصے میں آتے ۔۔۔۔میں اس ذائقے کو کھوج رہا ہوں۔۔۔۔۔۔جس میں کبھی نمک تو کبھی شکر ملا کر صرف آلو کے نام سے ہی کھایا جاتا ۔۔۔میں اس بھوک کی تلاش میں ۔۔۔۔ جس کا تعلق شاید افلاس کے ساتھ تھا۔۔۔۔ بس اس کی ناپیدی نے  آنکھیں تر کر دیں۔۔۔ اور آواز آئی انکل کیا لیں گے کچھ منتخب کیا ۔۔۔مجھے ایسے لگا جیسے میرے ہاتھ پر ڈوئی یا چمٹا لگا ہو ۔۔۔۔ میں ہکلایا ۔۔ بھو ۔بھونا ہوا آلو۔۔۔۔۔ وئیٹر انتہائی ضبط کے باوجود قہقہہ لگاتے ہوئے بولا سر اسے ہم فرینچ فرائی کہتے ہیں۔ آپ کا مطلب وہی ہے نا ۔۔۔۔ میں بالکل وہی ۔۔۔۔۔۔ وہ آرڈر لے کر چلا گیا اور میں سوچ رہا تھا کہ وہ میری کم مائیگی پر ہنس رہا تھا یا اپنی پر ۔۔۔۔۔کیا اس نسل یا آئیندہ نسلوں کو وہ پساری نصیب ہوئی یا کبھی ہوگی۔۔۔۔۔ وہی ماں جی اور سات آٹھ بہن بھائیوں والی پساری۔۔۔۔۔






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved