تازہ ترین  

کفن کی ادائیگی۔۔۔۔۔۔۔(افسانہ)۔
    |     3 weeks ago     |    افسانہ / کہانی
سلمان اپنے بابا سے کہتا ہے کہ بابا میں آج سکھر جاؤں گا کیوں کہ میرے دوست علی زمان کی شادی ہے مجھے 5ہزار روپے چاہیئں کپڑے لوں گا اور کرایہ بھاڑہ کرنا ہے۔ یہ سن کر رحیم چاچا (اس کے باپ) نے کہا کہ بیٹا اتنی بڑی رقم تو میرے پاس نہیں ہے تمھیں پتہ تو ہے تمھارا لاغر اور ضعیف باپ گورکن کا کام کرکے لوگوں کی قبریں کھود کر روز کے جو پیسے لاتا ہے اس سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔سلمان کا باپ ایک قبرستان میں کھدائی کا کام کرتا تھا ان کا بیٹا سلمان ماں کے لاڈ پیار کی وجہ سے اس قدر عیاش اور بگڑ گیا تھا کہ اس کی ماں کی وفات کے بعد اس کے باپ نے سنبھالنا چاہا تو مزید بگڑتا گیا۔ گلی محلے کے لڑکوں کے ساتھ بیٹھنا، بھتہ خوری، چوری چکاری اور محلے کی لڑکیوں کو چھیڑنا روز کا معمول بن گیا تھا یہاں تک کہ اب وہ نشہ بھی کرنے لگا تھا۔اسے اپنی بہن تک کی پرواہ نہیں تھی کہ وہ جوان ہو رہی ہے اور اس کے لئے اچھے گھرانے کا لڑکا دیکھے اور محنت مزدوری کرکے اس کی شادی کے لئے رقم اکھٹی کرے۔

باپ (رحیم چاچا) اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہاتھا وہ دمہ اور شوگر کا مریض بوڑھا صبح کو نکل جاتا اور شام سورج کے ڈھلنے پر قدموں کو گھر کی سمت گھسیٹتا۔رحیم بابا کی بیٹی اور سلمان کی بہن نور فاطمہ غریبی کی چادر میں ڈھکی حیاء کی پیکر وہ لڑکی محلے والوں کی سلائی کڑھائی کر کے اپنے باپ کا خانہ داری میں ہاتھ بٹاتی اور کچھ پیسے بچاکر رکھتی کہ شادی میں کام آئیں گے۔اس نے چاہا کیوں نہ ان پیسوں میں سے کچھ پیسے سلمان کو دے دے۔بیچارہ دوست کی شادی میں جارہا ہے اسے ضرورت پڑے گی تقریبا ً 15ہزار روپے کی رقم اس کی کئی مہینوں کی محنت کی کمائی بھائی باپ کو بتائے بغیر چھپا کر جمع کی تھی۔لہذا پیسے نکالنے کے لئے صندوق کی جانب بڑھی ابھی وہ صندوق کا تالا کھول ہی رہی تھی کہ باہر دروازے پر دستک ہوئی نور فاطمہ نے اندر سے کہا کون؟ آواز آئی پولیس۔۔۔۔ پولیس کا نام سن کر چونک گئی جلدی میں دروازہ کھول دیا۔پولیس والے اندر داخل ہوئے اور کہا!کہاں ہے تمھارا ڈکیت بھائی۔
نور فاطمہ یہ سُن کر کہتی ہے کیوں کیا ہوا صاحب؟اس کے خلاف چوری کا اور لڑکیوں کو چھیڑنے کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے تمھارے ایک پڑوسی نے شکایت درج کرائی ہے کہ وہ ان کی لڑکی کو کالج جاتے ہوئے چھیڑتا ہے اور گلی محلے کے لڑکوں کے ساتھ مل کر اس کا تعاقب کرتا ہے۔اب اس کے خلاف ایف آئی آر ہی ہوگی تم جیل میں ہی ملنا اب لاڈلے بھائی کو، یہ کہہ کر تھانے دار نے کہا بتاؤ ہے کہاں تمھارا بھائی اتنے میں سلمان باہر سے جسے ہی اندر داخل ہوا پولیس والوں نے اس پر ایسے جھپٹا مارا جسے بلی چوہے پر مارتی ہے اور سلمان کو مارتے ہوئے پکڑ کر لے گئے۔کسی نے رحیم چاچا کو قبرستان میں جاکر سلمان کی گرفتاری کی اطلاع دی تو وہ بوڑھا باپ بیچارہ ایک قبر کی کھدائی میں لگا تھا وہ چھوڑ چھاڑ کر ابھی جانے ہی لگا تھا کہ انہیں سلمان کے ایک دوسرے دوست نے بتایا کہ سلمان کے خلاف ایف آئی آر کٹ چکی ہے اور اسے اب جیل ہو جائے گی۔اس پر چوری اور لڑکیوں کو حراساں کرنے کا مقدمہ لگا ہے۔لاغر اور غموں سے چور محنت کش ضعیف کو یہ سن کر دھچکا لگا اور بے ہوش ہوگیا۔رحیم بابا کو اسپتال لے جایا گیا اور ساتھ ہی بیٹی کو بھی خبر کردی گئی۔ ایک طرف اس کا بھائی جیل میں جانے کے لئے لے جایا جارہاتھا تو دوسری طرف باپ اسپتال میں پڑا تھا۔وہ روتی ہوئی اسپتال پہنچی اور ڈاکٹر سے اپنے بابا کی طبیعت کا پوچھا۔ڈاکٹر نے کہا بی بی تمھارے ابو کو دل کا دورہ پڑا ہے وہ آئی سی یو میں ہیں ان کے علاج کے لئے رقم جمع کراؤ،تو نور فاطمہ نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ علاج شروع کریں میں پیسے لے کر آتی ہوں وہ بھاگی بھاگی اسپتال سے نکلی بس میں بیٹھی اور گھر کی جانب روانہ ہوئی ابھی گھر کا دروازہ کھولنے کے لئے چابی پرس سے نکال ہی رہی تھی کہ گھر کا داخلی دروازہ کھلا پایا وہ اندر داخل ہوئی اور جو منظر دیکھا اس کی روح جسے پرواز کرگئی ہو وہ ستہ میں آگئی اس نے سالوں محنت کرکے جو پیسے جمع کئے تھے وہ چوری ہوچکے تھے۔کافی دیر تک اس پر سکتہ طاری رہا اس لڑکی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے؟بمشکل اس نے اپنے ڈھیلے،بے جان اور لرزتے جسم کو سنبھالااور سوچا پڑوسیوں سے مدد طلب کروں شاید کوئی مدد کردے۔
اس نے برابر والی آنٹی کے دروازے پر دستک دی باجی ہمارے گھر چوری ہوگئی ہے آپ کو کچھ علم ہے کہ کون داخل ہوا ہمارے گھر میں،بس یہ سننا تھا کہ وہ عورت جسے انگاروں سے اٹھ کر آئی اور کہنے لگی۔ہمیں کیا پتہ تمھارے گھر کون آیا؟کون گیا؟تمھارا بھائی تو خود چور ہے،کہیں وہی تو چُرا کر نہیں لے گیا یہ سُن کر نور فاطمہ بولی نہیں نہیں باجی میرا بھائی تھانے میں ہے اور اس پر چوری کا الزام ہے۔ارے کتنی بے شرم لڑکی ہو تم سارا محلہ جانتا ہے کہ تمھارا بھائی چوری کرتا ہے۔بھتہ خوری،لڑکیوں کو چھیڑنا یہ سب مشغلے ہیں اس کے جاؤ یہاں سے آئیں بڑی کہ پیسے دے دو۔
وہ لڑکی روتی ہوئی وہاں سے چلی اور کونے پر بنی قاسم بھائی کی کریانے کی دکان پر رک گئی اور قاسم بھائی سے کہا کہ:
قاسم بھائی ابا کو دل کا دورہ پڑا ہے آپ میری کچھ مدد کر دیں قاسم بھائی نے یہ سن کر کہا فاطمہ مجھے پتہ ہے مگرآج کل میرا کاروبار بھی صحیح نہیں چل رہا اوپر سے تم لوگوں پرمیرے راشن کے پیسے بھی ادھار ہیں۔اچھا چاچا کہتی ہوئی وہ وہاں سے چل دی اور مایوسی کے عالم میں سوچوں میں غُم جارہی تھی کہ اب کیا کرے گی باپ اسپتال میں ہے اور بھائی جیل منتقل کردیا گیا ہوگا وہ ان ہی خیالوں میں غرق تھی اور راستہ اسپتال سے چند قدم کا رہ گیا تھا کہ اس کے ماموں زاد بھائی نے اسے بتایا کہ چاچا رحیم اب اس دنیا میں نہیں رہے۔یہ سننا تھاکہ وہ لڑکی بدحواس اسپتال کی جانب بھاگی اور مسلسل بولتی جارہی تھی کہ ابا نہیں مر سکتے،وہ میرے جینے کا سہارا ہیں،انہیں میری اور سلمان بھائی کی شادی دیکھنی ہے یہ دہراتی ہوئی جب آئی سی یو میں داخل ہوئی تو اس کے بابا کا لاشہ پڑا دیکھا۔
وہ ضعیف اور مصائب کا مارا بوڑھا بے یارومددگار اور روپیہ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملا۔وہ باپ کی میت دیکھ کر بین کرنا شروع کردیتی ہے اور مکمل ٹوٹ جاتی ہے اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ باپ کی میت کو اسپتال سے گھر لے کرجائے خدا کا کرنا ایک ڈاکٹر مسیحا بن کر آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ لو 10ہزار روپے اپنے بابا کے کفن دفن کے لئے رکھ لوتو وہ لڑکی روتی ہوئی کہتی ہے کہ اب ان کاغذوں کا میں کیا کرو جب میرا باپ زندہ تھا کسی نے میری مدد نہ کی اس نے وہ پیسے لینے سے انکار کردیا.بات یہ تھی کہ وہ ڈاکٹر ان کے محلے کا تھا اور رحیم چاچا کی شرافت،حسن اخلاق،خودداری کا دلدادہ تھا اس ڈاکٹر نے کہا تمھارا باپ مجھے جانتا تھا اور وہ میرے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ باپ بھی تھے کیوں کہ وہ ان پڑھ اور غریب ہونے کے باوجود کسی رئیس،حاتم طائی اور درویش سے کم نہ تھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔یہ کہہ کر ڈاکٹر نے کہا لو بیٹا یہ لے لو اس لڑکی نے وہ رقم لے لی۔اور ساتھ ہی اسپتال کے باہر کھڑی ایمبولینس کو تاکید کی کہ اس لڑکی کے ساتھ اس کے باپ کی میت ہے اسے گھر تک چھوڑ آؤ پیسوں کا مطالبہ مت کرنا۔رحیم چاچا کی موت کی خبر سُن کر دور دروز کے علاقے والے بھی پہنچنا شروع ہوگئے کیوں کہ رحیم چاچا ایک گورکن تھے اور اس کام کی وجہ سے وہ نہ صرف اپنے محلے بلکہ آس پاس کے محلے والوں کی بھی جان پہچان میں تھے۔باپ کی میت کو لوگوں کے سہارے سے ایمبولینس میں رکھا اور گھر کو روانہ ہوگئی۔
راستے میں باپ کی میت کو دیکھتی اور روتی جاتی وہ اپنے باپ کی میت سے ابلاغ کر رہی تھی کہ آخر مجھے اس ظالم سماج میں درندوں کے بیچ کیوں چھوڑ کر چلے گئے میں تمھارے بغیر کیسے جیو گی بھائی کو بھی جیل ہو گئی ہے۔میت پڑوسیوں نے خود اتاری اور گھر میں منتقل کی یہ وہی لوگ تھے جو جیتے جی تو مدد کو نہیں آئے مگر مرنے کے بعد ہمدرد بن گئے۔نور فاطمہ یہ سوچ رہی تھی کہ ان ۰۱ ہزار سے کفن،میت گاڑی،غسل دینے والوں کے اخراجات نکل جائیں گے مگر اسے کیا پتے تھا کہ یہ دنیا ہے کس شے کا نام۔اسے رحیم چاچا کے ساتھ کام کرنے والے شمشاد انکل نے بتایا کہ بیٹا قبر کھدائی کے 8 ہزار مانگ رہے ہیں یہ سن کر وہ لڑکی ایک دم بولی مگر انکل بابا تو پوری زندگی قبروں کی کھدائی ہی کرتے رہے آج ان کی قبر کھدائی کے لئے بھی پیسہ درکار ہے ہاں بیٹا ہمارے سیٹھ بہت سخت دل اور ظالم ہے وہ پیسوں کا پجاری ہے رحیم جب ۵۱ سال کا تھاجب سے تمھارے دادا کے ساتھ اس کام میں جُت گیا تھا اور آخری دم تک اسی پیشے سے منسلک رہا اللہ پاک تمھارے ابا کو جنت میں جگہ دے آمین۔میرے پاس یہ 2 ہزار روپے ہیں تم یہ رکھ لو کام آئیں گے۔نہیں نہیں انکل مجھے نہیں چاہئے اللہ بے حد بڑا ہے۔یہ لو انکل 8 ہزار روپے اور جاؤ جلدی قبر کشائی کرو۔ شمشاد انکل رات میں جب کہ سلمان کے بابا دن میں لوگوں کی قبریں کھودا کرتے تھے اس لڑکی نے پیسے تو دے دئے مگر دل ہی دل میں یہ سوچ رہی تھی کہ خدایا یہ کون سا سماج ہے،کون سا قانون ہے،کس طرح کے لوگ بستے ہیں تیرے اس فانی جہاں میں یہ کیسے امیر کبیر لوگ ہیں کہ جن کے لئے غریب اپنی ساری زندگی و جوانی نچھاو ر کر دیتا ہے مگر اس کے باوجود ہمدردی کے کچھ بول اور انسانیت کے چند لمحوں کے لئے ترستا ہے نور کی دوست جوکہ ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی اس نے کہا یار یہ سرمایہ دارانہ نظام کادور ہے اس نظام میں محنت کش اور مزدور طبقہ سرمایہ داروں کو کما کر دیتا ہے اس کے باوجود ہ وہ دو وقت کی روٹی سے محروم ہے اور ان ظالم سرمایہ داروں کو کام کرتے مزدور پسند ہیں مرے ہوئے مزدور نہیں۔
وہ لڑکی اللہ پر کامل توکل کرتی تھی اب وہ 2ہزار روپے ہاتھ میں پکڑ کر یہی سوچ رہی تھی کہ اب غسل والے کے،کفن کے،میت بس اور دیگر اخراجات کیسے ہوں گے مکمل؟ایک بچی نے آکر کہا کہ رحیم بابا سے ایک دوست کی برسوں بعد ملاقات ہوئی وہ آپی آپ سے ملنا چاہتے ہیں نور فاطمہ نے کہا اچھا بلالاؤ اس نے پردے کے پیچھے رہ کر ان کی بات سنی وہ کہنے لگے تمھارا باپ میرا بچپن کا دوست تھا میں ہم دونوں غریب ضرور تھے مگر دل کے امیر تھے ایک دوسرے کے لئے جان دینے کو تیار کل تقریباً ۷۱ سال بعد ملے اور ملتے ہی رحیم نے مجھے کہا!جہانگیر جب میں مروں تو میری میت کو اسی قبرستان میں دفنانہ جہاں میرا بچپن،جوانی اور بڑھاپہ گزرا یہاں میری ماں اور باپ کی قبریں ہیں بھائی تو کوئی تھا نہیں 2بہنیں تھی ان کی بھی آرام گاہیں یہی ہیں اور آخری وصیت یہی تھی کہ میرا جنازہ پیدل گھر سے قبرستان تک لے کے جانا مجھے کیا پتہ تھاکہ آج میرا جگری ۷۱ سال بعد مجھ سے بچھڑنے کے بعد اب کی بار ایسا بچھڑا کہ اب آخری جہان میں ملاقات ہوگی یہ کہتے ہوئے وہ دوست زارو قطار رونے لگا جمعہ کا دن تھا نماز ظہر کے بعد نمازہ جنازہ ادا کرنا تھی اتنے میں ایک پولیس کی گاڑی آئی اور سلمان کو باپ کا آخری دیدار کرایا اور پھر بیڑیوں میں جکڑ کر لے گئے جنازے میں اس قدر خلقت تھی کہ مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کے باوجود غائبانہ نماز پڑھی گئی یہ ہمارے معاشرے کا ریت و رواج ہے کہ مردے کی تدفین کے بعد ۳ روز سوگ منانا اور کھانا کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے ورنہ لوگ طعنے دیتے ہیں۔ مگراس جاہل اور سماجی رسم کی ادائیگی کے لئے اس لڑکی کے ہاتھ خالی تھے لہذا رحیم چاچا کی تدفین کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved