تازہ ترین  

100 اشعار کی غزل
    |     2 weeks ago     |    شاعری
100 اشعار کی غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب تو اپنا یہ فیصلہ ہوا ہے
آج سے دل بھی آپ کا ہوا ہے

یہ جُدائی یونہی نہیں مِلی، دوست!
چرخ پر پہلے مشورہ ہوا ہے

گر بِچھڑنے کا غم نہیں ہے تُجھے!
رنج مجھ کو بھی بس ذرا ہوا ہے

اُس کو خلدِ بریں میں جا مِلے گی!
عشق میں رب کے جو فنا ہوا ہے

دل میں عشقِ نبی بھرا مَیں نے
پھر کہیں قلب پارسا ہوا ہے

آنکھ روتی ہے خون کے آنسو
دل میں کانٹا جو اِک چُھبا ہوا ہے

وہ تو اِک عام آدمی تھا، مگر!
عشق کے بعد خاص سا ہوا ہے

پوچھتے کیا ہو پاس کیا ہے مِرے؟
ایک دھوکا تِرا دیا ہوا ہے

یہ محبّت ہے کھیل دھوکوں کا
کیا کبھی عشق میں دغا ہوا ہے؟

تُم لگاتے تھے پیڑ چاہت کے
کیا کوئی ایک بھی ہرا ہوا ہے؟

باوفا لوگ بے وفا بنے، دوست!
یہ محبّت میں بارہا ہوا ہے

اُس کو کیسے سکوں میسّر ہو
جس نے نفرت سے دل بھرا ہوا ہے

عشق رسوا ہوا زمانے میں
دوست! یہ تو بہت بُرا ہوا ہے!

پھل اُگائے گا یہ محبت کا
گر شجر عشق کا لگا ہوا ہے

تُم نے جو چھوڑ دی محبّت، دوست!
اِس بغاوت سے فائدہ ہوا ہے؟

جو اُداسی ہے چار سُو میرے
یہی تیرا کِیا دَھرا ہوا ہے

یہ بھی شُہرت تو کم نہیں ہے، دوست!
تیرے گھر میرا تبصرہ ہوا ہے

لاش پر رو رہا ہے تُو، لیکن!
میرے قاتِل سے بھی ملا ہوا ہے

یار! لاکھوں جُدا ہوئے ہیں یہاں
کیا ہوا؟ وہ بھی گر جُدا ہوا ہے!

سوچتا ہوں نکال پھینکوں اِسے
جس قدر آج دل دُکھا ہوا ہے

خاک چھانی بہت محبّت میں
پھر کہیں عشق یہ عطا ہوا ہے

آج دُکھ ہے زوال پر اپنے
اِس لیے دل بجھا بجھا ہوا ہے

سب سے ہوتی ہیں غلطیاں، مِرے دوست!
عشق مُجھ کو ہوا تو کیا ہوا ہے؟

ہر طرف شور ہے محبّت کا
اِس محبّت میں کیا رکھا ہوا ہے!

مُجھ پہ آسیب ہے محبّت کا
کئی لوگوں سے یہ سُنا ہوا ہے

دُکھ، مُصیبت، خُوشی، محبّت، پیار
میری قسمت میں کیا لکھا ہوا ہے!؟

کامیابی مِرا مقدّر ہے
جب سے وہ میرا رہنما ہوا ہے

مَیں جو منکر رہا محبّت کا
ایک سجدہ مِرا قضا ہوا ہے!

اُسے پلکوں پہ بھی بٹھایا تھا
آج قدموں میں جو پڑا ہوا ہے

یہ محبّت بھی بن گئی ہے دلھن
عشق دولہا سا جو بنا ہوا ہے

اب مُجھے دردِ سر نہیں ہوتا
اُس کی زُلفوں کو جو چھوا ہوا ہے!

لذّتِ مے کی بات مت کیجے
مَیں نے خونِ جگر پیا ہوا ہے!

بُھول سکتا نہیں کسی صورت
روگ ایسا مُجھے لگا ہوا ہے

دوست! جی کے بھی مَر رہے ہیں ہم
اَور مَر مَر کے بھی جیا ہوا ہے

انگلیاں، ہاتھ کٹ گئے تو کیا؟
عشق میں ایسا بارہا ہوا ہے

دل لگی، خودکشی، دعا، سزا، جھوٹ
اِس محبّت میں کیا نیا ہوا ہے؟

ارے نادان! فکر کر کچھ تو
اپنے مقصد سے کیوں ہٹا ہوا ہے

یہ جنوں ہے یا پھر محبت ہے
ایک بندہ۔۔۔۔۔۔تِرا خُدا ہوا ہے

عشق کا کچھ پتہ نہیں ہے تُجھے
یار! کیوں میرا ناصحا ہوا ہے

مجھ کو گمراہ مت کہو مَیں نے
عشق کا راستہ چُنا ہوا ہے

مت منا میری موت پر خُوشیاں
دیکھ! قاتِل کا سر جُھکا ہوا ہے

میرے دل سے اُتر نہیں سکے گا
تُو مِرے دل میں جو بسا ہوا ہے

عشق کا معجزہ ہے یہ، صاحب!
بے وفا شخص باوفا ہوا ہے

تُم جو مجھ سے بچھڑ گئے ہو، دوست!
بخُدا ! یہ مِرا بھلا ہوا ہے

مر مِٹا تھا مِری جوانی پر
اب بڑھاپے میں تُھوکتا ہوا ہے

تُم جِسے باضمیر سمجھے تھے
اِک وہی شخص تو بکا ہوا ہے

اِک پری وش کا ہجر زادے سے
دل لگی کا مقابلہ ہوا ہے

پھر سے اپنا زوال دیکھوں گا
نشّہ شُہرت کا جو چڑھا ہوا ہے

اُس سے بڑھ کر کوئی خوشی ہے کیا؟
تُجھ کو اپنا بنا لیا ہوا ہے

جس طرح روٹھ کر گئے ہو تُم
کوئی ایسے بھی کیا خفا ہوا ہے؟

ہر گلی ہر نگر محبّت ہے
پھر تماشا کہاں لگا ہوا ہے

ہم نے عشقِ مجازی چھوڑ دیا
فرض کوئی تو یاں ادا ہوا ہے

تب سے اکثر خمُوش رہتا ہوں
جب سے تُجھ سے مکالمہ ہوا ہے

کس مشقّت سے یار! گُزرا ہے
آج تُو اتنا کیوں تھکا ہوا ہے

یہ محبّت میں قید کر لے گا
جال زلفوں کا جو بچھا ہوا ہے

میں تو سمجھا تُمھیں محبّت ہے
دیکھ! مجھ کو مغالطہ ہوا ہے

مر سکا اور نہ جی سکا مَیں، دوست!
تُو نے کیسا مجھے ڈسا ہوا ہے

کئی ملتی ہیں یاں زلیخا سی
کون یوسف سا پارسا ہوا ہے

یہ محبت نگر ہے اَور یہیں
عشق کا قافلہ رُکا ہوا ہے

لذّتِ موت میری بڑھ گئی ہے
میرے سینے سے وہ لگا ہوا ہے

آئنے میں تُجھے اُتار سکوں
مجھ کو ایسا ہنر ملا ہوا ہے

دیکھ دل کی شرارتیں، مِرے دوست!
دودھیا گال پر فدا ہوا ہے

اُس پری وش کا ہو خُدا حافظ
جس کے رُخ پر گڑھا پڑا ہوا ہے

پتّھر اب کس کو مارتا پِھروں مَیں؟
سامنے آئنہ پڑا ہوا ہے

ہم کو دھمکی نہ دے، بات سمَجھ
عشق سُولی پہ بھی چڑھا ہوا ہے!

اُس نے اِک پھول ہی چُھوا تھا۔۔پھر
باغ کا باغ ہی ہرا ہوا ہے!

مَیں زنَخداں پہ تیرے جاں دے دوں
دل اِسی ضِد پہ اب اَڑا ہوا ہے

تیرے کردار پر ہے میری نظر
جسم پر دھیان کب رکھا ہوا ہے!

اُس سے پوچھو کہ ہے اذیّت کیا
جو تِرے جال میں پھنسا ہوا ہے

خُدا غارت کرے مِرے دل کو
کیوں یہ تُجھ جیسی پر فدا ہوا ہے

مذہبِ عشق ہی تُو اپنا لے
یار! فرقوں میں کیوں بٹا ہوا ہے

اب ہمارا نہ ہو سکے گا کبھی
وہ جو سارے زمانے کا ہوا ہے

وہ ابھی خودکشی نہیں کرے گا
کیوں کہ مُجھ پر فریفتہ ہوا ہے!

کیوں تُو بے چین رہنے لگ گیا ہے
غم کوئی سینے میں چُھپا ہوا ہے؟

جس کو ٹُھکرا دیا زمانے نے
بس وہی آدمی مِرا ہوا ہے

اب محبّت سے مت ڈرا مُجھ کو
دیکھ! پہلے سے دل ڈرا ہوا ہے

مت چُھپا تُو محبّتیں اپنی
تیرے چہرے پہ سب لکھا ہوا ہے!

اُس نے پوچھا ہے ہجرزادوں کا
پھر وہاں میرا تذکرہ ہوا ہے

آئنہ مُجھ سے منہ چُرا لے گا
خود کو اتنا بُرا کیا ہوا ہے

اپنی اوقات میں رہا کرو تم !
پھر نہ کہنا، بہت بُرا ہوا ہے

یہ اذیّت بڑی اذیّت ہے
دل جو اپنوں سے اُٹھ گیا ہوا ہے

میری تربت پہ آ کے وہ بولا:
کیوں مرے بن یہاں پڑا ہوا ہے

اُنگلیاں اپنی کاٹتی ہو کیوں
مُجھ کو یوسف سمجھ لیا ہوا ہے؟

بس محبّت میں ہے اذیّت۔۔۔۔اور
عشق میں اِک سکوں رکھا ہوا ہے

آنکھ سے آنکھ لڑ گئی ہو تِری
کیا کبھی ایسا حادثہ ہوا ہے؟

کل تلک کھا رہا تھا دھکے جو
آج وہ صاحبِ انا ہوا ہے

خود کو نایاب کہنے والے! بتا:
کیا کوئی مُجھ سا سر پھرا ہوا ہے؟

اِس لیے ڈرتا ہے محبّت سے
دل، محبّت کا ہی ڈسا ہوا ہے

میری اُلفت تو جُرم ہے، لیکن!
آپ کا عشق مشغلہ ہوا ہے

تیری آنکھوں میں خود کو دیکھا جب
تب سے تُو میرا آئنہ ہوا ہے

جب سے روٹھا ہے مُجھ سے میرا یار
شعر گوئی بھی مسئلہ ہوا ہے

یہ تِری یاد ہی سلگ رہی ہے
ورنہ سِگرٹ مِرا بجھا ہوا ہے!

کم سنی ہو یا پھر بڑھاپا ہو
اُسے ہر دَور میں چُنا ہوا ہے

خود کو تُجھ میں تلاش کرتا ہوں
تُو مِرا کب سے آئنہ ہوا ہے؟

ظُلم ڈھاتا ہے مُجھ پہ کیوں اتنے
درس کس نے تُجھے دیا ہوا ہے

وہ سفر کی اذیّتوں سے واقف ہے
وہ مِرا ہم سفر رہا ہوا ہے

روح محروم ہے محبّت سے
جِسم پر داغ لگ گیا ہوا ہے

جو محافظ تھا میری آبرو کا
مُجھ پہ کیچڑ اچھالتا ہوا ہے

عشق گر کھیل ہے اذیّت کا
کیوں اذیّت میں مبتلا ہوا ہے؟

مت کِیا کر غُرور خود پر، دوست!
دیکھ! مٹّی کا تُو بنا ہوا ہے

اسامہ زاہروی





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved