تازہ ترین  

جنت سے غالب کے خط کا جواب
    |     2 weeks ago     |    طنزومزاح
جنت سے غالب کے خط کا جواب

سلام ! چچا غالب۔۔۔
آپ کا خط کچھ روز قبل موصول ہوا۔ خط پڑھ کر بہت خوشی ہوئی اور حیرت بھی۔
خوشی اس بات کی کہ مجھ نا چیز کو آپکا خط موصول ہوا اور حیرت اس بات کی کہ جنت سے خط آیا۔
خط کا آغاز ایسا تھا کہ کسی تربت پہ جا کر پڑھا جاتا تو عین ممکن تھا کہ مردہ کفن پھاڑ کر باہر آجاتا۔ اگر آپ کو میرا تخلص پسند نہیں آیا تھا تو اشارۃ بتا دیتے آپا زبیدہ کی طرح مرچ مصالحہ لگا کر تفصیل بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
آپ کا خط پڑھ کر ایسا لگا کہ آپ اپنے دور حیات میں کٹر نون لیگی کارکن تھے۔ گنجوں کی پارٹی سے اس قدر لگاؤ کہ جنت کے یوتھیوں کو بھی نانی یاد دلا دی ۔ آپ کے بقول جنت کی یوتھ کونسل کی صدارت ساغر صاحب کے پاس ہے۔ میرے خیال میں وہ اس منصب کے لیے نااہل ہیں ۔ جون کو جوں کہنے میں مذائقہ ہی کیا ہے ان کی زلفیں جس طرح کالی توڑی کی بیل کی طرح بڑھ چکی تھیں ممکن ہے کہ جوؤں نے ان کی ذلفوں میں اپنی سلطنت قائم کر لی ہو۔
میر صاحب کو مئیر کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ویسے بھی آپ نے ان کو سر پہ اٹھا رکھا تھا۔
ذوق صاحب کو چوک کہنا غلط نہیں کیونکہ وہ اکثر چوک پر کھڑے ہو کر ہندوستانی لڑکیوں کو تاڑا کرتے تھے اور عادت سے مجبور ہو کر جنت میں بھی انھی حرکات و سکنات میں مصروف ہوں گے۔
فراز صاحب اکثر اپنی زوجہ سے ناراض ناراض رہتے تھے اور اب حوروں کو اپنی ناراضگی کے جوہر دکھاتے ہوں گے۔
آپ کا خط پڑھنے سے پہلے میں سمجھتا تھا غالب آج بھی غالب ہے مگر جس طرح آپ نے خط لکھا اور پہنچایا یہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے اب آپ میں وہ پہلے والی بات نہیں رہی۔
منٹو کا ذکر کیا آپ نے۔ یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ منٹو صاحب مجھ سے چنٹو شاعر کو پسند کرتے ہیں۔ آپکی جب بھی منٹو جی سے ملاقات ہو تو ان سے کہیے گا کہ اہل خلد کی جاسوسی سے فرصت ملے تو مجھے خط لکھیں۔

فقط
منٹو کا چنٹو زاہروی





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved