تازہ ترین  

اقوام متحدہ،قومی فکر کی ترجمانی وزیرخارجہ کی زبانی
    |     2 weeks ago     |    انٹرنیشنل
پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ میں قومی زبان میں خطاب کیا اپنے خطاب کے ذریعے نئی حکومت کے وژن اورچلینجز پر پراثر بات کی۔اقوام عالم کو مودی سرکار کی کالی کرتوتوں سے اگاہ کیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کی تائید کی۔افغانستا ن امن اورپاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر پاکستان کا موقف پیش کیا بالخصوص دوباتیں بہت اہمیت کی حامل تھیں ایک تحفظ ناموس رسالت کے لیے نام نہاد مہذب اقوام کی گستاخیوں پر تنبیہ اوردوسرا موقف کرپشن اورمنی لانڈرنگ کرنے والوں کے موجودہ قوانین کوناکافی قرار دیتے ہوئے موثر قوانین بنانے کی تجویز اس خطاب کا حصہ تھیں۔شاہ صاحب سے نے کہا ”کہ دوماہ قبل ہونے والے الیکشن میں عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے ایسے پاکستان کے حق میں فیصلہ سنایا جو پرامن بھی ہے پراعتماد بھی اوراصولوں کا پاسدار بھی۔ایسامضبوط پاکستان جوعلاقائی امن اورعالمی برادری کے ساتھ برابری اورباہمی عزت ووقار کی بنیاد پرتعلقات استوار کرے گا۔ جوعالمی تنازعات کے حل عہدوں کی پاسداری اور اقوام عالم کے ساتھ مل کر نئی جہتوں کی تلاش اوراہداف میں کوشاں رہے گا۔ لیکن یہ پاکستان اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔میں آپ سے مخاطب ہوں ایک ترقی پذیر ملک کی ترجمان کی حیثیت سے۔جس کی حکومت کی بنیادی والین ترجیح ہے عوامی فلاح“۔
”جناب صدر! آج دنیا دوراہے پر کھڑی ہے۔وہ بنیادی اصول جن پر عالمی نظام قائم ہے متزلزل دیکھائی دیتاہے۔پوٹیکشونیزم،پاپولیشن نزم،آئیسولزم کی قوتیں غالب ہیں۔باعث افسوس امر یہ ہے کہ برداشت کی جگہ نفرت،منطق کی جگہ قیاس،قاعدے قانون کی جگہ اندھے بے لگا م طاقت کی عمل داری نے لے لی ہے۔جہاں دنیا میں ضرورت ہے نئی راہیں متعین اورتلاش کرنے کی وہاں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔جہاں دوستی کی روابط درکارہیں وہاں نفرتوں کی فصیلیں کھڑی کردی گئیں ہیں۔جہاں بازگشت کرتی ہیں آزادی کی صدائیں وہیں گونجتی ہیں جبر کی ندائیں۔سامراجیت کی نئی شکلیں نئی جہتیں پروان چڑھتی نظرآرہی ہیں۔“ شاہ محمود قریشی صاحب کاخطاب الفاظ کی تسبیح نہیں تھا بلکہ قومی اوربین الاقوامی ایشوز پر ایک جامع اورپراثر دیباچہ تھا۔صاحب عقل وفہم،ارباب دانش بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ کس حسن اسلوبی کے ساتھ درجنوں قومی اوربین الاقوامی معاملات کو مختصرالفاظ کا لبادہ پہنایا گیا کیپٹیل لیزم کے اثر اورطاقت کے رعب کے بھیانک اثرات اورترقی پذیر اورغریب ممالک کا بیانیہ احسن اسلوب سے بیان کیا گیا اورساتھ اقوام عالم کی ذمہ داریا ں بالخصوص اقوام متحد ہ کے کردار اہمیت اورموجودہ ناکامیوں پر بین الاقوامی رائے کا اظہار کیا۔بلاشبہ ترقی پذیر ممالک بالخصوص اسلامی ممالک اقوام متحدہ کے موجودہ کردار کو ناکافی اور یکطرفہ سمجھتے ہیں۔بین الاقوامی قوتوں کی باہمی تجارتی لڑائی سے تجارتی تنزلی،بیماریوں کے پھیلاؤاور موسمیاتی تبدیلی بالخصوص پاکستان اس سے سب سے زیادہ متاثرہوا ہے۔عمران خاں کی قیادت میں صوبہ خیبرپختون خواہ میں ایک ارب درخت لگائے گئے اوراب دس ارب درخت لگانے کا منصوبہ زیرغور ہے۔بین الاقوامی امن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے موصوف نے فرمایا ”جناب صدر! دوسری جنگ عظیم کے بعد رائج آئیڈیالزم اوربین الاقوامی اتفاق رائے کی جگہ ایک مبہم عسکر ی سوچ نے لے لی ہے۔یہ امر نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ عالمی امن عامہ کے لیے خطرناک بھی۔مشرق وسطیٰ کے تنازعات افسوس ناک ہیں۔تاریخی حل طلب تنازعات کے ساتھ نئے تفرقات جنم لے رہے ہیں۔“
مودی سرکار کو کرارا جواب دیتے ہوئے انہوں نے فرمایا”کہ پاکستان اقوام متحدہ کی اُس رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے اور کہا کہ پاکستان اس پر عمل کا مطالبہ کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کو خوش آمدید کرے گا۔انھوں نے ساتھ میں امید ظاہر کی کہ انڈیا بھی اس کمیشن کے قیام کو تسلیم کرے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے حصول کے لیے موقع گنوادیا ہے۔ انہوں نے انڈیا پر الزام لگایا کہ اس نے اقوام عالم کے سامنے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا ہے جس کے سبب سات دہائیوں سے بھارت سرکار کے زیر انتظام کشمیر کے عوام انسانی حقوق کی پامالی سہتے آرہے ہیں۔معزز وزیرخارجہ نے مزید بھارتی جارحیت کو بے نقاب کرتے ہوے فرمایا ”کہ انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے لیکن اگر انڈیا نے اسے عبور کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔آپ نے مزید فرمایا کہ پاکستان میں حالیہ برسو ں میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔پشاور میں آرمی سکول پرحملہ ہو یا مستونگ کے نہتے عوام پر سب کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔بھارت دہشت گردو ں کا سہولت کارہے کلبھوشن جادھو حاجر سروس کمانڈر اس کی زندہ مثال ہے۔کلبھوشن نے بھارتی حکومت کی ایما پر پاکستان میں دہشت گردی کی پلاننگ کی، ہم تمام واقعات کے ثبوت بھارت اور اقوام متحدہ سے شیئر کرنا چاہتے تھے، پاکستان اسلحے کی دوڑ کم کرنے کے لیے بھارت سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں داعش کی عمل داری کو باعثِ تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کافی عرصے سے بیرونی قوتوں کی غلط فہمیوں کا نشانہ بنتے آ رہے ہیں، پاکستان طویل عرصے سے غیر ملکی پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا آیا ہے“۔ بلاشبہ پاکستان نے چالیس سال تک لاکھوں افغان مہاجرین کی مہمان نواز ی کے فرائض جذبہ حب ایثار کے ادا کرتا آیا ہے اور تاحال ادا کررہا ہے۔افغانستان میں امن تلوار یا ہتھیار سے نہیں آئے گا بلکہ باہمی گفت وشنید سے ہی آئے گا یہ تاریخی حقیقت ہے جس سے راہ فرار اختیار نہیں کیا جاسکتاہے۔
عالم اسلام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے ناموس رسالت کا مسئلہ بھی اقوام عالم کے سامنے اٹھایا اور ہالینڈ میں حالیہ دنوں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کا مقابلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے منصوبے سے مسلمانوں کی دل ازاری ہوئی ہم او آئی سی اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے تقاضوں میں روادری اور تہذیبوں میں مکالموں اوربڑھتی ہوئی اسلام دشمنی کا دوست ممالک کے ساتھ مل کر بھرپور مقابلہ کریں گے۔یاد رہے کہ پاکستانی وزیرخارجہ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم تحفظ نامو س رسالت کے لیے اقوام متحدہ میں پرزور آواز اٹھائیں گے۔وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کنڑول لائن پر اقوام متحدہ کی نگرانی کو اچھی نظرسے دیکھتا ہے۔پاکستان مربوط اورسنجیدہ مذاکرات چاہتا ہے۔بھارت امن پر سیاست کو فروغ دیتا ہے۔امن سے ہی ترقی وخوشحالی راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔مسئلہ کشمیر کا سات دیہائیوں تک حل نہ ہونا اقوام عالم کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر امن کا خواب تعبیر نہیں ہوسکتا۔اگر ہندوستان لائن آف کنٹرول پر کسی بھی قسم کی جارحیت کرتاہے یا محدود پیمانہ پر مہم جوئی کرتا ہے تو اس کا بھرپورجواب دیا جائے گا۔پاکستان اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حدتک جاسکتاہے۔پاکستان نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کی بیخ کنی کرتارہے گا۔پاکستان کبھی نہیں بھولے گا مستونگ اورپشاورآرمی سکول کے شہدا کو نہ ہی سمجھوتہ ایکس پریس کے متاثرین کوپھر دیکھئے سانحہ ایکس پریس کے ذمہ دار کس طرح آزاد پھر رہے ہیں۔بلاشبہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں روز بروز تشدد بڑھاتا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ہم مشرقی وسطی کو مغربی چین اور وسط ایشیاء کو سمندر تک راہ داری دینے میں کامیاب ہوں گے۔اس سے ما قبل بھارتی وزیرخارجہ ششماسوراج نے ارض پاک کے خلاف روایتی انداز میں الزام کا رونا رویا۔امن کی بھاشا کے گیت گائے۔اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر پر انسانی حقوق کی رپورٹ پر کوئی بات نہ کی گفتگو حسب سابق پاکستان کے خلاف زہراگلنے تک محدود رہی۔ششما سوراج کو معلوم ہوناچاہیے کہ بھارت کی راگنی کی حقیقت اقوا م عالم پر آشنا ہوچکی ہے اب بغل میں چھر ی اورمنہ سے رام رام کی بھاشا قابل قبول نہ ہوگی دنیا جان چکی ہے کہ بچوں پر چھرے کون چلاتا ہے۔دنیا جانتی ہے کہ کو ن بچوں کو تعلیم اورسوشل میڈیا سے دررکھتے ہیں۔کون بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں؟ کہاں اقلیتیں غیرمحفوظ ہیں۔کہاں اردو بازار کو ہندی بازار میں بدلہ جاتا ہے؟ کہاں مسلم پور کو رام پور میں تبدیل کیا جاتاہے؟کہاں مسجدیں گرائی جاتی ہیں؟ کہاں اقلیتوں کی زمینوں پرقبضہ کیا جاتاہے۔کہاں اقلیتوں کی مستورات کامذہب تبدیل کرایا جاتاہے۔کہاں نفرت کا بازار گرم ہے۔کہاں گائے کے نام پر نوجوان قتل کیے جاتے ہیں؟کہاں ظلم کو ظلم نہیں سمجھا جاتا؟ اقوام عالم کو معلوم ہوجانا چاہیے بھارتی انتہاپسندی کی روک تھام نہ کی گئی تواقوام عالم کا امن معدوم ہوجائے گا۔ اگر پاکستان پر کسی قسم کی جارحیت بڑے یا محدود پیمانے پر کی گئی تو اس کے اثرات صدیوں تک بھلائے نہیں جائیں گے؟











Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved