تازہ ترین  

بین الاقوامی یوم اساتذہ۔۔۔۔توقیر و حرمت کے پاسبان اساتذہ
    |     3 months ago     |    انٹرنیشنل
مذہب اسلام میں تعلیم کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ہم فرمان عالی شان آقاﷺ سے لگا سکتے ہیں کہ دنیا میں انسان کے تین باپ ہوتے ہیں ایک جس کی وجہ سے وہ پیدا کیا گیا دوسرا جس نے اپنی بیٹی نکاح میں دی اور تیسرا باپ جس نے تعلیم دی یعنی استاد،استاد کے اعلیٰ و ارفع مقام ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔ویسے بھی قانون قدرت ہے کہ چھتناور درخت کے سائے میں ماسوا جڑی بوٹیوں کے کسی قسم کے بڑے درخت کبھی نہیں پنپتے مگر استاد ایک ایسا سایہ دار درخت ہے جس کے سائے میں پلنے والے سارے درخت ہی آسمانوں کی بلندیوں کو چھوتے دکھائی دیتے ہیں اور ایک با کردار اور مثالی استاد کی خوشی بھی اسی بات میں مضمر ہوتی ہے کہ اس کے سائے میں بڑھنے والا پودا(شاگرد)فلک بوس پہاڑوں کی مانند کھڑا ہو جائے۔
بین الاقوامی یوم اساتذہ ہر سال ۵ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔۱۹۹۴ میں U.N.O کے ادارے UNESCO نے یہ فیصلہ کیا کہ ہر سال ۵ اکتوبر کو اساتذہ کی عزت و عظمت ، توقیر ق حرمت سے متعلق آ گاہی معاشرے کے ہر اس فرد تک پہچائی جائے جو اساتذہ کی تعلیم و تربیت ۔تشویق و تلقین سے لمحہ موجود میں معاشرہ میں بطور وکیل۔دانشور،انجینئر،داکٹر، یا سائنسدان بن کر معاشرہ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔کہ اچھا استاد ہی اپنے تلامذہ میں یہ یقین پیدا کر تا ہے کہ تم اس وقت تک ذہین نہیں بن سکتے جب تک کہ تمھارے اندر یقین عمل پیدا نہ ہو جائے یہ معلم کی شبانہ روز محنت شاقہ ہی ہے کہ جس سے بچوں کی ذہنی و اخلاقی نشو و نما ممکن ہوتی ہے۔ یہی بچہ مستقبل قریب میں معاشرہ کا اعلی فرد بن کر اپنا بہترین سماجی کردار نبھاتا ہے۔ یوم اساتذہ سے مراد محض تقریبات کا منعقد پزیر ہونا ہی نہیں ہے بلکہ اساتذہ کے مسائل اور تعلیمی مسائل کو بھی حکومت اقت تک پہچانا ہے۔کہ نظام تعلیم میں استاد کو ریڑھ کی ھڈی خیال کیا جاتا ہے۔اگر جسم میں ریڈھ کی ھڈی تندرست و توانا نہ ہو تو کسی طور بھی صحت مند جسم پرورش نہیں پا سکتا لہذا جب تک تعلیمی شعبی کے ان مرکزی کرداروں کے حالات کو توانا نہیں کرو گے کارکردگی کے پنپنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
آج سے ۱۵۰۰ سال قبل نبی آخر حضرت محمدﷺ کا فرمان عالی شان اس طبقہ کی حوصلہ افزائی کیلئے کافی ہو گا کہ۔
انما بعثت معلماً
بیشک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔
گویا یہ پیشہ بلا شک و شبہ پیشہ پیغمبری ہے۔مراد یہ کہ اب اساتذہ کے کندھوں پر معاشرہ کی بنیاد کی درستی(افراد کی درست سمت کا تعین) اخلاقی و سماجی نشو و نما کی ذمہ داری کا حساس ہے ایسے جیسے کہ پیغمبروں کے کندھوں پر ہوتا تھا۔اساتذہ نسل آئندہ کے امین ہیں اور اسی امانت کی امانتداری کا تقاضہ یہ ہے کہ استاد طلبا میں حصول علم کی وہ تشنگی بھڑکائے کہ تلامذہ چا ہ علم کی تلاش میں مارے مارے پھرتے دکھائی دیں۔اس ضمن میں مولانا روم ؑ فرماتے ہیں کہ
اگرمنہ زور گھو ڑھے کو پیاس لگی ہو تو بیس افراد مل کر بھی ا سے پکڑ کر دریا کے کنارے تک جانے سے روکنے کی کوشش بھی کر لیں وہ تمام طنابیں تڑوا کر لب دریا پہنچ جائے گا اور اگر اسے پیاس نہ لگی ہو تو یہی ۲۰ افراد اس گھوڑے کو پانی پینے پہ مجبور نہیں کر سکتے۔بقول واصف علی واصف کہ ایک اچھا استاد وہ ہے جو علم نہیں علم کی پیاس دیتا ہے۔
یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ کوئی ملک معاشی ترقی کا متحمل نہیں ہو سکتا تا وقتیکہ تعلیمی ترقی کو ممکن نہ بنائے جس کی مثال دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہیں جنہوں نے تعلیمی ترقی کے زینہ پر پاؤں رکھ کر معاشی ترقی کو ممکن بنا کر دنیا میں اپنا مقام و نام پیدا کیا۔جبکہ ہمارے سر سید یہ کہتے کہتے اس دار فانی سے رخصت ہو گئے کہ
’’ تعلیم ترقی کا زینہ ہے‘‘
گویا اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ تعلیم کے بغیر قوم اندھی،گونگی،اور بہری ہوتی ہے۔اس کی ایک مثال واضح کر دوں کہ انقلاب روس ۱۹۱۷ کے بعد روسی ڈوما سٹیٹ میں مفکرین و اراکین نے مل کر فیصلہ کیا کہ اب ہم نے مزدور کسان کے نام پر سیاسی انقلاب کے میدان میں تو کامیابی حاصل کر چکے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی انقلاب کو کیسے عمل میں لایا جائے کہ روس د نیا کے نقشہ پر ایک بڑی عالمی طاقت بن کر ابھرے۔تو آخری فیصلہ یہ ہوا کہ وہ کردار جو ملک میں ڈاکٹر،انجینئر،وکیل،سا ئنسدان بناتا ہے اس کی تنخواہ ان تمام پیشہ کے حامل افراد سے زیادہ کر دی جائے تاکہ وہ کردار جو ان تمام کرداروں کی اخلاقی آبیاری کیلئے اپنے خون کے آخری قطرہ کو بھی قربان کرنے کو تیار ہو جائے اور وہ کردار ہے ایک ،معلم۔۔۔سلام یا استاد۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved