تازہ ترین  

چھن گئے جب سے وہ محنت سے کمائے ہوئے لوگ
    |     2 months ago     |    شاعری

چھن گئے جب سے وہ محنت سے کمائے ہوئے لوگ
حوصلہ دیتے ہیں خیرات میں آئے ہوئے لوگ

خود فریبی جو نہیں اور اسے کیا کہیے
بھولتا کون ہے سینے سے لگائے ہوئے لوگ

پھر تمناوءں کا سیلاب امڈ آیا ہے
کب بچائیں گے مجھے میرے بچائے ہوئے لوگ

کیا سمجھتے ہو خراشوں سے بھرے چہرے سے
ایسے ہوتے ہیں میاں اشک بہائے ہوئے لوگ

تجھ کو معلوم تو ہو گا ہی کہ کیوں ڈالتے ہیں
خاک کی گود میں ہاتھوں سے سجائے ہوئے لوگ

حاکما ! ان کو محبت کی ضرورت ہے بہت
اب نہیں اور ڈرا دینا ڈرائے ہوئے لوگ

باتوں باتوں میں ہنر سیکھ گئے ہیں مجھ سے
اب بناتے ہیں مجھے میرے بنائے ہوئے لوگ

ایک فیصد بھی نیا پن نہیں پایا ان میں
تیرے جیسے تھے سبھی تیرے بتائے ہوئے لوگ

جن کی دنیا کو جہنم سے ملا رکھا ہے
تو بتا جائیں کہاں تیرے ستائے ہوئے لوگ

پھر ترا حشر بھی تاریخ کا حصہ ہو گا
جلد اٹھ جائیں گے دھوکے سے گرائے ہوئے لوگ

کیوں خیالوں میں یونہی عمر گنوائی جائے
اپنے بنتے ہیں کہاں پھر سے، پرائے ہوئے لوگ

کارِ دنیا سے میسر ہو جو فرصت عابد
جاگ اٹھتے ہیں وہ سینے میں سلائے ہوئے لوگ

 عابد عمر






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved