تازہ ترین  

انفرادیت سے بھر پور پروگرام پیش کرنے کی روایت رہی ہے
    |     2 months ago     |    گوشہ ادب
ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی انفرادیت سے بھر پور پروگرام پیش کرنے کی روایت رہی ہے ۔ ادارہ اب تک 172 منفرد پروگرام پیش کرچکا ہے اور یہ سفر ہنوز اب بھی جاری ہے ۔ لوگ آئے بھی اور گئے بھی ۔بعض انا پرست فنا کے گھاٹ اترگئے ،بزعمِ خود قلمکار سستی شہرت کے لیے ادارے سے جڑے اور ایسے بچھڑے کہ پھر نہیں ملے ۔۔ادارہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہا ۔۔ادارے کے بانی اور چیئرمین توصیف ترنل صاحب نے کبھی ہار نہیں مانی ان کی آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا ، ہر رکاوٹ ،ہر سدراہ کو ہٹاتے آگے بڑھ،گئے یہی اپنے آپ میں ریکارڈ ہے کہ ادارہ 173واں پروگرام پیش کررہا ۔ادارے کی نقالی دیگر گروپس نے کی اور اپنے منہ کی کھائی کہ اصل اصل ہے نقل ۔۔نقل ۔چاندی پہ سونے کا جھول چڑھا ہو تو وہ طلائی نہیں ہوجاتی ۔۔آنچ دکھانے پر منہ فق ہوجاتا ہے ۔ادارے نے ہر بار۔۔لگاتار منفرد پروگرام پیش کیے ۔پروگرام 173 کی انفرادیت یہ رہی کہ دو طرحی مصرعے پروگرام سے کچھ وقت پیشتر دیےگئے ۔ کم وقت میں طرحی مصرع پر غزل کہنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ،یہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ۔۔کم از کم میرے بس کا نہیں !!مذکورہ پروگرام کے آرگنائزر تھے توصیف ترنل صاحب ۔۔کم پائل محمد احمر خان صاحب صدارت کے فرائض ڈاکٹر شاہد رحمن صاحب نے انجام دییے ۔مہمان خصوصی تھیں ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ اور سب سے بڑھ کر کار دشوار ،تبصرہ نگاری کے فرائض ضیا شادانی صاحب نے بحسن وخوبی انجام دیتے ہوئے بے لاگ نقد ونظر سے سب کے دل موہ لیے ۔۔قارئین نے بھی کلام کے حسن ومعائب پر سیر حاصل گفتگو کی۔پروگرام کی خصوصیت یہ رہی کہ بغیر ناظم کے نظم و ضبط کے ساتھ یہ محفل اختتام پذیر ہوئی ۔۔شعراء نے اپنا مطروحہ کلام خود پیش کیا ۔طرحی مصرعے تھے ،

ذرا سی بات تمہیں سمجھانی تھی
زہر بازار میں ملا ہی نہیں
پروگرام کی ابتدا حمد باری تعالی سے ہوئی جسے پیش کیا عامر حسنی صاحب نے ،

میرے مولا کے ہیں لاکھوں فضائل
ہر اک شے میں اسی کے ہیں خصائل

نعت پاک کا نذرانہ شوزیب کاشر صاحب نے پیش کیا ،

میری نس نس جو یوں مہکی ہوئی ہے
دیار جاں میں خوشبو نعت کی ہے

حاضرین بزم نے حمد ونعت کو خوب سراہا ۔دیگر شعراء نے جو کلام پیش کیا اس کی جھلکیاں ذیل میں درج ہیں ۔

دل نگری میں مدت سے ویرانی تھی
دل کی بستی پھولوں سے مہکانی تھی

ابن عظیم فاطمی کراچی

در کسی کا یہاں کھلا ہی نہیں
کیا ہوا کوئی بولتا ہی نہیں

اصغر شمیم کولکاتا

کوئی اپنا ہمیں ملا ہی نہیں
سلسلہ پیار کا چلا ہی نہیں

ڈاکٹر شاہد رحمن فیصل آباد

راہ سیدھی کوئی چلا ہی نہیں
باغ ویراں ہے گل کھلا ہی نہیں

ابن عظیم فاطمی کراچی

سرد ہوا تھی اور رات بھی مستانی تھی
مشکل پھر بھی دل کی بات بتانی تھی

ڈاکٹر مینا نقوی مراد آباد

پت جھڑ موسم اور ہوا برفانی تھی
سوچوں میں اک دھوپ بدن دیوانی تھی

علی شیدا کشمیر

مجھ کو یارو جو بھی منزل پانی تھی
طے ہے اک دن ہاتھوں سے وہ جانی تھی

بی ایم خان معالے اچلپوری بھارت

غم الفت اگر ملا ہی نہیں
دل پہ آرہ کبھی چلا ہی نہیں

عامر حسنی ملائیشیا

کبھی بھی حسن گماں ہوا ہی نہیں
پھر بھی اس سے کوئی گلہ ہی نہیں

غزالہ انجم

پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہوا اختتام پذیر ہوا ۔۔جس کے لیے ادارے کے روحِ رواں توصیف ترنل صاحب اور ٹیم دی بیسٹ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔
تمام شد





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved