تازہ ترین  

اخلاقِ حسنہ سنت نبویﷺ کی روشنی میں
    |     1 month ago     |    اسلامی و سبق آموز
خلق انسانی عادت کو کہتےہیں۔انسان جب اپنی زندگی کا آغازکرتاہےتووالدین کی تربیت،اردگرد کے ماحول اور حالات وہ واقعات کے زریعے اس کا مختلف عادات پر مشتمل ایک مزاج بن جاتاہے۔اخلاق اچھے بھی ہوتےہیں اخلاق برے بھی ہوتےہیں۔اخلاق فاضلہ اور اخلاق رزیلہ دونوں کا زکر آتاہے۔سچ بولنا اچھی عادت ہے،جھوٹ بولنا برُی عادت ہے،وعدہ پوری کرنا اچھی عادت ہے،وعدہ توڑنا برُی عادت ہے۔یہ میں نے مثال کے طور پر عرض کیاہےکہ عادات اچھی بھی ہوتی ہے اور برُی بھی ہوتی ہیں۔اچھی عادات کو بھی اخلاق کہتےہیں اور برُی عادات کو بھی۔
معاشرتی و اجتماعی زندگی کے بنانے اور سنورنےمیں اخلاق کو نمایاں حثیت حاصل ہے،بلکہ معاشرے کی پہلی اینٹ اخلاق حسنہ ہی ہیں۔حسن اخلاق کے بغیر انسان نہ صرف یہ کہ انسان نہیں رہتا،بلکہ درندگی وبہیمت پر اتر آتاہے۔انسانیت کا زیور حسن اخلاق ہے۔
لکین چھٹی صدی عیسوی میں دنیا اخلاقی اعتبار سےکنگال اور دیوالیہ ہوچکی تھی۔انسانیت وشرافت کی بنیادیں ہل چکی تھیں۔تہذیب واخلاق کےستون اپنی جگہ کھوچکی تھی۔تہذیب وتمدن کے گہواروں میں خودسری،بےراہ روی اور اخلاقی پستی کادور دورہ تھا۔روم وایران باختگی میں ایک دوسرے سے سبقت لےجارہےتھے۔شراب عربوں کی گھٹی میں پڑی تھی،جو جاہلی معاشرے میں بڑاے اور خوبی کی بات تھی۔سودی لین دین،کمزورں کا استحصال اور سلسلے میں بےرحمی وسخت گیری عام تھی۔بےشرمی وبےحیاٸی ،رہزانی وقزاقی معمولی بات تصور کی جاتی تھی۔بےجا انتقام اور تعصب کا شمار قومی خصوصیتوں میں ہوتاتھا۔ایسے اخلاق سوز اور غیر انسانی ماحول میں اسلام نے جو وعمدہ اخلاقی نظام پیش کیاوہ انسانی طباٸع کےلیےاکسیر ثابت ہوااور ان کی وجہ سے تہذیب و ثقافت سے بے بہرہ قوم عرب میں ایسے اخلاقی نمونےپیدا ہوےجن کی مثال انسانی تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔
اسلام ایک عالمگیر مزہب ہے اور تمام بنی نوع انسان کی راہنماٸی کرتاہے۔اسلام کی زریں اصولوں میں اخلاق کو سرفہرست رکھاگیاہے۔قرآن پورے کا پورا ہی اخلاق پر مبنی ہے۔قرآن میں سب سے زیادہ زور حسنِ اخلاق پر زور دیاگیاہے۔حسن خلق ہی انسانوں کے معاشرہ میں امن،سکون،اطیمنان وسلامتی کا ضامن ہے۔انسانی معاشرہ میں ایک دوسرے کا ادب واحترام،مساوات،روادری،ایک دوسرے کی ہمدردی،حسن معاملات اخلاق ہی سیکھاتاہے۔

اخلاق کی اہمیت و فضلیت ارشادات عالیہ میں بڑے دل نشین اور موثر اسلوب میں اخلاق حسنہ کو اپنانے کی تلقین کی ہےچند احادیث ملاحظہ ہوں۔۔۔۔۔۔
{1}اکمل المٸومنین ایمانااحسنھم خلقا(ابوداود٤٦٨٦،ترمذی ١١٢٦)
کامل مومن وہ ہےجس کے اخلاق اچھے ہوں۔۔۔۔

(2)ان المومن لیدرک بحسن خلقہ درجہ الصاٸم القاٸم (ابوداود ٤٧٩٨)
مومن اپنے حسن اخلاق سے دن میں روزہ رکھنے والےاور رات میں عبادت کرنے والےکا درجہ پالیتاہے۔(ابوداود٤٧٩٨)
اچھے اخلاق رسول ﷺکا محبوب اور مقرب بننےکا بہترین ذریعہ ہیں،
آپﷺ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔
(3)ان من احسبکم الی احسنکم اخلاقا۔۔۔۔(بخاری ٣٧٥٩)
میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہترین ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک حدیث میں آپﷺنے حسن اخلاق کے حامل شخص کی ان الفاظ میں تعریف و تحسین کی ہے۔۔۔۔۔
(4)ان من خیارکم احسنکم اخلاقا(بخاری ٣٥٥٩)
تم میں بہترین وہ ہےجس کےاخلاق اچھےہیں۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہےکہ رسولﷺ کی زندگی تمہارے لےبہترین نمونہ ہے۔حضورﷺ کے نقش قدم پر چل کر ہی انسان بلند اخلاق کا مالک بن سکتاہے۔حضورﷺ کے اخلاق اس قدر بلند تھےکہ دوست تو دوست بدتر دشمن بھی ان سے متاثر ہوٸے بغیر نہیں رہ سکتے۔جانی دشمنوں کو معاف کردینا،غلاموں اور کینزوں سے اچھا سلوک کرنا،بیماروں کی عیادت کرنا،کمزورں اور ضعیفوں کو سہارا دینا اور اپنے پراے سبھی کے ساتھ شفقت اور نرمی کا برتاو کرنے کی بےشمار مثالیں حضورﷺکی زندگی میں ملتی ہیں۔
ایک مرتبہ ایک صحابی رسولﷺنے کبوتری کے گھونسلے سےاس کے ایک ننھےمنھےبچے اٹھاٸے۔کبوتری اس صحابی کے سر پر منڈلا رہی تھی۔حضورﷺنے دیکھا تو آپﷺ کو بہت دکھ ہوا۔آپ نے صحابی کو حکم دیا کہ وہ کبوتری کے بچے کو واپس گھونسلے میں رکھ دے۔صحابی نے حکم کی تعمیل کی ۔نبی کریمﷺ کی رحمت اور عفودرگزر کی مثال ہیں۔حضورﷺ کی سیرت کی کتابوں میں اس طرح بےشمار واقعات ملتےہیں۔
ہمیں چاہیے کہ حضورﷺ کےطریقے پر چلیں اور مخلوق خدا کے ساتھ نرمی،محبت اور حسن سلوک کا رویہ اپناٸیں۔اس میں ہماری دنیا اور آخرت کی بہتری ہے۔لکین آج کل ہم مسلمان کم بلکہ فرقہ پرست زیادہ کہلانا پسند کرتےہیں۔سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ کیاہم سنت نبویﷺپر کس حدتک عمل کرتےہیں یاصرف باتیں ہی کرتےہیں۔ہر ایک مسلمان نے اپنے اپنے گریبان میں جھانکناہے اور خود فیصلہ کرنا ہے۔کہ ہم کس حد تک حضور کی سنتوں پر عمل کرتےہیں۔
ہمیں اگر اخلاق کے نظارے دنیا میں کہیں نظر آتےہیں تو اس کے ساتھ ہزار آلودگیاں بھی ہیں۔
اخلاق ہے، لکین اس کے ساتھ ایذا رسانی ہے
اخلاق ہے،لکین اس کے پچھےکوٸی غر ض اور مصلحت بھی ہے۔
اخلاق ہے، لکین وہ کسی خاص قوم اور طبقہ کے ساتھ محدود ہے،اور اس میں مذہب وہ ملت اور ذات برادری اور رنگ ونسل کی تفریق ہے۔
اخلاق ہے،لکین اس کے ساتھ کچھ حدود وقیودہیں۔اس کے ایک خاص سطح ہےجس کے اگےاس کو بڑھنے کی اجازت نہیں۔
لکین اخلاق کو جمال وکمال،حسن لطافت اور کرم سماعت کو دیکھنا ہےتو یہ پیکر ہمیں صاحب ”خلق عظیم“ کے سوا اور کہیں نہیں آٸےگا۔
اس دنیا میں اخلاق اور کردار کے اعتبار سے حضرت انبیإ کرام سب سے بہتر لوگ تھے۔یہ صرف ہماری عقیدت اور محبت کی بات نہیں ہےبلکہ تاریخی واقعہ اور حقیقت ہے۔اسی طرح انبیإ کرام میں سب سے برتر اور سب سے اعلی شخصیت جناب نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔یہ بات اپنے اور پراٸے سب تسلیم کرتےہیں کہ آنحضرتﷺ کی ذات گرامی انسانی تاریخ کی سب سے بہتر طبقہ حضرات صحابہ کرامؓ کا طبقہ ہے۔یہ تاریخی شہادت ہےکہ ایک معاشرے اور سوساٸٹی کے طور پر صحابہؓ کرام کا طبقہ سب سے مثالی اور آٸیڈیل طبقہ تھا،ایک دوسرے کے حقوق کا ضامن رکھنے والاایک دوسرے کےلیےایثار،کرنے والا،ایک دوسرے کےساتھ اچھا برتاو کرنے والا،ایسا طبقہ جس کی بنیاد اچھے اخلاق وعادات پر تھی اس لیے کہ یہ طبقہ جناب نبی کریمﷺ کا تربیت یافتہ تھا اور حضورﷺنے ایک ایک پرزے کی تربیت اس انداز سے کردی تھی کہ وہ انسانی معاشرے کی مشین میں پرزے کے طور پر اپنی اپنی جگہ فٹ ہونے چلے گےاور یوں دنیا کا ایک بہترین معاشرہ تشکیل پایا.
سچاٸی اخلاق حسنہ میں سب سے پہلی عادت ہے۔سچ بولنا اس دنیا کی سب سے بڑی خوبی ہے اور انسانی اخلاق وعادات میں سب سے اچھی عادت سچ بولنا ہے۔اسی طرح جھوٹ بولنا سب سے برُی عادت ہے۔جناب رسول اللہﷺ نے براٸیوں کی ترتیب میں سب سے پہلے ”جھوٹ “کا زکر فرمایا۔آپ نے اپنی تعلیم سے بتایا کہ اچھاٸیوں میں سب سے اچھی عادت سچاٸی ہے جبکہ برأٸیوں میں سب سے برُی عادت جھوٹ ہے،رسول اللہﷺکو پوری نسل انسانی میں”اصدق الناس“کہاجاتاہے۔
حضورﷺکے سب سے بڑے دشمن دو تھےپہلے ابوجہل اور اس کے بعد ابوسفیان ۔رسولﷺکے خلاف مکہ کے معاشرے کو لڑانے والے یہی دو بڑےتھےلکین آنحضرت ایک سچا انسان ہونے کے بارے میں دونوں کی گواہی تاریخ کے ریکارڈ پرہے۔
حضور کی ذاتی زندگی تو سچاٸی ہی سے عبارت تھی صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہوکر پورے معاشرے سے شہادت مانگی کہ میں نے تمہارے اندر چالیس سال گزارےہیں میرے شب وروز تم نے دیکھےہیں میرا بچپن ،جوانی،اٹھنا،بیٹھنا اور اور میرے معاملات سب کچھ تم لوگوں نے دیکھاہے،تم لوگوں کو میرے بارے میں کیا راٸے ہے؟
مجھے تم لوگوں نے سچاپایا یاجھوٹا؟
جواب:سب نے بیک وقت آواز کہاکہ ”اے محمدﷺتمہاری زندگی میں ہم نے کھبی سچاٸی کے سواکچھ دیکھاہی نہیں“

فتح مکہ کے بعد جو قیدی کافروں کےساتھ برتاو کیاہے۔دنیا نے بڑے بڑے فاتح دیکھےہیں لکین فتح کے بعد قبضے کےبعد اور اقتدار وہ حکومت ملنے کے بعد اس طرح کوٸی اپنے دشمنوں کو معاف کردےاس کی مثال جناب نبی کریمﷺکے علاوہ کوٸی اور فاتح پیش نہیں کرسکتاہے۔
مکارم اخلاق اور اچھی عادات میں وعدہ نبھانا ایک اچھی خصلت ہے۔وعدہ پورا کرنا ایک اچھی عادت ہےجبکہ وعدہ کی خلاف ورزی کرناایک بری عادت ہے۔جناب نبی کریمﷺ نےوعدہ پورا کرنے کی تلقین بھی فرماٸیں اور خود وعدہ پورا کرنے کے مثالیں بھی لوگوں کے سامنےپیش کیں۔
قارٸین!جناب نبی کریمﷺنے فرمایا کہ مکارم اخلاق کی تکمیل کےلیےآیاہوں اور دنیا کو اخلاق کا بہترین نمونہ دکھانے آیاہوں۔
چنانچہ حضورﷺ نے اپنی جماعت اخلاق فاضلہ کی تربیت دےکر دنیاکے سامنے بہترین اخلاق ،وعادات کا حامل ایک معاشرہ پیش کیا، یہ جناب نبی کریم ﷺ کا ایک بڑا معجزہ اور اعجاز ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپﷺ کی سنت پر اور آپﷺ کےاسوہ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ
آمین یارب العالمین





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved