تازہ ترین  

غزل ۔۔۔۔ جہاں میں تھا
    |     4 days ago     |    شاعری

نصیب ہو نہ سکا منتقل ، جہاں میں تھا
کہ زخم ہوتے نہ تھے مندمل جہاں میں تھا

عجیب ہجر زدہ سی ہوائیں چلتی رہیں
خوشی رہی نہ کبھی مستقل جہاں میں تھا

نہ کوئی جسم نہ سایہ نہ تھی کوئی آہٹ
جلا پڑا تھا وہاں ایک دل جہاں میں تھا

نہ جانے مارِ کدورت کہاں سے آ نکلا
نہ آستیں تھی نہ ہی کوئی بِل جہاں میں تھا

بُنا گیا تھا وہ منظر ہی درد سےشاید
فضا بھی آہوں پہ تھی مشتمل جہاں میں تھا

بس ایک تو تھا یا پرخار یاد تھی تیری
نہ کچھ تھا اور مرے سنگدل جہاں میں تھا

تھکا دیا تھا عمر کارِ عشق نے ایسا
نہیں تھا مجھ سا کوئی مضمحل جہاں میں تھا

 عابد عمر






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved