تازہ ترین  

کالم لوہار۔۔۔ طنز و مزاح
    |     2 months ago     |    طنزومزاح
کالم نگار ایسا ذہب گر ہوتا ہے جس کی کٹالی سے معاشرتی مسائل کے سنہری حل کے سوا کچھ اور نہیں نکل سکتا۔بہترین کالم نگار اپنے قلم کی جنبش سے ہر ا س کردار کا سر قلم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے مکروہ افعال معاشرہ کے چہرے کے گلال کو پیلا کرنے کے در پے ہوں۔مزید بر آں کالم نگار قلم کی حرکت کو کوٹھے کی رنڈی نہیں بناتا(یعنی حرمت پامال نہیں کرتا) بلکہ اپنے قلم کی طاقت سے بڑے بڑے بادشاہوں کو عوام کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔معاشرتی مسائل کو ایسے کالبد میں ڈھالتا ہے کہ اس کے سانچے سے نکلنے والا ہر ماڈل عوام کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوتا ہے۔میرے یہ الفاظ اس وقت تک کالنقش فی الحجر تھے جب تک میں نے اپنے شہر کی ایک گھی ایجنسی کی دیوار پر یہ لکھا نہ پڑھ لیا تھا کہ فلاں بن فلاں گھی فروش،کالم نگار و نمائندہ روزنامہ ایٹم بم(فرضی نام خیال کیا جائے)۔چلئے مان لیا کہ گھی فروش کوئی مکروہ دھندہ نہیں ،کسی اخبار کی نمائندگی لینا بھی عہد حاضر میں کوئی جوئے شیر لانے کے مترادف نہیں،آپ کی جیب میں روکڑے ہیں تو شیِر اور کھیر سب کی’’ باجیاں‘‘ بننے کو تیار ملیں گی۔اخباری نمائندگیاں تو آجکل ایسے مل رہی ہیں جیسے بابا نِکے کے دربار سے فری لنگر(دربار سے مراد درگاہ لیا جائے یاد رہے کہ سر کاری دربار سے لنگر نہیں پوری دیگ ہی ملتی ہے،بس انسان کی قیمت انہیں معلوم ہو جائے اگر؟)تشویش اس بات پر ہوئی کہ موصوف کالم نگار بھی ہیں ،حالانکہ دوسال قبل مجھے یاد ہے کہ ناخالص گھی بیچنے پر اسی گھی فروش کے کارخانہ پہ پولیس چھاپہ بھی پڑ چکا تھا۔یہ سب نمائندگی و کالم نگاری اسی چھاپہ کا نتیجہ ہے کہ اب اسے صحافتی بلکہ سرکارکی طرف سے لائسنس مل گیا ہے کہ اب کوئی اس کی طرف منہ کر کے دکھائے۔صاحب کی نما ئندگی و کالم نگاری سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ کتی چوروں کے ساتھ مل گئی ہے،اب اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے کہ چور کون ہے؟مگر میں نے سادگی سے کام لیتے ہوئے شور مچانے والے کو ہی چور خیال کر لیا اور کتی کا فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں
عہدِ حاضر میں کالم نگاروں کی بہتات اور انداز کو دیکھتے ہوئے مجھے کالم نگار کم اور ’’کالم لوہار‘ ‘ زیادہ دکھائی دیتے ہیں،کچھ کالم نگاروں کے سوٹ بوٹ کی سلیکشن سے تو باقاعدہ دل کرتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں ایک عدد ’’چمٹا‘‘ بھی تھما دیا جائے تو ایسے لگے گا کہ کسی بھوکی ریاست کا بادشاہ پڑوس سے اپنے حقے کی چلم کے لئے آگ لینے آیا ہو۔مگر پردہ داری آڑے آ جاتی ہے۔ کالم لوہار میں فی زمانہ بدرجہ اتم ایسی ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں بلکہ کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوتی ہیں کہ اسی وجہ سے ان کے کوٹ کی جیبیں بھی بھری رہتی ہیں۔مزید کیا اوصاف بیان کروں کالم لوہار تو اوصاف حمیدہ کی بجائے اوصاف خمیدہ رکھتے ہیں اس لئے کہ ان کی گردن کبھی بھی بادشاہ وقت کے سامنے جھکنے سے خم نہیں کھاتی،بالکل نوے کے زاویہ سے سیدھا پاؤں بلکہ تلوے چاٹنے تک کو تیار ملتی ہے۔کالم لوہار ذہن،عقل اور ہوش و حواس میں نہیں لکھتے بلکہ لکھنے کے بعد انہیں ہوش آتا ہے کہ کیا لکھا گیا۔یہ ہمیشہ ہوش کی بجائے جوش سے کام لیتے ہیں۔مگر اپنا ’’پُھدو‘‘ نکالنے میں ذرا بھی نہیں چوکتے۔ہر انسان کو قدرت نے حواس خمسہ سے نوازا ہے مگر کالم لوہاروں کی ایک رگ وکھری ہونے کی وجہ سے انہیں حواس ستہ کا مالک قرار دیا گیا ہے۔کالم لوہار علم اور عقل پہ نہیں ’’ضرب‘‘ پہ یقین رکھتے ہیں وہ تو پیار بھی ایسی لڑکی سے کرتے ہیں جس سے شادی کروا کے ان کے اکاؤنٹ میں ’’عملِ ضرب‘‘ دگنا تگنا ہو جائے۔تقسیم کو اپنی سوتن خیال کرتے ہیں کہ اس عمل سے آتا کچھ نہیں بس جاتا ہی جاتا ہے۔آنے جانے سے یاد آیا کہ ان کا ہر اس جگہ آنا جانا لگا رہتا ہے جہاں خبر کے ساتھ ساتھ’’مال پانی‘‘ بھی ملے۔ارے صاحب مال پانی میں خوبی ہوتی ہے کہ جہاں بھی پائے جاتے ہیں ایک ساتھ ہی پائے جاتے ہیں ۔جیسے قاضی کے بارے میں مشہور ہے کہ مفت کی شراب نہیں چھوڑتا ایسے ہی کالم لوہار مفت کا ’’مال اور پانی‘‘ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔کالم لوہاروں کاقلم اور کتاب کی بجائے ڈالر و دینار اختر بختر ہوتا ہے۔کمال یہ ہے کہ بلیک منی کو اپنا بخت سمجھتے ہیں کہ اللہ کا خاص فضل ہے حالانکہ وہ اللہ کا نہیں کسی فضل دین کا فضل ہوتا ہے۔ایسے کالم نگار’’ شریفوں ‘‘کے دور میں بد معاش اور آمریت میں’’ شریف ‘‘ہوتے ہیں۔ان کے پیٹ،ویٹ اور جیب کا حجم اور وزن کنٹرول سے باہر ہونے کی وجہ سے کسی فیکٹری کے بوائلر کی طرح پھٹنے کو ہر وقت تیار ہوتا ہے۔پیٹ اور جیب بھر بھی جائے تو ان کی نیت نہیں بھرتی ،کہتے ہیں’’بھرتی‘‘ مال بنا ممکن نہیں۔میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ کالم نگار کو اپنے کالم کے ذریعے دنیا میں ایسے نکھار اور نگار آفرینی پیدا کرنی چاہئے کہ جسے پڑھ کر ذہنی انتشار کی بجائے ہر سوُ سکون اور صرف سکون کی فضا ہواور ذہنی شعور بیدار ہو،حقیقی معنوں میں یہی کالم نگار ہیں بصورت دیگر کالم لوہار۔اللہ میرے ملک کو کالم لوہاروں سے بچائے(آمین)





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved