تازہ ترین  

آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش جاری۔۔۔پاکستان کے حالات کس طرف جارہے ہیں؟
    |     4 days ago     |    پاکستان
واشنگٹن: سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ بحرانوں کی وجہ سے معیشت کو درپیش خطرات کا تدارک کرنے کے لیے پاکستان، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے سب سے بڑا 8 ارب ڈالر تک کا قرض حاصل کرنا چاہے گا۔ سفارتی ذرائع نے ڈان نیوز کو بتایا کہ آئی ایم ایف سخت شرائط رکھ سکتا ہے اور قرض کی سہولت 12 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، تاہم اضافی قرض کے حصول کے لیے پاکستان پر ان شرائط کو مکمل کرنے کا دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔  خیال رہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے پیر کی رات کو اس بات کی تصدیق کی تھی پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں شدید بحران میں آئی تھی اور ایک روز میں 1300 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 270 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ پاکستان کے اعلان کے بعد آئی ایف ایف نے کہا تھا کہ مالی تعاون کے لیے پاکستان کی درخواست کو ’بہت توجہ‘ سے سنیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان آئی ایم ایف سے درجن سے زائد مالی تعاون کے پیکجز لے چکا ہے اور اس کا 6 ارب 40 کروڑ روپے کا آخری پیکج اگست 2016 میں مکمل ہوا تھا، جو آئی ایم ایف پر پاکستان کے کوٹے کا 216 فیصد تھا۔ آئی ایم ایف سے لیے گئے پچھلے پروگرواموں کا مقصد ’افراط زر کو نیچے لانا اور مالیاتی خسارے کو کم کرکے مستحکم سطح تک لانا تھا‘، اس کے علاوہ ’ زیادہ اور بہتر ترقی کے حصول میں مدد کے لیے اقدامات کرنا تھا‘۔ دوسری جانب آئی ایم ایف ماہر معاشیات موریس اوبسفیڈ نے پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی بحران کا ذکر کیا اور مالی مدد کرنے کی صلاحیت ظاہر کی۔ ایک سوال کے جواب میں کہ ایمرجنسی بیل آؤٹ پیکیج کے لیے پاکستان کی درخواست پر آئی ایم ایف کیا ردعمل دیگا تو اس پر انہوں نے کہا کہ ’ اچھی تعلقات والا ہر رکن فنڈ کے ذریعے مالی معاونت کی درخواست کا حقدار ہے، لہٰذا جب وہ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم ان کو بہت تجوہ سے سنیں گے‘۔  انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں کئی مرتبہ پاکستان نے مسلسل پروگرامز حاصل کیے اور یہ ایک اچھی نشانی ہے جو آگے بڑھ رہی ہے‘۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved