تازہ ترین  

عالمی یوم بصارت کے حوالے سے خصوصی تحریر
    |     4 days ago     |    کالم / بلاگ
ویسے تو ہمارا سراپا اللہ تعالٰی کا حسین تحفہ ہے لیکن انکھیں اس لیے قیمتی ہیں کہ اس کے بغیر دنیا اندھیر ہے۔ ایک سیکنڈ کے لیے آنکھیں بند کرنے سے اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ہر سال اکتوبر کے دوسرے جمعرات عالمی یوم بصارت منایا جاتا ہے۔

2004-5 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں اندھے پن کی درج ذیل بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں۔سفید موتیا 53 فیصد جب کہ پتلی کی بیماریاں 14 فیصد، سفید موتیے کے آپریشن کے بعد آنے والی جھلی مجموعی طور پر 11 فیصد بصارتی پردے کی بیماریاں (شوگر بلڈ پریشر وغیرہ کی وجہ سے) 9.5 فیصد، کئی ایسے مریض ہیں جن کے اندھے پن کی وجہ عینک نہ لگانا ہے اور یہ 3.4 فیصد لوگ ہیں جب کہ کالا موتیا کی وجہ سے اندھا پن 8 فیصد ہے۔

اسی سروے کے مطابق پاکستان میں اندھے پن کی شرح 1.05 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بچوں میں اندھا پن کی شرح 0.09 فیصد ہے۔جی ہاں ہمارے پھول سے بچے، ہمارا مستقبل جو کہ پاکستان کی کل آبادی کا 45 فیصد ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں ہر دس میں سے ایک بچہ اندھے پن کا شکار ہے۔اور اس میں سے ستر فیصد ایسے بچے ہیں جن کو صرف پرائمری آئی کئیر کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔

ایک آپٹومیٹرسٹ یا پرائمری آئی کئیر پریکٹیشنر کے لیے پانچ سالہ ڈگری ڈاکٹر آف آپٹومیٹری یا چار سالہ ڈگری بی ایس سی آنرز آپٹومیٹری اینڈ آرتھوپٹکس ضروری ہوتی ہے اور یہی ڈگری پوری دنیا میں کروائی جاتی ہے۔ پاکستان میں جہاں ہر شعبے کو معیاری بنانے کی سعی کی جا رہی ہے وہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ آپٹومیٹری کو بھی عالمی معیار کے مطابق ترقی دی جاۓ تاکہ عالمی ادارہ صحت کے وژن 2020 کے طے کردہ اصولوں پر عمل درآمد ہو سکے۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved