تازہ ترین  

غلط فیصلوں سے زوال کا شکار ایم کیو ایم پاکستان
    |     2 months ago     |    کالم / بلاگ
کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے 70 فیصد ریونیو فراہم کرنے والا یہ شہر سیاستدانوں کی عدم توجہ کی وجہ سے محرومیوں کا شکار رہا ہے سمندری وسائل کی وجہ سے یہ شہر دشمن کا اہم ہدف بھی ہے یہ شہر سیاسی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اس شہر کا مینڈیٹ رکھنے کی خواہش اور جد وجہد کر تی رہی ہیں اس شہر کی صو بائی حکومت پر پیپلز پارٹی منتخب ہوتی رہی ہے اس شہر کے بلدیاتی نظام میں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے حکمرانی کی ہے جماعت اسلامی نے اس شہر کے بلدیاتی نظام میں عبدلستار افغانی کو دوبار مےئر کراچی منتخب کرایہ جبکہ نعمت اللہ ایڈوکیٹ 2001 سے 2005 تک مےئر کراچی رہے ایسی طرح اس شہر کا 35 سال سے مینڈیٹ رکھنے والی ایم کیو ایم نے بھی فاروق ستار مصطفی کمال اور اس وقت کے مےئر کراچی وسیم اختر کو منتخب کرایہ ہے مگر بد قسمتی اس میٹرو پولیٹن شہر کی جس کی محرومیاں جس کے مسائل آج تک حل نہیں ہوسکے ہیں پیپلز پارٹی جو اس شہر پر مسلسل تیسری بار اقتدار کر رہی ہے مگر اس شہر کے مسائل کو حل کی جانب گازمزن کرنے میں ہر طرح سے ناکام رہی ہے لاہور ملتان اسلام آباد جیسے شہروں میں میٹرو بس جیسے منصوبے کامیابی کے ساتھ اپنے نجام کو پوچھے ہیں جن سے آج عوام سہولت اُٹھا رہے ہیں مگر شہر کراچی جس کو پچھلے دس سال میں میٹروبس سروس جیسے منصوبے سے محروم رکھا گیا ہے جس کی تمام تر زمے دار پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ہے گرین لائن بس منصوبہ جو آج تک مکمل نہیں ہوسکا ہے یہ عوام پیپلز پارٹی کی قیادت سے سوال کرتے رہے ہیں کہ ان کی جانب سے اس شہر کے مسائل پر توجہ کیوں نہیں دی جارہی ہے بلاول بھٹو جو اس وقت سیاست میں مکمل طور پر داخل ہوچکے ہیں جو موجود قومی اسمبلی کے ممبر ہیں سندھ خاص کر کراچی کے عوام اپنے بنیادی مسائل پر ان کی توجہ کے منتظر ہیں ماضی میں اس شہر کا اقتداراس شہر کا مینڈیٹ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے گرد گھومتا رہا ہے لہذا اس شہر کے بڑھتے ہوئے مسائل کے ذمے دار بھی ان جماعتوں کے لیڈر حضرات ہیں جن سے عوام مایوس ہوچکے ہیں
کراچی کی سیاست میں 40 سال تک اہمیت رکھنے والی ایم کیو ایم اپنے بانی کی غلط پالسیوں کی وجہ سے ۲۲ اگست 2016 کو عروج سے زوال کی جانب آج بھی گامزن ہے۲۲ اگست کے بعد فاروق ستار کی قیادت میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب مخالفین بانی ایم کیو ایم کی قیادت کے بغیر بھی ایم کیو ایم کا ایک بار پھر عروج دیکھ رہی تھی مگر بہت جلد یہ اُمید خاک میں مل گئی جب 2017 کے سینیٹ الیکشن سے پہلے
ایم کیو ایم بُری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی 40سال سے منظم اس جماعت کا ہر سینئر رہنماء ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتا نظر آیا سینیٹ کے ٹکٹوں سے شروع ہونے والی جنگ پارٹی سربرائی تک جاپہنچی جس پر ایم کیو ایم پاکستان دو گروپوں میں تقسیم ہوگی فارو ق ستار اور عامر خان گرو پ کے آپسی اختلافات نے اس جماعت کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا جس کا خمیازہ ان کو 2018کے عام انتخابات میں بد ترین شکست کی صورت میں اُٹھانا پڑا قومی اسمبلی کی 17نشستوں میں سے 6جبکہ سندھ کی51 صوبائی سیٹوں میں سے صرف 14سیٹس بچا سکی بانی ایم کیو ایم کے بعد یہ ایک بہت بڑا نقصان تھا مگر اس وقت مو جود ایم کیو ایم کی قیادت محترم خالد مقبول صدیقی اور عامر خان صاحب کو شاید اس نقصان کا اندازہ نہیں ہے ایک جانب مینڈیٹ چوری ہونے کا دعوی تو دوسری جانب حکومت کا حصہ دو وزارتوں کی خاطر ان دو حضرات نے اپنی جماعت کے ووٹر کو قربان کر دیا ہے ان کا نظریاتی ووٹر آج ان سے منحرف ہوچکا ہے ایم کیو ایم کی موجود قیادت اپنے ووٹر کا اعتماد کھوچکی ہے جس کے ذمے دار فاروق ستار عامر خان اور خالد مقبول صدیقی ہیں یہ بات ریکارڈ پر یاد رکھی جائے کے دو وفاقی وزارتوں کی بنیاد پر ایم کیو ایم پاکستان کراچی کے بنیادی مسائل کو حل کرانے میں ہر صورت ناکام رہے گی کیوں کہ تحریک انصاف جیسے پہلی بار کراچی شہر سے قومی اسمبلی کا واضح مینڈیٹ حاصل ہوا ہے تحریک انصاف کبھی نہیں چاہے گی کہ یہ مینڈیٹ پھر سے ایم کیو ایم کی جھولی میں جائے جس کے لئے وہ سیاسی بنیادوں پر ایم کیو ایم کو کراچی کے عوام کے سامنے ناکام کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے گی اور اپنے گورنر سندھ کے زریعے کراچی کے ترقیاتی کاموں کو ا نجام دینے میں کسی کو حصے دار نہیں بنے دی گی کل تک کراچی کے ترقیاتی کاموں پر پیپلز پارٹی یا ایم کیو ایم کا جھنڈا لگتا تھا مگر اپ وفاق سے ملنے والے فنڈز سے جو کام کراچی میں کیے جائیں گے ان پر تحریک انصاف کا جھنڈا لگے گا جو ان کا حق ہے ایم کیو ایم نے اپنے کارڈ غلط کھیلے ہیں IT اور وزیر قانونی کی وزارتوں سے بہتر تھا کہ ایم کیو ایم گورنر سندھ کی ڈیمنڈ کرتی تک سندھ کراچی کی سطح پر ایم کیو ایم مضبوط پوزیشن میں رہتے ہوئے شہر کراچی کے مسائل کو حل کرنے کا کریڈٹ حاصل کر سکتی تھی مگر اپ ایسا ممکن نہیں رہا دو وفاقی وزراتیں ایم کیو ایم کے کچھ مفاد پرست لوگوں نے اپنے سیاسی مستقبل کو محفوط بنانے کے لئے حاصل کی ہیں جس کا کراچی کے مسائل کے حل سے کوئی تعلق نہیں ہے جو اپ ایم کیو ایم کو شاید سمجھ آرہا ہے چند روز پہلے ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینرکنور نوید جمیل نے کہا کے وفاق کے پاس شہر کی ترقی کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے اس لئے کراچی کے مسائل جوں کے توں رہنے کا امکان ہے اگر ہم ساتھ نہ دیتے تو تحریک انصاف کی حکومت نہیں بنتی ایسا ہی کچھ ایم کیو ایم کے سینئر رہنماء عامر خان نے بھی کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سو روز میں کیا تبدیلی آتی ہے پھر فیصلہ کریں گے یعنی شاید ایم کیو ایم کو دو ماہ میں ہی اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا ہے دوسری جانب تحریک انصاف بھی ایم کیو ایم سے اتحاد کو مجبوری قرار دے چکی ہے جس کے بعد بھی ایم کیو ایم اقتدار کا حصہ بنی ہوئی ہے
اس وقت ایم کیو ایم ڈوبتی کشتی ہے جس کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اس جماعت کو منظم جرائم سے پاک اپنے لوگوں اور خاص کر کراچی کے بنیادی مسائل جن میں پانی بجلی گندگی کے مسائل اور نامکمل ترقیاتی منصوبوں کو فوری طور پر حل کرانے میں کراچی کے امن و امان کو مستحکم رکھنے میں اپنا اہم کردار ادا کر سکے ایسا کرنے سے شاید ایم کیو ایم کی ڈوبتی کشتی کسی منزل پر پوچھنے میں کامیاب ہوسکے درست فیصلوں میں ہی ایم کیو ایم پاکستان کی بقاہے  





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved